ان کے بڑے بیٹے کی عمر ۷۴؍ سال ہے، ۱۳؍ میں سے ۷؍ بچے ماشاء اللہ حیات ہیں لیکن شوہر کے انتقال کے بعد گزشتہ ۲۰؍ برسوں سے گھر میں تنہا رہنا اور اپنا کھانا خود ہی پکانا پسند کرتی ہیں، کاغذ کی تھیلی بنا کر انہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کیا ہے۔
فاطمہ بی عبدالرشید انصاری۔ تصویر: آئی این این
مدنپورہ، محمد عمررجب روڈ پر واقع آدم صدیق لین کی جنید منزل میں رہائش پزیر فاطمہ بی عبدالرشید انصاری عرف فطو خالہ کی پیدائش ۹۰؍ سال قبل پانچویں گلی، کماٹی پورہ میں ہوئی تھی۔ کماٹی پورہ میونسپل اُردو اسکول سے دوسری جماعت تک پڑھائی کی۔ اس دوران والدکے فوت ہونے سے چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کی وجہ سے آگے کی پڑھائی نہیں ہوسکی۔ ۱۸؍سال کی عمر میں شادی ہوگئی۔ ان کے کل ۱۳؍بچے تھے۔ سب سے بڑے بیٹے کی عمر۷۴؍سال ہے۔ ۶؍بچے فوت ہوچکے ہیں جبکہ ۷؍بچے جن میں ۳؍لڑکے اور۴؍لڑکیاں باحیات ہیں۔ فاطمہ بی اپنے خاوند کے انتقال کے بعد، گزشتہ ۲۰؍ سال سے اپنے گھر میں تنہا ہی رہنا پسند کرتی ہیں ۔ انہیں اپنے ہاتھ کا ہی پکاہوا کھانا پسند آتاہے۔ اس وجہ سے آج بھی پابندی سے باورچی خانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں ۔ روزانہ سودا سلف لینے بازار خود ہی جاتی ہیں۔ جس روز بازار نہیں جاتیں ، دکاندار خود ان کےگھر پہنچ جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ معمول کے مطابق ہمسایوں کے گھروں میں جاکر ان کی خیر خیریت معلوم کرتی ہیں ۔
فاطمہ بی کے والد مل مزدور تھے۔ وہاں سے ملنے والی مزدوری ناکافی ہونے کی وجہ سے بچوں کی کفالت میں آنے والی دشواریوں کو دور کرنے کیلئے ان کی والدہ گھر میں بیڑ ی بنانے کا کام کرتی تھیں۔ انہیں بیڑی بنانےمیں مہارت حاصل تھی۔ وہ گھریلو کام کاج سے فارغ ہو کر بیڑی بناتی تھیں ۔ جس سے انہیں یومیہ ایک سے ڈیڑھ روپے مل جاتے تھے۔ ماں کی ا س تربیت کا اثر یہ ہوا کہ فاطمہ بی نے بھی شادی کے بعد گھر میں کاغذکی تھیلی بنانے کا کام شروع کیا۔ پائو، آدھااور ایک کلو کی تھیلی بناکر انہوں نے اپنے بچوں کی پڑھائی کرائی۔ وہ بچوں کے ساتھ گھر میں کاغذ کی تھیلی بناتی تھیں۔ روزانہ تقریباً ۲۵۔ ۲۰؍ کلو کاغذکی تھیلی بناکر مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں کی دکانوں میں فروخت کر کے بچوں کو پڑھایا۔
فاطمہ بی نے پانچویں گلی میونسپل اُردو اسکول میں ۲؍سال پڑھائی کی۔ اُس دور میں شہری انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو کٹوری میں دودھ دی جاتی تھی جو کافی گاڑھا اور ملائی دار ہوتا تھا۔ اس دودھ کی لذت اب بھی یاد ہے۔ اسکول کے سارے بچے قطار میں کھڑے ہو جاتے تھے، اسکول کا چپراسی ایک کٹوری میں دودھ بھر کر دیتا، دودھ پی کر کٹوری اسی جگہ پر رکھ کر بچے اپنی کلاس میں چلے جاتے تھے۔ جاڑے جناب( اسماعیل سر) سے بچے بہت ڈرتے تھے۔ بھاری جسم ہونے کی وجہ سے ان کا نام ’جاڑے جناب‘ پڑگیاتھا۔ سبق یاد نہ ہونے پر وہ بچوں کی ہتھیلی پر فٹ پٹی سے مارتے تھے، جس کی وجہ سے بچوں پر ان کا ڈرو خوف طاری تھا۔
فاطمہ بی نے آزادی کے بعد پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فساد کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ شہر میں ہر طرف لوٹ، مار، تشدد اور خون ریزی کا ماحول تھا۔ کماٹی پورہ بھی فساد سے متاثر تھا۔ یہاں آباد ہندو اورمسلمانوں میں بھی کشیدگی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے میں ان کے والد بال بچوں کے ہمراہ ممبئی سے اورنگ آباد منتقل ہوگئے تھے۔ اورنگ آباد پہنچنے پر پہلے ایک اسکول میں لگے ریلیف کیمپ میں ۱۵؍دنوں تک قیام کیا تھا۔ بعدازیں کرائے پر ایک مکان لے کر وہیں محنت مزدوری کر کے ڈیڑھ ۲؍سال گزارا۔ حالات کے معمول پر آنے کے بعد ممبئی لوٹ آئے۔
فاطمہ بی کا بچپن اپنی سہیلیوں سروری، اختری، مہرون اور زیبون وغیرہ کے ساتھ ہنستے کھیلتے گزرا ہے۔ ان میں سے زیبون واحد سہیلی ہے، جو باحیات ہیں اور کماٹی پورہ میں ہی رہتی ہیں ۔ آنکھ مچولی، رسی، سیتاپھل کے بیج سے کھیلنے کے علاوہ گُڑا گڈےکی شادی کا کرانا ان سب کا محبوب کھیل تھا۔ گُڑیاگڈے کی شادی کی تیاری بڑی دھوم دھام سے کی جاتی تھی۔ ایک سہیلی کی گُڑیا اور دوسری سہیلی کے گُڈے کی شادی کیلئے نکاح کا جوڑا بڑے شوق سے تیار کیا جاتا تھا۔ کپڑے کی سلائی، بنائی اور جوتے چپل سہیلیاں اپنے ہاتھوں سے بناتی تھیں ۔ نکاح والے دن بارات کے آنے سے دلہن کی بدائی تک کی رسم کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا۔ ساری سہیلیاں دال، چاول، گوشت اور دیگر لوازمات اکٹھا کر دال گوشت اور چاول بنواتی تھیں ۔ نکاح کیلئے کسی مقامی لڑکے کی مدد لی جاتی تھی۔ بدائی کےوقت ساری سہیلیاں روتی تھیں ۔ یہ ساری باتیں یاد کر کے وہ آج بھی محظوظ ہوتی ہیں ۔
فاطمہ بی تقریباً ۵۰؍سال قبل دورانِ سفر ٹرین میں کسی بات سے ڈر گئی تھیں ۔ اس کے بعد سے وہ ٹرین، بس، ٹیکسی یااس طرح کی کسی بھی سواری میں سفر نہیں کرتی ہیں ، حتیٰ کہ لفٹ میں بھی سوار ہونے سے گریز کرتی ہیں۔ اس حادثے کانفسیاتی اثر اس قدر گہرا پڑا کہ وہ گزشتہ ۵۰؍ سال سے ممبئی کے باہر کہیں نہیں گئیں۔ تقریباً ۲۰؍سال ان کا علاج جاری رہا۔ ۲۰۱۹ء میں کووڈ کے دوران ان کی ایک بیٹی کو دل کادورہ پڑنے پر اس کی محبت میں نہ جانے کیسے وہ اس کےگھر، جو ۱۸؍ویں منزل پرہے، لفٹ سے چلی گئی تھیں ورنہ انہوں نے لفٹ سے آنا جانا بھی بند کر دیا ہے۔
فاطمہ بی کے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی شادی ۱۹۸۴ء میں ہوئی تھی۔ ان کی شادی کااستقبالیہ مفید الیتمیٰ میں منعقد ہونا تھا۔ شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی۔ کارڈ وغیرہ تقسیم ہوچکا تھا۔ شادی کی پوری تیار ی ہوگئی تھی۔ ایسےمیں اچانک فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا۔ شہر میں کرفیو نافذ ہوگیا۔ بیٹی کی بارات ناسک سے آنے والی تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ کیا کیا جائے ؟ گھروالوں کے مشورے سے کچھ لوگوں کی حاضری میں نکاح کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کرفیو میں دی جانے والی چھوٹ کے اوقات میں ناسک سے صرف ۶؍افراد نے آکر نکاح کی رسم پوری کی تھی۔ اسی طرح بیٹے کانکاح بھی چند لوگوں کی موجودگی میں ہوا تھا۔ چنندہ لوگوں کی شرکت میں دونوں بچوں کا نکاح ہوا بعدازیں احتیاط کےساتھ شرکاء اپنے گھروں کو لوٹے۔
معروف قوال بڑے یوسف آزاد فاطمہ بی کے چاچا تھے۔ ان کی قوالی سننے کیلئےفاطمہ بی اپنے گھر والوں کے ساتھ برلا ماتوشری اور پاٹکر ہال جایا کرتی تھیں۔ کبھی یوسف آزاد کی جانب سے قوالی کے پروگرام کی ٹکٹ مل جاتی تھی کبھی خود ٹکٹ خرید کر جاتی تھیں ۔ یوسف آزاد اور اس دور کی معروف قوالہ رشیدہ خاتون کے درمیان خوب نوک جھونک والی قوالی ہوتی تھی۔ ان دونوں قوالوں کے پروگرام میں ان کے شیدائیوں کی بھیڑ اُمڈ آتی تھی۔ اس زمانے میں قوالی سننے کا چلن عام تھا۔ یوسف آزاد کے علاوہ اسماعیل آزاد کی قوالی سننےبھی وہ جایا کرتی تھیں ۔
فاطمہ بی کے گھر میں ان کی شادی کے بعد کا مسالہ پسنے والاسل بٹا آج بھی محفوظ ہے۔ انہوں نے مکسرمشین کا کبھی استعمال نہیں کیا۔ آج بھی ضرورت پڑنے پر سل بٹے پر مسالہ پیستی ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ سل بٹے پر پسے ہوئے مسالے کی لذت الگ ہوتی ہے۔ اس سے پکائے جانے والے پکوان کا ذائقہ دوبالا ہوتا ہے جبکہ مکسر مشین کے مسالے میں وہ ذائقہ نہیں ہوتا ہے۔ اسی لئے آج بھی انہوں نے سل بٹے کو بڑی حفاظت سے رکھا ہے۔ مسالے کے علاوہ مختلف قسم کی دالیں بھی اسی پر پیستی ہیں۔
فاطمہ بی گھریلو ٹوٹکے کے معاملے میں بھی ماہر ہیں۔ سردی ہونے پر زائفل جبکہ پیٹ کے اینٹھن کو ختم کرنے کیلئے ہینگ اور بچوں کو ہونے والی سردی، کھانسی اور زکام کا علاج اجوائن کی پوٹلی کا استعمال کرتی ہیں۔
ان کے بچپن میں موسلادھار بارش سے شہر ومضافات کے متعدد علاقے زیر آب آجاتے تھے۔ کماٹی پورہ کے نشیبی علاقوں میں بھی پانی بھر جاتا تھا۔ ان کا گھرجس عمارت میں تھا، وہاں بہت جلد پانی بھر جاتا تھا۔ پانی بھرنے کی وجہ سے گھر کے سبھی افراد رات بھر پلنگ پر بیٹھ کر گزارتے تھے۔ ایسے میں کھانے پینے کی بڑی دقت ہوتی تھی۔