• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بیٹی شاہین کی وجہ سے کئی ملکوں کا سفر اور بالی ووڈ فنکاروں سے ملاقات کی‘‘

Updated: August 31, 2025, 12:48 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

اندھیری، ملت نگرکے ۷۷؍سالہ قادر عثمان شیخ کا تعلق احمد نگر ضلع سے ہے۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں ممبئی آئے تو پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے، ۱۹۹۷ء میں معروف کمپنی’ٹیلی فین‘ سے ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ فی الحال متعدد سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔

Qadir Usman Sheikh. Photo: INN.
قادر عثمان شیخ۔ تصویر: آئی این این۔

اندھیری، ملت نگر کے ۷۷؍سالہ قادر عثمان شیخ کی پیدائش ۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء کو احمد نگر ضلع کے بھنگار گائوں میں ہوئی تھی۔ ابتدائی پڑھائی گائوں کے ضلع پریشداسکول اور سیکنڈری کی پڑھائی متصل گائوں سےمکمل کی۔ مالی مشکلات سے آگے پڑھائی نہیں کرسکے۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں بڑے بھائی کے بلانےپر ممبئی چلے آئے۔ چند برسو ں تک بھائی کے ساتھ رہے، بعدازیں ملنڈ میں ٹیبل فین بنانےوالی معروف کمپنی’ٹیلی فین‘ میں بحیثیت کوالیٹی کنٹرول انچارج ملازمت جوائن کی اور وہیں سے ۱۹۹۷ءمیں سبکدوش ہوئے۔ اس کےبعد سے سماجی کاموں سے وابستہ ہیں۔ انہیں بچپن سے کیرم کھیلنے کا شوق رہا۔ کم وبیش ۵۰؍سال سے کیرم کھیل رہے ہیں۔ موسیقی کا بھی شوق ہے۔ روزانہ ورزش کرنا معمول میں شامل ہے۔ کسی کی پریشانی دیکھ کر دل برداشتہ ہو جاناان کی فطرت کاحصہ ہے۔ ضرورتمندوں کی مدد کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ 
قادر شیخ ۱۹۹۷ء سے ملت نگر میں رہائش پزیر ہیں ۔ یہاں ہر منگل کو ہفتہ واری بازار لگتا ہے۔ شروع شروع میں ہفتہ واری بازار جانے پر اکثر دکانداروں اور گاہکوں میں چھٹے پیسوں کیلئے ہونے والی بحث وتکرار دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی تھی۔ ایسے میں انہوں نے دکانداروں کو مفت چُھٹے پیسے فراہم کرنے کی مہم شروع کی۔ وہ مقامی پیٹرول پمپ سے ۵۰۰؍ روپے کے متعدد نوٹ بدل کر سو روپے کے نوٹ لاتے اور سو روپے کے ۵؍نوٹ یکجاکرکے رکھتے۔ ہفتہ واری بازار والے دن دکانداروں کوسوروپے کے ۵؍نوٹ دے کر ان سے ۵۰۰؍ روپے کی نوٹ لے لیتے، جس سے دکانداروں کو بڑی آسانی ہوجاتی ہے۔ ان کے اس عمل سے متاثرہوکر دکانداروں نے انہیں ، احتراماً ’ چھٹےچاچا‘ کے لقب سے نوازدیا ہے۔ وہ آج بھی ملت نگر اوراطراف کےعلاقوں میں اسی نام سےمقبول ہیں۔ ان کا یہ عمل رمضان المبارک میں افطاری کاسامان فروخت کرنےوالے دکانداروں کےساتھ بھی ہوتاہے۔ گزشتہ ۲۰؍ سال سے وہ اس بلامعاوجہ کی خدمت پر عمل پیرا ہیں۔ 
۱۹۹۳ءکےفرقہ وارانہ فسادات کے دوران قادر شیخ گھاٹ کوپر کے پنت نگر میں رہائش پزیر تھے۔ یہاں کی ۴؍ منزلہ عمارت میں وہ تنہا مسلم تھے۔ ان کے علاوہ اطراف کی عمارتوں میں بھی گنے چنے مسلم خاندان آباد تھے۔ یہاں کے شیوسینا شاکھا پرمکھ، ہریش بولارسے ان کے اچھے مراسم تھے۔ اسے کیرم کھیلنے کابڑا شوق تھا۔ اس نے کیرم کھیلنے کےگُر قادر شیخ سے سیکھےتھے، اسلئے وہ ان کی بڑی عزت کرتاتھا۔ فسادمیں اس نے اپنے ماتحتوں کو متنبہ کیاتھا کہ قادرشیخ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے، جس کی وجہ سے ان کا خانوادہ فسادیوں کے شر انگیزی سےمحفوظ رہا، جبکہ ان کے سامنے والی بلڈنگ میں مقیم مسلم خاندان کو بڑی بے دردی اور بے رحمی سے تباہ وبرباد کردیا گیاتھا۔ 
قادر شیخ کی پیدائش ۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء کو ہوئی تھی، اسی دن مہاتما گاندھی کو گولی ماری گئی تھی۔ اس دردنا ک واقعہ کے آدھا گھنٹہ بعد قادرشیخ کی پیدائش ہوئی تھی۔ گاندھی جی کے قتل کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی تھی۔ ان کے قتل کی وجہ سے پورا ملک صدمے میں تھا، ملک بھر میں ایک ہنگامہ برپا تھا، بعض جگہوں پر فسادات، لوٹ مار اور شرانگیزی کے واقعات بھی ہورہے تھے۔ ایسے میں قادر شیخ کی پیدائش یادگار حیثیت کی حامل ہے۔ 
قادر شیخ کی بیٹی شاہین کا تعلق فلمی دنیاسے رہا۔ چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنے فلمی کریئر کا آغاز کرنےوالی شاہین کا فلمی نام بے بی تبسم اور آرکیسٹر ا وغیرہ میں کمپیئرنگ کرنے والا نام سہاسنی ہے۔ امتیابھ بچن، رجنی کانت اور گووندہ کی معروف فلم ’ہم ‘ میں رجنی کانت کی بیٹی اور امتیابھ بچن کی بھتیجی کے طور پر کام کرنے والی شاہین کو سابق آنجہانی صدر جمہوریہ شنکردیال شرماکے ہاتھوں بیسٹ چائلڈ آرٹسٹ کا ایوارڈ مل چکا ہے۔ شاہین کی وجہ سے قادر عثمان کو شنکردیال شرما کے علاوہ بی جے پی کے سینئراور قدآور لیڈرایل کے ایڈو نی، شیوسینا سپریمو بالا صاحب ٹھاکرے اور دیگر معروف شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل رہاہے۔ شاہین کی وجہ سے ہی قادر شیخ امیتابھ بچن، جیتندر، جیاپردہ اور دیگر کئی اہم فلمی ستاروں سے بھی مل چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہین کو شاہین بنانے میں معروف موسیقار کلیان جی آنند جی کا اہم رول رہا ہے۔ 
قادر شیخ کو اپنی آرٹسٹ بیٹی شاہین کی بدولت امریکہ، لند ن، موریشش، بیلجیم، سنگاپور اور مسقط جیسے ممالک کے علاوہ اسرائیل بھی جانے کا موقع ملا۔ اسرائیل کا بطور خاص تذکرہ اسلئے کررہا ہوں کہ وہاں سے بیت المقدس جانے کا بھی شرف حاصل ر ہا۔ وہاں جاکر ہم نے ۲؍ رکعت نماز ادا کی تھی جو میرے لئے بڑی سعادت کی بات ہے۔ 
سیکنڈری اسکول کی پڑھائی کیلئے قادر شیخ اپنے گائوں سے متصل گائوں میں ۴؍ کلو میٹر کی دوری پر واقع اسکول پیدل جاتے اور اسکول کے بعد پیدل گھر آتے تھے۔ راستے میں ایک ندی تھی، جو سوکھی تھی، اسے پار کرنےکیلئے ایک پل تھا، لوگوں نے اس پل پر آسیبی اثر ہونے کی افواہ پھیلا رکھی تھی۔ قادر شیخ دوپہر کے سیشن میں اسکول جاتے تھے، اس لئے اس وقت پل پار کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی لیکن شام کو اسکول سے لوٹتے وقت اندھیرا ہو جانے پر، پل کراس کرتے وقت انہیں خوف لگتا، وہ کلمہ پڑھتے ہوئے پل پار کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے ساتھ کبھی کوئی واقعہ نہیں ہوا لیکن ڈر پھر بھی لگتا تھا۔ 
قادر شیخ شہری اور سماجی مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ سرگرم رہے۔ وہ برسوں سے ٹریفک اہلکار کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ جہاں کہیں بھی ٹریفک جام دیکھتے ہیں اوروہاں ٹریفک پولیس موجود نہ ہو، تو وہ رک کر ٹریفک قابو کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں ۔ کسی چوراہے پر موٹرگاڑیاں ایک دوسرے میں پھنس گئی ہوتی ہیں تو گاڑیوں کے ڈرائیور کو سمجھا بجھاکر راستہ کلیئر کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ اندھیری کے آزاد نگر جنکشن پر وہ ٹریفک کلیئر کرانے میں مصروف تھے، اس ٹریفک میں معرو ف پلے بیک سنگر سدیش بھوسلے بھی پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے اس وقت تو قادر شیخ سے کچھ نہیں کہا، گھر پہنچ شام کو قادر شیخ کو فون کر کے دریافت کیا کہ دوپہر میں آزاد نگر جنکشن پر آپ کیا کر رہےتھے، جس پر قادر شیخ نے انہیں بتایا کہ میں ٹریفک کلیئر کرا رہا تھا۔ یہ میرا پرانا شوق ہے جس پرسدیش بھوسلے نے ان کی ستائش کی تھی۔  
قادرشیخ ایک مرتبہ کلیان جی کی ٹیم کے ہمراہ ۲۲؍ دنوں کے میوزیکل ٹرپ پر امریکہ گئے تھے۔ ٹیم میں ان کی بیٹی شاہین بھی شامل تھی۔ سارے پروگراموں کی کمپیئرنگ اسی نے کی تھی۔ اس دوران ٹیم نے امریکہ کےبڑے بڑے شہروں نیویارک، نیوجرسی، میامی، جاسٹن اور لاس اینجلس وغیرہ کا دورہ کیا تھا اور ہر شہر میں اپنی عمدہ کارکردگی سے موسیقی کے شیدائیوں کا دل جیت لیا تھا۔ ہر شہر میں ان کی ٹیم کا جس گرمجوشی اور والہانہ انداز میں استقبال کیا گیا تھا، وہ اب بھی نہیں بھولے ہیں ۔ یہاں کے لوگوں نے انہیں بہت پیار دیا تھا، ساتھ ہی تحائف کی بوچھار کردی تھی۔ اتنے سارےتحائف ملے تھے کہ انہیں وہاں سے لانامشکل تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK