بھیونڈی کے سوداگر محلہ کی ۷۸؍سالہ سلمیٰ سکندر کشیلکر کی ایک جفاکش اور باہمت خاتون ہیں، شوہر کا انتقال ہوا تو بچے چھوٹے چھوٹے تھے لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئےخون پسینہ ایک کردیا اور اپنے مقصد میں کامیاب رہیں۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 7:54 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
بھیونڈی کے سوداگر محلہ کی ۷۸؍سالہ سلمیٰ سکندر کشیلکر کی ایک جفاکش اور باہمت خاتون ہیں، شوہر کا انتقال ہوا تو بچے چھوٹے چھوٹے تھے لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئےخون پسینہ ایک کردیا اور اپنے مقصد میں کامیاب رہیں۔
بھیونڈی کے سوداگر محلہ میں رہائش پزیر ۷۸؍ سالہ سلمیٰ سکندر کشیلکر کی پیدائش ۸؍جون ۱۹۴۸ء کونظام پورہ میں ہوئی تھی۔ نظام پورہ کے پرائمری اسکول سے ساتویں جماعت تک پڑھائی کی۔ آگے کی پڑھائی کیلئےرئیس ہائی اسکول میں داخلہ لینے کی خواہش تھی لیکن گھر والوں نے اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے مزید پڑھائی نہیں ہوسکی۔ پڑھنے کی شدید خواہش تھی، اسلئے ساتویں پاس کرنے کےبعد گھر کے قریب ہی ایک گھر میں ٹیوشن کے طور پر تھوڑی بہت انگریزی کی پڑھائی کی۔ والدہ کی سرپرستی میں امورِ خانہ داری کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ہی سلائی، کڑھائی، کروشیا اور دیگر گھریلو ہنر سیکھے۔ ۱۸؍سال کی عمر میں ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ ان کے ۷؍ بچے ہیں، جن میں ۴؍بیٹے اور ۳؍ بیٹیاں شامل ہیں ۔ سب بچوں کی شادی ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنی والدہ کے طرز پر اپنی بیٹیوں کو بھی پڑھانے کے ساتھ ہی امورِ خانہ داری اور کئی گھریلو ہنر سے آراستہ کیاہے۔ اس عمر میں پوری طرح سے چاق و چوبندا ور صحت مندہیں ۔ اپنا کام خود کرتی ہیں۔ اپنے لئے ناشتہ اور کھانا خود ہی پکاتی ہیں۔ گھریلو کاموں کے علاوہ مطالعہ کا شوق ہے۔ روزنامہ انقلاب پابندی سے پڑھتی ہیں۔ اوڑھنی ان کامحبوب صفحہ ہے۔ نماز، تلاوت اور اذکار معمول میں شامل ہے۔
خاوند کے جلد فوت ہوجانے سے سلمیٰ پر بچوں کی تعلیم وتربیت اور پرورش کی بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی تھی۔ شوہر کی پنشن کی معمولی رقم سے انہوں نے گھریلو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اپنے ۷؍بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیاہے۔ وہ بچوں کے کھانے پینے سے زیادہ ان کی تعلیم پر توجہ دیتی تھیں ۔ بچوں کی اسکول فیس کیلئے وہ ہمیشہ آزمائش سے گزریں لیکن کبھی کسی کے سامنے دست دراز نہیں کیا۔ اگر کسی صاحب خیر نے فیس دینے کی پیشکش بھی کی تو بڑی شائستگی سے منع کر دیا۔ بچوں کی تعلیمی ضروریات کو ترجیح دینے کی وجہ سے مہینے کے آخر میں اکثر گھر میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہو جاتی تھی اور بعض مرتبہ فاقے کی بھی نوبت آئی لیکن اس مستقل مزاج اور باہمت خاتون نے حوصلہ نہیں ہار ا۔ سبھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ ان کاکہنا ہےکہ میرے شوہر کی بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کی دیرینہ خواہش تھی، جو میں نے کسی طرح پوری کی۔
سلمیٰ سکندر اپنی اسکول ٹیچر کلثوم آپا کونہیں بھولی ہیں۔ وہ بہت اچھا پڑھاتی تھیں لیکن اتنی ہی سخت گیر بھی تھیں۔ غلطی ہونے پرسخت سزا دیتی تھیں۔ ان کے پریڈ میں کوئی طالب علم بات نہیں کرسکتا تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے محرم الحرام پر مضمون لکھنے کیلئے کہا تھا۔ سلمیٰ سکندر نے اپنے مضمون میں محرم میں ڈھول بجانے پر تنقید کردی تھی، جس پر انہوں نے سلمیٰ سکندر کو ڈانٹ کر کہا تھاکہ مضمون میں متنازع بیان کیوں آیا، اس بات پر انہوں نے سلمیٰ سکندر کی ہتھیلی پرلکڑی سے بری طرح مارا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بلڈنگ گری تومیں بھی ملبے میں دب گیا تھا لیکن پلائی ووڈ کے سہارے سے بچ گیا‘‘
سلمیٰ سکندر کا بچپن نظام پورہ میں گزرا۔ اسکول سے آنے کےبعد کھیلنے کودنے کیلئے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایسے میں ہمسایہ کے بچوں کے ساتھ گھر کےقریب ہی کھیلتی تھیں۔ ریحانہ، شہناز، عفت، نرگس، جبین اور شاہدہ ان کی اہم سہیلیاں تھیں ۔ ان کے ساتھ وہ کھوکھو، لنگڑی اور چھپا چھپی کھیلا کرتی تھیں ۔ انہیں گڑیاگُڈے کی شادی کرانے کا بھی بہت شوق تھا۔ سہیلیوں کےساتھ لکڑی کی گڑیا اور گُڈا بناتی تھیں۔ ان کیلئے شادی کا جوڑا بھی تیار کرتی تھیں ۔ نکاح کے بعد شرکاء میں میٹھی گولی اور چاکلیٹ تقسیم کر کے خوشی خوشی گڑیا کی رخصتی ہوتی تھی۔ بچپن کی ان شوخیوں کو یاد کر کے وہ اب بھی محظوظ ہوتی ہیں۔
اس دور میں یوم ِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے موقع پر نظام پورہ سے ممبئی کے آزاد میدان کیلئے ٹرک روانہ ہوتے تھے۔ جس میں محلے کے نوجوانوں اور بڑوں کے علاوہ بچے بھی جاتے تھے۔ ایک مرتبہ یومِ جمہوریہ پر سلمیٰ سکندر اپنی بہن اور چند سہیلیوں کے ہمراہ ٹرک پر سوارہوگئیں لیکن کچھ دور جانےکے بعد والدین کے ڈر سے وہ اپنی بہن اور سہیلیوں کو لے کر ٹرک سے اُتر گئیں ۔ ٹرک آگے جاکر حادثے کاشکار ہوگیا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے۔ اگر سلمیٰ سکند ر ٹرک سے نہ اُتری ہوتیں تو شاید وہ آج زندہ نہیں ہوتیں۔ جان کی سلامتی پر وہ اللہ تعالیٰ کاشکرادا کرتی ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر متاثرین کی عیادت کیلئے وہ اسپتال بھی گئی تھیں جہاں ۳؍ لاشوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس حادثے کے بعد آزاد میدان جانے کا سلسلہ منقطع کردیاگیا۔
سلمیٰ سکندر نے فلموں کے بارے میں بچپن ہی میں بہت کچھ سن رکھا تھاجس کی وجہ سے فلم دیکھنے کا اشتیاق تھا لیکن گھروالوں کی تاکید اور پابندی کی وجہ سے وہ فلم دیکھنے نہیں جاتی تھیں۔ ان کے چاچا کو بھی فلم دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ دلیپ کمار کے مداح تھے۔ ا ن کی ہر فلم دیکھتے تھے۔ انہیں دنوں مغل اعظم ریلیز ہوئی تھی۔ وہ مغل اعظم دکھانے کیلئے سلمیٰ اور ان کی چھوٹی بہن کو بھیونڈی سے مراٹھا مندر ممبئی لے کر گئےتھے مگر ٹکٹ نہیں مل سکا، مجبوراً فلم دیکھے بغیر بھیونڈی واپس ہوئے۔ بعدازیں برسوں بعدسلمیٰ سکندر اور گھر کی دیگر لڑکیوں نے ایک بزرگ خاتون کے ہمراہ بھیونڈی کے نذرانہ تھیٹر میں فلم مغل اعظم دیکھی۔ انہیں فلم اتنی پسند آئی کہ اس کے بعد جب بھی موقع ملتا، وہ مغل اعظم دیکھنے کاموقع نکال لیتی تھیں۔
سلمیٰ سکندر کےشوہر سکندر کشیلکر کا شمار بھیونڈی کے معروف ڈراما نگا روں میں ہوتا تھا۔ وہ اکثر ڈراموں میں شرکت کرنے اور دیکھنے کیلئے بھی بھیونڈی سے ممبئی آتےتھے۔ ان مواقع پر اکثراپنے ساتھ بچوں کو بھی لاتےتھے۔ ایک مرتبہ سلمیٰ سکندر شوہر کے ہمراہ برلاماتوشری سبھاگرہ، مرین لائنس میں اس دورکا مشہور ڈراما ’ادرک کے پنجے ‘ دیکھنے آئی تھیں۔ ان کی قریب والی نشست پر اس عہد کی معروف فلم اداکار ہ وحیدہ رحمان اور جلال آغا تشریف فرما تھیں ۔ انہیں قریب سے دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ وہ ممبئی ایئرپورٹ پر فلم اداکار اجیت کوبھی دیکھ چکی ہیں۔
بچپن میں سلمیٰ سکندر بھیونڈ ی میں ہرسال لگنے والے دیوان شاہ کے میلے میں بھی جایاکرتی تھیں۔ نظام پورہ سے دیوان شاہ بیل گاڑی سے جانے کا سفر بہت دلچسپ ہوتا تھا۔ پردے کیلئے بیل گاڑی کے چاروں جانب چادر باندھ دیا جاتا تھا۔ خواتین اور لڑکیاں بیل گاڑی پر سوار ہوکر دیوان شاہ جاتی تھیں۔ وہاں ٹھہرنے کیلئے خواتین و مرد حضرات کا علاحدہ انتظام ہوتا تھا۔ میلے میں آسمانی جھولا، موت کاکنواں اور متعدد تفریحی لوازمات ہوتے تھے۔ کھانے پینے کی اشیاء گھر سے لے جانے کے علاوہ میلے میں ملنے والی کھانے پینے کی اشیاء سے سب لطف و اندوز ہوتے۔ شام میں وہاں پہنچتے اور رات بھروہاں گزار کرعلی الصباح گھر لوٹتے تھے۔
سلمیٰ سکندر نے بھیونڈی کے فساد کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے خاوند میں سماجی اور ملّی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ فساد کے دوران انہیں جیسے ہی معلوم ہواکہ ان کا ایک قریبی دوست پولیس کی گولی سے زخمی ہوا ہے، وہ گھر میں کسی کو بتائے بغیر اس کی مدد کیلئے پہنچ گئے۔ اسے اپنے شانے پر اُٹھاکر اسپتال پہنچایا۔ اس بھاگ دوڑ میں وہ اپنے اہل خانہ کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکے جبکہ ان کے گھر کے آس پاس کی عمارتوں میں آگ لگائی جاچکی تھی۔ سلمیٰ سکندر اپنے شوہر اور بچوں کیلئے کافی پریشان تھیں۔ ایسے میں شوہر کے ایک قریبی دوست نےانہیں اور بچوں کو سوداگر محلہ سے نکال کر اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ بعدازیں ان کے شوہر رات دیر آگ وغیرہ بجھا کر جب اپنے گھرپہنچے توانہیں معلوم ہواکہ سلمیٰ اور بچے ان کے دوست کے گھر پر ہیں۔ وہ دوست کے گھر پہنچنے تب سلمیٰ کی جان میں جان آئی ۔