• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عوام کی تضحیک و تذلیل کرنا عوامی نمائندوں کا شیوہ ہوگیا ہے

Updated: October 05, 2026, 8:47 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

ابھی حال ہی میں یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے ایک تقریب میں عوام کو یہ نادر مشورہ دیا کہ وہ نوکری مانگنے کے بجائے ای رکشا چلائیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

عوام اور اقتدار کے باہمی رابطہ سے متعلق آئینی التزامات نے عملی سطح پر جو صورت اختیار کر لی ہے وہ جمہوری نظام میں مرکزی حیثیت رکھنے والے عوام کی کسمپرسی کو عیاں کرتی ہے۔ عوام کے ووٹ حاصل کر کے مرکز اور ریاستی ایوانوں میں پہنچنے والے سیاستداں خصوصاً ارباب اقتدار پر ہمہ وقت احساس فضیلت اس قدر حاوی رہتا ہے کہ انھیں عوام کی تضحیک و تذلیل کرنے میں رتی بھر بھی ہچکچاہٹ نہیں محسوس ہوتی۔ عوام کو دھرم آمیز سیاست کے حصار میں مقید کر دینے والے سیاسی لیڈروں کی چرب زبانی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ اپنے آئینی فرائض کو مسلسل نظر انداز کرتے رہنے اور عوام کے آئینی حقوق کو غیر اہم ثابت کرنے کیلئے ایسی باتیں کرنے میں بھی عار نہیں محسوس کرتے جن سے عوام کی حمیت مجروح ہوتی ہے۔ ارباب اقتدار کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو آئینی اصول و ضابطوں سے بالاتر اور عوام کو محکوم محض سمجھنے لگے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ سیاستداں خصوصاً ارباب اقتدار عوامی زندگی سے وابستہ مسائل کا موزوں حل تلاش کرنے کے بجائے ایسی تجاویزپیش کرتے ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انھیں عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔ 
اس وقت ملک میں بے روزگاری کا جو عالم ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے اور معیشت جس راہ پر آگے بڑھ رہی ہے اس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں بے روزگاری کا گراف مزید اوپر اٹھ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں بے روزگاری کم کرنے کیلئے نتیجہ خیز پالیسی بنانے اور عوام کو زندگی کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے کی آئینی شرط کو سنجیدگی اور سچائی سے پورا کرنے کے بجائے ارباب اقتدار بے روزگاری کے مسئلے کو تفریح طبع کا سامان بنا کرعوام کی تضحیک اس انداز میں کرتے ہیں جس سے بہ ظاہر یہ لگے کہ وہ عوام کے تئیں انتہائی فکر مند ہیں ۔ جو لوگ اس مصنوعی فکر مندی کے درون میں پوشیدہ احساس تمسخر کو محسوس کر لیتے ہیں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ عوامی نمائندگی کا دم بھرنے والے ان لیڈروں کو عوام کو درپیش مسائل اور پریشانیوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ 
اس ضمن میں گزشتہ دنوں پیش آنے والی تین وارداتیں عوامی نمائندوں کی عوامی وابستگی کی تکلیف دہ حقیقت کو پوری طرح عیاں کر دیتی ہیں۔ یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے ایک تقریب میں عوام کو یہ نادر مشورہ دیا ہے کہ وہ نوکری کرنے کے بجائے ای رکشا چلائیں۔ اس تقریب میں انھوں نے ای رکشا چلانے کے جو فائدے گنائے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوام کے متعلق کس حد تک فکر مند ہیں۔ انھوں نے یہ تو بتایا کہ دوسروں کے ماتحت کام کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق کام کیا جائے اور ای رکشا چلانا اسی طرز کا سہولت بخش کام ہے۔ یہ مشورہ دراصل اس جوابدہی سے بچنے کی دانستہ کوشش ہے جو عوام کو روزگار فراہم کرنے کے سلسلے میں اقتدار پر عائد ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ای رکشا چلانے سے جو آمدنی ہوگی کیا وہ عوام کی ان سبھی ضرورتوں کو تسلی بخش انداز میں پورا کر پائے گی جن ضرورتوں کی تکمیل کے وعدے پر سیاست داں عوام کا قیمتی ووٹ حاصل کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب صریحی طور پر نفی میں ہوگا۔ تو پھر سب سے اہم اور بنیاد ی سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ہرسال کروڑوں نوکریاں دینے کی بات کہہ کر پوری میعاد حکومت کے دوران اس بات کو سرے سے فراموش کردینا آئینی ضابطوں کی پامالی نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: نوجوانوں کو صرف احتجاج نہیں، قیادت کرنی چاہئے

عوام کی تذلیل کی دیگر وارداتیں ہیں وہ ارباب اقتدار کے کبر و نخوت کو اجاگر کرتی ہیں۔ پہلی واردات دہلی کی ہے جوریاستی حکومت کے کابینی وزیر اور بی جے پی کے قد آور لیڈر پرویش ورما کے اس رویے کو ظاہر کرتی ہے جس میں وہ خود کو آئینی ضابطوں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کے اسمبلی حلقہ میں ان ہی کے ذریعہ بنوائی گئی سٹر ک کی خستہ حالی کو دکھانے والے ایک نوجوان کو تھپڑ مار کر پرویش ورما نے یہ جتا دیا کہ انہیں عوام کے مسائل کی کتنی فکر ہے۔ 
اسی طرح گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے سبب گورکھپور میں نکاسی آب کے ناقص انتظام کی شکایت کرنے والے کارپوریٹر کو شہر کے ایم پی روی کشن نے جو جواب دیا وہ بھی سیاست دانوں کی عوام کے تئیں مصنوعی فکرمندی کو عیاں کرتا ہے۔ روی کشن مسئلے کو حل کرنے سے زیادہ اپنے رعونت آمیز لہجے سے اس کارپوریٹر پر دھونس جمانے کی کوشش کر رہے تھے جو عوام کو در پیش مسائل کے حل سے متعلق ایم پی کے آئینی فرائض کی یاد دہانی کرا رہا تھا۔ یہ یاد دہانی کرانے والے کارپوریٹر کی باتوں کی تردید روی کشن اس لئے بھی کر رہے تھے کہ اگر وہ ان باتوں کی تائید کر دیتے تو ان کا وہ مثالی دعویٰ انہی کی زبان سے جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے جس میں انھوں نے گورکھپور کو اسپین اور اسے دیکھنے و محسوس کرنے سے قاصر لوگوں کو صریح طور پر نابینا قرار دیا تھا۔ 
اقتدار اور عوام کے باہمی ربط کی نوعیت جب تک اس نہج پر برقرار رہے گی ان نام نہاد عوامی نمائندوں کو اپنی شان و شوکت اور اس کے اظہار کو یقینی بنانے والے کبر و نخوت کی زد پر عوام کو لاتے رہنے سے روک پانا مشکل ہے۔ عوام کو احساس ممنونیت سے اوپر اٹھ کر اپنے آئینی حقوق کی حصول یابی کو یقینی بنانے اور سیاست دانوں خصوصاً ارباب اقتدار کو آئینی فرائض کی تکمیل پرآمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی یہ کوشش ہی جمہوریت کو پائیدار اور بامعنی بنا سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK