• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُردو سے محبت اور انگریزی سے مصالحت کی نصف صدی

Updated: October 05, 2026, 8:46 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

نصف صدی پہلے اس شہر میں ۸۰؍ فیصدمسلم طلبہ اردو ذریعہ تعلیم سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور صرف ۲۰؍ فیصد طلبہ ہی انگریزی میڈیم میں پڑھتے تھے مگر آج معاملہ برعکس ہے: ممبئی کے ۲۰؍ فیصد مسلم طلبہ اردو میں پڑھ رہے اور ۸۰؍ فیصد انگریزی میں ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

نصف صدی قبل میں نے اُردو اسکول سے نکل کر انگریزی ذریعہ تعلیم کے کالج میں داخلہ لیا۔ گاؤں میں پرائمری اسکول ضلع پریشد کی تھی اور اردو میڈیم ہائی اسکول ایک نجی ادارے کے تحت قائم ہوئی تھی۔ یہاں تک کا سفر شاندار رہا اور یادگار بھی۔ اس کے بعد سائنس اور ریاضی میں دلچسپی تھی، اسلئے ممبئی کے مشہور کے سی کالج میں داخلہ لیا۔ اس کالج میں داخلہ لینے کے دو سبب تھے۔ اول تو یہ کہ آج بھی اس کالج کا شمار صف اول کے سائنس کالجوں میں ہوتا ہے اور دوم یہ کہ وہاں اُردو کا شعبہ بھی آن و بان کے ساتھ قائم تھا۔ سندھی انتظامیہ کے تحت جاری اس کالج میں ہمیں اردو مضمون ایک سندھی ٹیچر ہی پڑھاتی تھیں۔ اخبارات میں میرے مضامین شائع ہونے کا سلسلہ اسکول کے زمانے ہی سے شروع ہوا تھا البتہ کالج کے ’نقش دیوار‘ کا ایڈیٹر ایک سندھی طالب علم مقرر ہوا۔ 
گاؤں کے اردو اسکول سے نکل کر شہر کے سائنس کے کالج میں داخلہ لینے کے بعد میڈیم کی تبدیلی کی بناء پر بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈکشنری کو اپنا ساتھی بنا کر اس دشواری کو دور کرنے کی کوشش کی۔ کالج کی پڑھائی آگے بڑھتی گئی البتہ اُردو کا ساتھ چھوٹنے کا بڑا قلق رہا۔ میں صرف یہ سوچتا رہا ’انگریزی کیوں ؟‘ میں انگریزی کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا اور سوچتا تھا کہ آخر کالج کی پڑھائی اردو میں کیوں نہیں ہوتی؟ بالکل عام لوگوں کی طرح یہ بھی سوچنا شروع کیا کہ انگریزی تو انگریزوں کی زبان ہے، ہم کیوں اس کے پالنہار بنیں ؟برٹش لائبریری اور امریکن لائبریری کے ممبر بننے تک انگریزی بیزاری بلکہ نفرت بڑی شدت کے ساتھ قائم رہی مگر ان لائبریریوں کی کتابیں دیکھ کر اور پڑھ کر انگریزی سے محبت تو پیدا نہیں ہوئی البتہ اس زبان سے نفرت کی شدت میں کمی آتی گئی۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ تھا، نہ گوگل۔ لائبریری اور اس کی کتابیں ہی معلومات کا واحد ذریعہ تھیں۔ اردو کے چند کتب خانے بھی مسلم محلّوں میں موجود تھے البتہ وہاں فکشن تھا اور شاعری۔ 
اردو اور انگریزی کے ٹکراؤ کی نصف صدی گزارنے کے بعد میں اب بھی یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں اردو کا ایک سخت گیر حامی ہوں کیونکہ اردو میرے لئے صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک ثقافت، ایک تہذیب، ایک احساس، ایک تاریخ بلکہ وجود سے لپٹی ہوئی حقیقت ہے اور اسی لئے اردو کے تعلیمی اداروں کی بقا کیلئے کئی دن اور راتیں نہیں کئی دہائیوں تک سکت بھر محنت کی ہے مگر آج میں ایک تلخ حقیقت کا اعتراف بھی کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے انگریزی کے ساتھ سمجھوتہ بھی کیا ہے..... مگر یہ سمجھوتہ میری شکست نہیں ہے۔ ہاں اردو کو وقار بخشنے کا ایک ادنیٰ سا منصوبہ ہے۔ میں نے انگریزی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں، انگریزی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اخبارات میں سہراب الدین انکاؤنٹر، نوجوانوں کی بیداری اور شیئر بازار موضوعِ بحث

انگریزی سے سمجھوتہ کرنے کے پیچھے نصف صدی کی ریاضت اور فکر کارفرما ہے، جس کا مختصر جائزہ یہ ہے: (الف) اردو اسکول کے طلبہ روانی کے ساتھ انگریزی میں بات چیت نہیں کر سکتے (ب) اردو کے طلبہ کیلئے نصاب سے ہٹ کر عام معلومات کے ذرائع نہیں ہوتے (ج) اردو طلبہ ذہین و محنتی ہوتے ہوئے بھی مقابلہ جاتی امتحانات میں پچھڑ جاتے ہیں۔ ان تینوں امراض کی تشخیص کے بعد ہم نے ۱۹۷۸ء میں کریئر گائڈنس کا سلسلہ، ۱۹۸۰ء میں اس موضوع پر اردو میں پہلی کتاب، ۱۹۸۲ء میں اُردو میں عام معلومات، ریاضی و انگریزی ٹیلنٹ کے مقابلے، ۱۹۸۴ء میں گاؤں گاؤں `بستی بستی تعلیمی آگہی کی ڈفلی بجانے کاسلسلہ، ۱۹۷۸ء میں پہلے شمع فروزاں اور پھر راہ نُما سےپکّی سیاہی اور ۲۰۰۴ء میں سیٹیلائٹ ٹی وی سے ادنیٰ سی کوششیں شروع کیں جو ہنوز جاری ہیں۔ ان سب کا تذکرہ اپنے کام گنانا مقصد نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جب یہ سب انفرادی طور پر ہو سکتا ہے تو ہماری اکیڈمیاں، ہمارے ادارے اورہمارے سبکدوش اساتذہ کی فوج اس کو وسیع پیمانے پر کر سکتی ہیں بس اس کیلئے نیت چاہئے اور جنون، صرف جنون!
اس ضمن میں ہم یہ طے کریں کہ انگریزی سے ہمیں کوئی بغض نہیں کیونکہ وہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو منوا چکی ہے۔ ابھی بھی ایک نادان اور احمق طبقہ ہماری صفوں میں موجود ہے جو انگریزی زبان پر لاحول پڑھنے کیلئے مغربی تہذیب کا حوالہ دیتا ہے۔ ایک صدی سے زائد عرصے سے ہم سبھی ان مٹھی بھر افراد کی منفی سوچ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اب انگریزی سے سمجھوتہ کر کے دیکھ لیتے ہیں، کچھ اس طرح کہ اپنی زبان و ثقافت کو زندہ رکھتے ہوئے ہمارے طلبہ اور ہماری قوم زندگی کے ہر محاذ پر سرخرو رہیں۔ 
اردو اسکولوں کے طلبہ کی انگریزی میں روانی کے ضمن میں جب مشورہ ہوتا ہے تب ہمارے جذباتی و جوشیلے افراد بپھر جاتے ہیں کہ کیا انگریزی میں فراٹے سے بات کرنا ہی کامیابی کی علامت ہے؟ سن لیجیے: انگریزی میں فراٹے سے بات کرنے والا بہت ذہین بھی ہوتا ہے، یہ کہنے والے احمق ہیں اور ملازمت یا ترقی کیلئے اس فراٹے دار انگریزی کو واحد قابلیت نہیں سمجھا جاتا۔ ارباب اختیار اس طالب علم کی سوجھ بوجھ اورمعلومات وغیرہ کا بھی باریکی سے جائزہ لیتے ہیں۔ پھر وہ یہ بھی جواب دیں کہ چینی، جرمنی اور فرانسیسی وغیرہ بھی جب انگریزی سے مقابلے میں اترے تب سارے علوم کو اپنے دامن میں سمیٹنے کیلئے ترجمہ نگاری کو ان زبان والوں نے سب سے بڑا حفاظتی ہتھیار اپنایا۔ جب یہ سب ہورہا تھا تب اردو والے کہاں سو رہے تھے؟ 
میں اپنی ہر تحریر کا اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی ترجمہ کرتا ہوں تاکہ انگریزی میڈیم میں پڑھنے والے طلبہ تک بھی پہنچے۔ میں انگریزی میڈیم میں پڑھنے والے طلبہ و والدین کو برا بھلا نہیں کہتا اور اب کہہ بھی نہیں سکتا کیونکہ منظرنامہ جو بدل چکا ہے۔ صرف ممبئی شہر کی مثال لیجئے، نصف صدی پہلے اس شہر میں ۸۰؍ فیصدمسلم طلبہ اردو ذریعہ تعلیم سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور صرف ۲۰؍ فیصد طلبہ ہی انگریزی میڈیم میں پڑھتے تھے مگر آج معاملہ برعکس ہے: ممبئی کے ۲۰؍ فیصد مسلم طلبہ اردو میں پڑھ رہے اور ۸۰؍ فیصد انگریزی میں ہیں اور ان اکثر انگریزی اسکولوں کا معیار غیر معیاری ہے۔ اسلئے بچی کھچی اردو اسکولوں کا معیار بہتر کیسے ہو، اس پر گفتگو جاری رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK