• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاؤں کی جیپ میں مسافروں کو بٹھانے کیلئے سیٹ نہیں، گنجائش دیکھی جاتی تھی

Updated: October 05, 2026, 8:48 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

شہر جانے والی بڑی شاہراہ کو چھوڑ دیں تو گاؤں کی اکثر سڑکیں کچی ہوا کرتی تھیں۔ کہیں کہیں گٹیاں پڑی ہوتیں، مگر بیشتر راستوں کا حال یہ تھا کہ گرمیوں میں دھول اڑتی رہتی اور برسات آتے ہی وہی راستے کیچڑ سے بھر جاتے۔

The era of the Jeep, when far too many passengers would cram into a single vehicle, and the driver would steer while perched on just half the seat. Photo: INN
جیپ کا وہ زمانہ، جب ایک ہی گاڑی میں ضرورت سے زیادہ سواریاں بیٹھ جاتی تھیں، ڈرائیور آدھی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلاتا تھا۔ تصویر: آئی این این

ایک وقت تھا جب گاؤں میں سواری کے نام پر بیل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ یہی بیل گاڑیاں کھیتوں تک کھاد، بیج اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کا ذریعہ تھیں اور اگر کسی کو دور دراز رشتہ داری میں جانا ہو یا شہر کا رُخ کرنا ہو تو بھی یہی سواری کام آتی تھی۔ جن راستوں پر آج موٹر گاڑیاں دوڑتی ہیں، انہی راستوں پر کبھی بیل گاڑی کے پہیے آہستہ آہستہ گھوما کرتے تھے۔ ویسے اُس وقت کے لوگ سفر کے معاملے میں بڑے صابربھی ہوا کرتے تھے۔ کئی کئی میل کا فاصلہ پیدل طے کر لینا اُن کے لئے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ راستے میں کوئی باغ آ گیا تو درختوں کی چھاؤں میں کچھ دیر سستا لئے، پاس ہی کنواں مل گیا تو وہاں رکھی رسی بالٹی سے ٹھنڈا پانی نکال کر پی لیا اور پھر تازہ دم ہو کر منزل کی طرف چل پڑے۔ سفر میں نہ جلدی تھی، نہ راستے کی تھکن کا کوئی شکوہ۔ 
شہر جانے والی بڑی شاہراہ کو چھوڑ دیں تو گاؤں کی اکثر سڑکیں کچی ہوا کرتی تھیں۔ کہیں کہیں گٹیاں پڑی ہوتیں، مگر بیشتر راستوں کا حال یہ تھا کہ گرمیوں میں دھول اڑتی رہتی اور برسات آتے ہی وہی راستے کیچڑ سے بھر جاتے۔ ایسے میں پیدل چلنے والے کھیتوں کی مینڈ اور پگڈنڈیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ راستے بظاہر ٹیڑھے میڑھے تھے مگر منزل تک جلد پہنچا دیتے تھے۔ گاؤں کے لوگ جانتے تھے کہ کس کھیت کی مینڈ کہاں سے نکل کر کس باغ کے پاس پہنچتی ہے اور کون سی پگڈنڈی شہر جانے والے راستے سے جا ملتی ہے۔ 
پھر رفتہ رفتہ ترقی کے پہئے نے رفتار پکڑی۔ گاؤں کی زندگی میں بھی تبدیلی آنے لگی۔ شہر کے قریب آباد گاؤں تک سواری گاڑیاں پہنچنے لگیں۔ چنانچہ لوگوں کا سفر آسان ہونے لگا۔ جیپ نے ایک لمبے عرصے تک گاؤں سے شہر تک کی سڑکوں پر راج کیا۔ ٹیمپو کے مقابلے میں اس کی سواری زیادہ آرام دہ سمجھی جاتی تھی۔ گڑھے ہوں، چڑھائی ہو یا راستے میں کیچڑ، جیپ ہر راستے سےبہ آسانی گزر جاتی تھی۔ جیپ صرف سواری نہیں تھی، گاؤں کی تقریبات کا بھی اہم حصہ بن گئی تھی۔ خاص طور پر بارات میں اس کا خوب استعمال ہوتا تھا۔ شروع شروع میں تو دولہا بھی باراتیوں کے ساتھ اسی جیپ میں بیٹھ کر اپنی ہونے والی سسرال جاتا تھا۔ پھر وقت بدلا اور دولہے کیلئے الگ سے ماروتی کار منگوائی جانے لگی۔ 
لیکن اُس زمانے میں جیپ کی تعداد کم تھی اور سواریاں زیادہ۔ اسلئے جیپ میں سیٹوں کا حساب کتاب آج کے زمانے سے بالکل مختلف تھا۔ جتنی جگہ تھی، اس سے کہیں زیادہ لوگ بیٹھ جاتے تھے۔ پیچھے دو لمبی سیٹیں ہوا کرتی تھیں۔ اصولاً تو ان پر ۶؍ افراد آرام سے بیٹھ سکتے تھے، مگر آٹھ نو افراد کو بٹھانا معمول کی بات تھی۔ آگے ڈرائیور کے ساتھ دو آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی، مگر وہاں بھی تین، کبھی چار افرادبٹھا دیئے جاتے تھے۔ ڈرائیور بیچارا آدھی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلاتا اور کبھی کبھی جسم کا کچھ حصہ باہر کی طرف نکلا ہوتا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی تھی۔ پیچھے کے پائیدان پر بھی دو تین لوگ کھڑے ہو جاتے اور دائیں بائیں بنے پائیدان پر ایک ایک سواری کو جگہ مل جاتی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے جیپ نہیں، گاؤں کی پوری آبادی منزل کی طرف روانہ ہو رہی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: شعبدہ بازی کی سرکار: جو ترقی کاغذوں پر ہے وہ زمین پر دکھائی کیوں نہیں دیتی؟

مگر اس بھیڑ میں بھی ایک خوبصورت روایت زندہ تھی۔ اُس وقت سفر کرنے والے مرد حضرات خواتین کا خاص احترام کرتے تھے۔ اگر جیپ میں کوئی خاتون آ جاتیں تو اندر بیٹھا ہوا کوئی شخص فوراً اپنی نشست چھوڑ دیتا اور خود پائیدان پر کھڑا ہو جاتا۔ خاتون کو اندر بٹھایا جاتا اور وہ شخص راستے بھر کھڑے ہو کر سفر کرتا۔ آج کے دور میں شاید یہ معمولی بات لگے، مگر اُس زمانے کی یہی چھوٹی چھوٹی باتیں گاؤں کی تہذیب کا بڑا حصہ تھیں۔ 
پھر۱۹۹۰ء کے بعد مہندرا کی ’کمانڈر‘ جیپ آئی تو سفر میں کچھ اور آسانی پیدا ہوئی۔ اس میں جگہ نسبتاً زیادہ تھی۔ ڈرائیور اور پچھلے حصے کے درمیان ایک اضافی سیٹ بنا دی گئی تھی، جس سے چند مزید سواریاں بیٹھ جاتی تھیں۔ اُس وقت ’کمانڈر‘ کی اپنی ایک شان تھی۔ جیپ بُک کرانے والاسب سے پہلے یہی پوچھتا، ’کمانڈر‘ ہے؟اگر سامنے سے جواب ملتا، ہاں، ’کمانڈر ‘ہے تو گویابکنگ پکی سمجھ لی جاتی تھی۔ 
۱۹۹۴ء کے آس پاس ٹاٹا’سومو‘ لانچ ہوئی مگر اسے گائوں تک پہنچنے میں دو تین سال لگ گئے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سومو نے اپنی الگ پہچان بنا لی۔ بارات لے جانے کیلئے ’سومو‘ کو ترجیح دی جانے لگی۔ ’سومو‘ چھوٹے روٹ پر عام سواری گاڑی کے طور پر تو زیادہ نہیں چلتی تھی، لیکن اس کی بکنگ خوب ہوتی تھی، خاص طور پر شادی بیاہ کے موقع پر اس کی مانگ بڑھ جاتی۔ اس کے آنے کے ساتھ ہی گاؤں کی سڑکوں پر ایک نئے دور کا آغاز محسوس ہونے لگااور پھر وہ وقت بھی آیا جب جیپ، جو برسوں تک گاؤں کی سڑکوں کی ملکہ بنی رہی تھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگی۔ ’ سومو‘ نے اس کی جگہ لینا شروع کر دی۔ 
آج گاؤں کی سڑکوں پر ہر طرح کی گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ پکی سڑکیں ہیں، بسیں ہیں، موٹر سائیکلیں ہیں، کاریں ہیں اور سفر پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ مگر جیپ کا وہ زمانہ، جب ایک ہی گاڑی میں ضرورت سے زیادہ سواریاں بیٹھ جاتی تھیں، ڈرائیور آدھی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلاتا تھا، پائیدان پر بھی مسافر کھڑے رہتے تھے اور پھر بھی سب ایک دوسرے کیلئے جگہ بنا لیتے تھے، شاید اب صرف یادوں میں ہی باقی رہ گیا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی بہت سے گائوں میں یہ چلتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اب پائیدان پر کھڑےہوکر کوئی سفر نہیں کرتا ہے۔ 
سڑکیں بدل گئیں، سواریاں بدل گئیں، سفر کا انداز بدل گیا، مگر جیپ کے ہارن کی وہ آواز آج بھی نہ جانےکتنے لوگوں کو اپنے گاؤں کی کسی کچی سڑک، کسی پرانے بازار اور کسی بھولی بسری بارات کی یاد دلا دیتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK