کرلاکے ۸۳؍سالہ مامون رشید نے میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد۳۲؍سال تک مجگائوں ڈاک میں بحیثیت ٹیلی کلرک خدمات پیش کیں، ۱۹۹۲ء میں وہاں سے علاحدگی اختیار کرنے کے بعد گزشتہ ۳۴؍برسوں سے ٹورس اینڈ ٹراویلس سمیت کئی کاروبار کر چکےہیں ۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 9:43 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
کرلاکے ۸۳؍سالہ مامون رشید نے میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد۳۲؍سال تک مجگائوں ڈاک میں بحیثیت ٹیلی کلرک خدمات پیش کیں، ۱۹۹۲ء میں وہاں سے علاحدگی اختیار کرنے کے بعد گزشتہ ۳۴؍برسوں سے ٹورس اینڈ ٹراویلس سمیت کئی کاروبار کر چکےہیں ۔
کرلا، کپاڈیہ نگر کے ۸۳؍ سالہ مامون رشید کی پیدائش ۲۴؍ اگست ۱۹۴۴ء کوناگپاڑہ کے ٹیمکر اسٹریٹ میں ہوئی تھی۔ ٹیمکر اسٹریٹ میونسپل اُردو اسکول سے چوتھی اور ناگپاڑہ میونسپل اُردو سے سا تویں تک پڑھائی کرنے کے بعد صابو صدیق پالی ٹیکنیکل اسکول سے آگے کی پڑھائی کی۔ اس دوران ۱۹۵۵ءمیں والد کااچانک انتقال ہونے سے والدہ پر مالی پریشانی آگئی۔ ۳؍ بیٹے اور ۵؍بیٹیوں کی کفالت کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کابوجھ سنبھالنا مشکل تھا۔ بڑے بیٹے نے اپنی قوت کے مطابق والدہ اور بھائی بہنوں کا ساتھ دیا۔ اس کا اثر مامو ن رشید کی پڑھائی پر بھی پڑا۔ وہ میٹرک میں فیل ہوگئے، بعدازیں انہوں نے لیتھ مشین کے کارخانے میں یومیہ ڈیڑھ روپے پر مزدوری کرنے کے ساتھ ناگپاڑہ میونسپل نائٹ اسکول میں دوبارہ داخلہ لیا اور یہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے چند سال بھنڈی بازار پر واقع وزیر ہوٹل کے قریب ایک بُک اسٹا ل پر ملازمت کی۔ اس دوران انہیں مجگائوں ڈاک ( گودی) میں بحیثیت ٹیلی کلرک ملازمت کرنے کا موقع ملا۔ یہاں ۳۲؍ سال تک ملازمت کی۔ ۱۹۹۲ءمیں ڈاک سے علاحدگی اختیار کی۔ گزشتہ ۳۴؍سال میں وہ کئی کاروبار کر چکےہیں جن میں حج ٹورس اینڈٹراویلس کےعلاوہ جنرل اسٹور کا کاروبار شامل ہے۔ ۸۳؍سال کی عمر میں بھی صحتمند ہونے کے ساتھ پوری طرح سے فعال ہیں۔ مطالعہ کاشوق ہے۔ گزشتہ ۷۰؍برسوں سے انقلاب کے قاری ہیں ۔
مامون رشید جس دور میں ناگپاڑہ میونسپل اُردو اسکول میں زیر تعلیم تھے، ان کے ایک استاد جن کانام انصار جناب تھا، وہ انہیں نہیں بھولے ہیں۔ انصار جناب کی نصیحت اور شفقت کے زبردست قائل ہیں۔ وہ اسکول چھوٹ جانے کے بعد بھی اپنی جماعت کے بچوں کو اضافی ایک دوگھنٹے کلاس روم میں لے کر بیٹھتےتھےتاکہ پڑھائی کے ساتھ ان کی تربیت کی جاسکے۔ وہ بچوں سے کہتے تھے کہ ’’کبھی بھی اپنے آپ کو چھوٹا نہیں سمجھنا، ہمیشہ یہ سمجھنا کہ میں ہر مثبت کام کے لائق ہوں، کبھی ہمت نہیں ہارنا، پڑھائی کرتےرہنا، ہر چیلنج کیلئے خودکو تیاررکھنا، کبھی گھبرانا نہیں، خود اعتمادی کا دامن نہیں چھوڑنا‘‘ وہ ان خوبیوں کےذریعے اپنےطلبہ کو پُراعتماد اور مضبوط قوت ارادی کا مالک بناناچاہتےتھے۔ انصارجناب کی ۷۰؍سال پرانی نصیحتیں مامون رشید کواب بھی یاد ہیں۔
مامون رشید کی شادی۱۹۷۳ء میں ہوئی تھی۔ شادی کے بعدبھی ان کی اہلیہ پڑھنا چاہتی تھیں ۔ ان کی خواہش کے مطابق مامون رشیدنے ان کا نام کالج میں لکھوایا اور انہیں پڑھنے کی اجازت دی۔ اس دورمیں ایک ادارہ اُردو میڈیم کے طلبہ کو انگریزی بول چال سکھانے کیلئے سرگرم تھا۔ اسی ادارے کی جانب سے ناگپاڑہ نیبرہڈ ہائوس میں ’ لٹل نالیج از ڈینجرس تھنگس‘ کےعنوان سے ایک پروگرا م کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں مامون رشیدکی اہلیہ نے بھی حصہ لیا تھا۔ انہیں مذکورہ پروگرام میں حصہ لینےکیلئے مامون رشیدنے بڑی محنت کرکے تیار کیا تھا۔ پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر دلیپ کمار نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر مامون رشید کی اہلیہ نے مذکورہ عنوان پر انگریزی میں بہترین تقریر کی تھی جس کی بنا پر انہیں دلیپ کمار کے ہاتھوں اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ یہاں پر مامون رشید نے دلیپ کمار کو قریب سے دیکھا اور سنا تھا۔ انہوں نےانگریزی اور اُردو میں بہترین تقریر کی تھی۔ شرکاء انہیں ہمہ تن گوش سن رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہاشمیہ اسکول کے ایک پروگرام میں سنیل دت نے خالص اُردو میں تقریر کی تھی‘‘
حج ٹورس اینڈ ٹراویلس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مامون رشید نے تقریباً ۷؍ سے ۸؍ حج کئے ہیں ۔ اس دوران ۱۵؍اپریل ۱۹۹۷ء کو مکہ کے قریب منیٰ کے خیمے میں لگنے والی بھیانک آگ کے خوفناک مناظر، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ حادثے میں تقریباً ۳۰۰؍ عازمین جاں بحق اور ایک ہزار ۳۰۰؍ زخمی ہوئے تھے۔ آگ کے بلند شعلے آسمان کی جانب اُٹھ رہے تھے۔ افراتفری کا ماحول تھا۔ جو عازمین چل نہیں سکتے تھے، وہ جان بچانے کیلئے پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہےتھے۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ٹور آرگنائز رہونے کے باوجود اپنے عازمین کی انہیں خبر نہیں تھی کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اپنی آنکھوں سے لوگوں کو دم توڑتے دیکھ کر ان کی روح تڑپ رہی تھی لیکن وہ ان کی مدد نہیں کر پا رہےتھے۔ اس کا انہیں شدید رنج ہے۔ وہاں کی تباہی اور بربادی کے مناظر کے علاوہ عازمین کی چیخ پکار کا تصور ان کے دل و دماغ پر مہینوں طاری رہا۔
مامون رشید جس دور میں صابو صدیق اسکول میں زیرتعلیم تھے، پنڈت جواہر لال نہر و کسی شعبے کے افتتاح کیلئےآئے تھے۔ ان کے استقبال کیلئے طلبہ کو صابو صدیق اسکول کی راہداری میں قطار سے کھڑا کیا گیا تھا، جن میں مامون رشید بھی موجود تھے۔ جواہر لال نہرو کی آمد پر طلبہ نے ان کا پُرجوش استقبال کیا تھا۔ نہرو کو قریب سے دیکھ کر مامون رشید ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ وہ طلبہ کے استقبال کا ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے تھے۔ جواہر لال نہرو نے خالص اُردو میں تقریر کی تھی۔ طالب علمی کے دور میں بھی مامون رشید کا ذہن تیز تھا اور وہ سوال کرتے تھے۔ جواہر لال نہرو کا قافلہ جےجے جنکشن کی جانب سے جس راستے سے صابوصدیق اسکول پہنچاتھا، وہ ون وے تھا، جس پر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ نہرو جی کاقافلہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیوں آیا ؟ قانون تو سب کیلئے ایک ہونا چاہئے۔
مامون رشید نے ۱۹۶۷ء میں موت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اس دور میں وہ جاورا والا بلڈنگ، ٹیمکراسٹریٹ میں رہائش پزیر تھے۔ اس۴؍منزلہ بلڈنگ کی مرمت کا کام جاری تھا۔ وہ چوتھی منزل پر رہتے تھے۔ اچانک ان کی بلڈنگ منہدم ہوگئی۔ حادثے کے وقت گھر میں ان کے ساتھ ان کی بھتیجی اور اس کا بچہ گود میں تھا۔ بلڈنگ گرتے ہی سب کچھ سیکنڈوں میں مسمار ہوگیا۔ چوتھی منزل سے گرنے والا ملبہ متصل عمارت کی دوسری منزل کےقریب پہنچ کر رک گیا تھا۔ خوش قسمتی سے مامون رشید ایک پلائی ووڈ کی آڑ کی وجہ سے ملبے کے بوجھ سے محفوظ رہے اور ان کے اُوپر چھت کی لکڑی والا فریم اور کویلو کا معمولی بوجھ ہی تھا۔ حادثے کی وجہ سے وہ گھبرائے ضرور تھے، اس کے باوجود انہوں نے ہمت سے کام لیا، انہیں ملبے میں ہلکی روشنی دکھائی دی۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے ہمت کرکے ملبے کو ہٹایا، جس سے روشنی اور بڑھی، اطراف کا ملبہ صاف کرنے پر انہیں متصل عمارت کی دوسری منزل کی ایک کھڑکی بالکل قریب دکھائی دی۔ وہ کوشش کرکے ملبے کے باہر آئے اور اسی کھڑکی کے ذریعے بلڈنگ میں پہنچ گئے۔ اس طرح ان کی توجان بچ گئی البتہ ان کی بھتیجی کی گودمیں جو معصوم بچہ تھا، وہ نہیں بچ سکا۔ بعد میں انہیں پتہ چلاکہ حادثے میں ۷؍افرادکی جانیں تلف ہوئیں ۔ آج بھی اس حادثے کے بارے میں سوچتے ہیں توان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔