• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہاشمیہ اسکول کے ایک پروگرام میں سنیل دت نے خالص اُردو میں تقریر کی تھی‘‘

Updated: September 28, 2026, 9:21 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

مدنپورہ کے۷۶؍سالہ محمد یاسین درگاہی ایک ہی اسکول میں ۳۳؍سال تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے لیکن تعلیمی سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ۱۹؍ برسوں سے کوچنگ کلاس میں ریاضی پڑھارہےہیں اور ’دی مالیگاؤں سوسائٹی آف ایجوکیشن‘ سے بھی وا بستہ ہیں ۔

Muhammad Yasin Muhammad Ismail Dargahi. Photo: INN.
محمد یاسین محمد اسماعیل درگاہی۔ تصویر: آئی این این

مدنپورہ، سانکلی اسٹریٹ میں قیام پزیر ۷۶؍ سالہ محمد یاسین محمد اسماعیل درگاہی کی پیدائش، یکم جون ۱۹۵۰ء کو مالیگائوں کے اسلام پورہ میں ہوئی تھی۔ مالیگائوں ضلع پریشد اسکول نمبر ایک سے ساتویں اور اے ٹی اے ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعدازیں ممبئی کے جوگیشوری میں واقع اسماعیل یوسف کالج سے بی ایس سی مکمل کیا۔ گریجوکیشن کر کے مالیگائوں میں ایک سال مقامی اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ اس دوران بی ایڈ کی پڑھائی جاری رکھی۔ بی ایڈ کر کے جنوبی ممبئی کے محمد علی روڈ علاقے میں واقع ہاشمیہ اُردو ہائی اسکول سے بحیثیت معلم عملی زندگی کا آغاز کیا۔ محمد یاسین کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہوں نے ۸؍جولائی ۱۹۷۵ء سے ۳۰؍جون ۲۰۰۸ء تک اسی ادارہ میں متواتر ۳۳؍سال تدریسی خدمات پیش کیں اور بحیثیت سپروائزر سبکدوش ہوئے۔ ۲۰۰۸ءسے بھنڈی بازار کے تاج کوچنگ کلاسز سے وابستہ ہیں ۔ گزشتہ ۱۹؍سال سے وہاں ریاضی پڑھا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ۱۹۸۰ء سے ’دی مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن ‘ سے بھی وابستہ ہیں ۔ 
محمد یاسین طالب علمی کے زمانے کی ایک بات نہیں بھولتے ہیں۔ ضلع پریشد اسکول میں ان کے ایک استادتھے جن کا نام نورالہدیٰ تھا۔ انہوں نے پانچویں سے ساتویں جماعت تک محمد یاسین کو پڑھایا تھا۔ طلبہ میں نماز پڑھنے کا شوق پیدا کرنے کیلئے، انہوں نےایک اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت طلبہ سے کہا تھا کہ جو نماز کی پابندی کرے گا، انہیں سالانہ امتحان میں اضافی ۲۵؍مارکس دیئے جائیں گے۔ ان کی یہ ترکیب کارگر ثابت ہوئی۔ کلاس کے بیشتر بچوں نے ۲۵؍ نمبرات کیلئے نماز پڑھنی شروع کردی، جس کا یہ فائدہ ہوا کہ کلاس کے زیادہ تر بچے نماز پڑھنے لگے۔ محمد یاسین بھی ان میں سے ایک ہیں ۔ اس دور میں انہوں نے نماز پڑھنا شروع کیا تھا، جو اب بھی پابندی سے جاری ہے۔ آج بھی جب کبھی نور الہدیٰ جناب کا خیال آتا ہے، ان کی آنکھیں بھرآتی ہیں ۔ 
محمدیاسین کو استاد اور طالب علم کے مثالی جذباتی رشتے کے کئی واقعات یاد ہیں لیکن ۲۰۰۲ء میں اہل خانہ کے ہمراہ حج کر کے ممبئی لوٹتے وقت جدہ ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعےکو نہیں بھولتے ہیں۔ کسٹم آفیسر نے سامان زیادہ ہونے کی بنا پر، اضافی ڈیوٹی ادا کرنے کیلئے کہا، ان کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھاکہ کیا کریں ؟ اس دوران ایک نوجوان نے آکر دریافت کیا کہ سر کیا ہوا؟ آپ پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ میں آپ کاطالب علم ہوں، بتائیے کیاخدمت کروں ؟ جبکہ محمدیاسین اُسے نہیں پہچان پارہےتھے۔ نوجوان کے اصرار کرنےپر محمدیاسین نے پورا احوال بیان کیا۔ نوجوان نے پوچھا کون آفیسر ہے، محمدیاسین کی نشاندہی پر نوجوان نے آفیسر کو دیکھنے کے بعد سر سے کہا، وہ آفیسر ایماندار ہے، اس نے جو کہاہے، اس پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اضافی ڈیوٹی کی رقم اپنی جیب سے ادا کی اور سر سے کہا کہ آپ کا کام ہوگیا، پریشان نہ ہوں ۔ نوجوان کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر، محمدیاسین نے نوجوان سے ا س کا نام اورممبئی کا پتہ پوچھا، لیکن اس نے انہیں نام اور پتہ نہیں بتایا۔ وہ کہہ رہا تھاکہ سر، میں جس مقام پر ہوں ، وہ آپ کی دی ہوئی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے۔ اگر میں نام اور پتہ بتا دوں گا تو آپ ممبئی پہنچ کرمذکورہ رقم لوٹا دیں گے۔ وہ نوجوان ایئر پورٹ پر برسرکار تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی یومِ سیاحت: سفر ایک ایسا استاد ہے جو کلاس روم سے باہر نکل کر سبق دیتا ہے

محمدیاسین نے زندگی میں ایک مرتبہ موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ تفریح کیلئے کشمیر گئے تھے۔ سری نگر اور گل مرگ وغیرہ کی سیر کے بعد، سون مرگ گھومنے گئے تھے۔ سون مرگ کی خوبصورت پہاڑیوں اور وادیو ں کا نظارہ کرنے کیلئے، وہ گاڑی سے گئے تھے۔ وہاں سے واپسی کے وقت ان کی گاڑی جس راستے سے لوٹ رہی تھی، عین ان کی گاڑی کے سامنے ایک بڑی گاڑی آگئی۔ زمین سے تقریباً ۲۰۰؍ فٹ کی اُونچائی پر، اس تنگ راستے سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی ہی گزر سکتی تھی۔ ایسے میں دونوں ہی گاڑیوں کیلئے مسئلہ تھا۔ ذرا سی غفلت جان لیوا ہوسکتی تھی۔ ایسے میں ان کی گاڑی کے ڈرائیور نے بڑی ہشیاری اور حکمت سے اپنی گاڑی تقریباً آدھا کلو میٹر پیچھے کی جانب لی۔ وہاں ایک مقام پر گاڑی کو ایک طرف لگانے کی گنجائش دکھائی دی۔ ڈرائیور نے گاڑی کو ایک جانب لگایا، تب کہیں جاکر دوسری سمت سے آنے والی بڑی گاڑی کیلئے جانے کا راستہ ہموار ہوا۔ اس واقعہ کے بارے میں سوچ کر ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ 
ہاشمیہ ہائی اسکول میں ایک مخصوص شعبے کےقیام پر، اس کے افتتاح کیلئے اس دو ر کے کانگریس پارٹی کے سینئر اور اعلیٰ لیڈ ر ڈاکٹر منموہن سنگھ کو مدعو کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ کانگریس پارٹی کی سینئر لیڈر نجمہ ہپت اللہ اور سنیل دت بھی آئے تھے۔ اس موقع پر منموہن سنگھ نے خالص اُرد و میں تقریر کی تھی۔ ان کے علاوہ سنیل دت نے اپنی تقریر سے قبل اُردو زبان و ادب سے متعلق ایک اہم جملہ کہاتھا۔ پروگرام کی نظامت اسکول کے سینئر معلم محمد رضوان خان کر رہے تھے۔ ان کی نظامت سے متاثر ہو کر سنیل دت نے کہا تھا کہ’’آج بہت دنوں بعد اچھی اُردو سننے کو ملی ہے، اب میں بھی خالص اُردو میں تقریر کروں گا۔ ‘‘اس کے بعد انہوں نے اُردو میں بڑی اچھی تقریر کی تھی۔  
ایک مرتبہ برلا کریڈا کیندر میں ہاشمیہ اُردو اسکول کے ایک پروگرام میں فلم اداکار دلیپ کمار نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ اتفاق سے وہ پروگرام کے مقررہ وقت سے پہلے ہال میں پہنچ گئے تھے جبکہ پروگرام شروع ہونے میں کچھ وقت تھا۔ اس کے باوجود بڑے جوش و خروش سے پروگرام میں حصہ لیا۔ مہمانوں کی خاطر تواضع کی ذمہ داری محمد یاسین کو سونپی گئی تھی۔ اس موقع پر دلیپ کمارکی خدمت کا بھی موقع ملا تھا۔ 
محمدیاسین کوفلم دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ فرسٹ ڈے فرسٹ شو دیکھنے کے حامی تھے لیکن ایک ایسا واقعہ ہواجس کےبعد انہوں نے ہمیشہ کیلئے فلم دیکھنا چھو ڑ دیا۔ اس کے بعد کبھی ہال میں فلم دیکھنے نہیں گئے۔ ۱۹۷۷ء کی بات ہے، اتوار کا دن تھا۔ اپنے چند دوستوں کے ساتھ باندرہ کے جیمنی، گیٹی، گلیکسی میں فلم دیکھنے گئے تھے۔ ٹکٹ فل ہونے کی وجہ سے بلیک میں ٹکٹ خریدی۔ فلم دیکھنے کے دوران جیب کے ہلکا ہونے کا احساس ہوا۔ پاکٹ میں رکھے ۳۰۰؍ روپے کسی نے مار لئے تھے۔ اس دور میں ۳۰۰؍روپے کی بڑی اہمیت تھی۔ یہ رقم ٹیوشن پڑھانے کے عوض ۲؍مہینےکی پیشگی فیس کے طور پر ملی تھی۔ اس واقعہ کے بعد سنیما ہال میں جاکر فلم دیکھنے سے توبہ کرلی اور پھر کبھی فلم دیکھنے نہیں گئے۔ محمد یاسین اپنے ۳؍ طلبہ کو نہیں بھولے ہیں۔ یہ وہ ہیں، جنہوں نے محمد یاسین کو آٹھویں ، نویں اور دسویں جماعت میں اپنا کلاس ٹیچر بنانے کیلئے خاص منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ تینوں ہر سال اسکول کے پرنسپل سے محمدیاسین کو کلاس ٹیچر بنانے کی سفارش کرتے تھے۔ ان کی سفارش پر پرنسپل، محمدیاسین کو ان کا کلاس ٹیچر بناتے تھے۔ یہ تینوں آج کامیاب کریئر بنا کر خوش حال زندگی بسرکر رہے ہیں ۔ ان میں فضل احمد نامی طالب علم، جس نے بی ای کیا تھا، امریکہ میں برسرروزگار ہے۔ ڈاکٹر نصیر الدین خان ایک کامیاب کارڈیولوجسٹ کے طور پر طبی خدمات پیش کر رہے ہیں اور تیسرا طالب علم نثار احمد بھی کامیاب کاروباری ہیں۔ ان تینوں نے دسویں پاس کرنے کے بعد محمد یٰسین سے یہ راز افشا کیا تھا کہ وہ ہر سال انہیں کلاس ٹیچر بنانے کیلئے پرنسپل سے سفارش کرتےتھے کیونکہ آپ کی پڑھائی کے طریقہ کار سے ہم تینوں بہت متاثر تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK