کیا مستقبل کے اسکولوں میں استاد کی ضرورت کم ہو جائے گی؟کیا طالب علم کتاب اور استاد کے بجائے صرف اے آئی پر انحصار کریں گے ؟اِن سوالات کا جواب تلاش کرنا آج کے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 9:51 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
کیا مستقبل کے اسکولوں میں استاد کی ضرورت کم ہو جائے گی؟کیا طالب علم کتاب اور استاد کے بجائے صرف اے آئی پر انحصار کریں گے ؟اِن سوالات کا جواب تلاش کرنا آج کے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ہم ایک ایسے دَور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں علم صرف کتابوں، لائبریریوں اور کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا۔ آج ایک طالب علم اپنے موبائل فون پر دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود معلومات تک چند سیکنڈ میں رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے تعلیم، تحقیق، روزگار، صنعت، طب، تجارت اور زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سوال کا جواب دے سکتی ہے، مضمون لکھ سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کر سکتی ہے، تصویر بنا سکتی ہے، زبان سکھا سکتی ہے اور طالب علم کی تعلیمی ضروریات کے مطابق مواد بھی تیار کر سکتی ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑاہے کہ جب ایک مشین اتنا کچھ کر سکتی ہے تو اُستاد کہاں کھڑا ہے؟کیا مصنوعی ذہانت استاد کی جگہ لے لے گی؟ کیا مستقبل کے اسکولوں میں استاد کی ضرورت کم ہو جائے گی؟کیا طالب علم کتاب اور استاد کے بجائے صرف اے آئی پر انحصار کریں گے ؟اِن سوالات کا جواب تلاش کرنا آج کے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اُستاد اور مصنوعی ذہانت:
مقابلہ یا تعاون ؟
مصنوعی ذہانت کو استاد کا حریف سمجھنا شاید بڑی غلطی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اے آئی استاد کی جگہ لینے کے بجائے استاد کے کردار کو تبدیل کر رہی ہے۔ ایک اچھا استاد صرف معلومات فراہم نہیں کرتا وہ طالب علم کو یہ سمجھاتا ہے کہ معلومات میں سے صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، علم کو زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے، ناکامی کا سامناکیسے کرنا ہے، دوسروں کا احترام کیسے کرنا ہے اور ایک اچھا انسان کیسے بننا ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کر سکتی ہے، لیکن معلومات کو حکمت میں تبدیل کرنا اُستاد کا کام ہے۔ اے آئی جواب دے سکتی ہے، مگر سوال پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا استاد کا کام ہے۔ اے آئی مضمون لکھ سکتی ہے، مگر طالب علم کو سوچنا، محسوس کرنا اور اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بیان کرنا استاد سکھاتا ہے۔ اے آئی حساب کر سکتی ہے، مگر زندگی کے فیصلوں میں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانا استادکیلئے ہی ممکن ہے، غرض کہ زندگی کی ریاضی صرف اُستاد ہی سمجھا سکتا ہے۔
اُستاد کا اصل مقام کہاں ہے؟
استاد کا اصل مقام، معلومات دینے والے شخص کے طور پر نہیں بلکہ انسان بنانے والے رہنما کے طور پر ہے۔ ماضی میں استاد علم کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ طالب علم کے پاس معلومات حاصل کرنے کے محدود ذرائع تھے۔ استاد پڑھاتا، کتابیں تجویز کرتا اور سوالات کے جواب دیتا تھا۔ آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔ معلومات ہر جگہ موجود ہیں ، یوٹیوب، گوگل، ڈیجیٹل کتابیں اوراے آئی ٹولز طالب علم کو بے شمار معلومات فراہم کر سکتے ہیں لہٰذا آج استاد کی اہمیت معلومات کی مقدار میں نہیں بلکہ، رہنمائی، تربیت، کردار سازی اور فکری رہبری میں ہے۔ استاد کے لیے مستقبل کا راستہ ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نیا راستہ کھلا ہے۔ ماضی کا استاد شاید علم کا مرکز تھا۔ آج کا استاد علم کا رہنما ہے اور مستقبل کا استاد، علم ٹیکنالوجی اخلاق اور انسانیت کے درمیان پُل ہوگا۔ مصنوعی ذہانت شاید ایک دن ہزاروں کتابیں پڑھ لے، لاکھوں سوالوں کے جواب دے دے اور سیکنڈوں میں پیچیدہ مسائل حل کر دے مگر ایک استاد کی اصل طاقت اس کے علم سے زیادہ اس کے انسان ہونے میں ہے، کیونکہ مشین ذہانت دے سکتی ہے، مگر انسانیت نہیں۔ مشین جواب دے سکتی ہے، مگر حکمت نہیں۔ مشین معلومات دے سکتی ہے، مگر کردار نہیں۔ مشین سبق دے سکتی ہے مگر زندگی نہیں سکھا سکتی۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت کے دَور میں استاد کہیں پیچھے نہیں کھڑا ہے بلکہ وہ ایک نئے مقام پر کھڑا ہے۔ طالب علم اور ٹیکنالوجی کے درمیان رہنما بن کر، علم اور حکمت کے درمیان پُل بن کر اور سب سے زیادہ انسان اور انسانیت کے محافظ بن کر۔
اے آئی شاید بہترین معلومات فراہم کرنے والا معاون بن جائے، لیکن بہترین انسان بنانے والا استاد ہی رہے گا، اور آنے والے دَور کا سب سے کامیاب استاد وہ نہیں ہوگا جو اے آئی سے مقابلہ کرے گا بلکہ وہ ہوگا جواے آئی کو اپنا معاون بنا کر اپنی انسانیت، اپنی بصیرت اور اپنی تدریسی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: آلودہ اشیائے خور و نوش کے سبب اموات میں اضافہ
اُستاد معلومات سے زیادہ
بصیرت دیتا ہے
مصنوعی ذہانت کسی سوال کا جواب دے سکتی ہے لیکن ہر جواب لازماً درست، موزوں یا اخلاقی ہوگا یہ ضروری نہیں۔ طالب علم کو یہ سیکھنا ہوگا کہ : (الف) کون سی معلومات قابل اعتماد ہے؟(ب)کون سی معلومات غلط یا گمراہ کن ہے؟(ج) کس معلومات کو قبول کیا جائے؟(د)کس معلومات پر سوال اٹھایا جائے؟ (و) معلومات کو کس مقصد کیلئے استعمال کیا جائے؟ یہی تنقیدی سوچ ہے، اور اِسے پیدا کرنے میں استاد کا کردار بنیادی ہے۔
اُستاد کردار سازی کرتا ہے
مصنوعی ذہانت ذہین ہو سکتی ہے مگر اس کے پاس انسانی ضمیر نہیں۔ وہ طالب علم کو بتا سکتی ہے کہ کامیابی کیسے حاصل کی جائے، مگر یہ فیصلہ انسان کو خود کرنا ہوگا کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے کون سا راستہ اختیار کیا جائے، استاد طالب علم کو سکھاتا ہے:سچائی، دیانت داری، ذمہ داری، ہمدردی، برداشت، احترام، خوفِ خدا، نظم و ضبط اور انسانیت۔ یہ وہ اقدار ہیں جنہیں کوئی مشین مکمل طور پر انسانی تجربے کا متبادل بنا کر نہیں دے سکتی۔
اُستاد جذبات کو سمجھتا ہے
ہر طالب علم صرف ایک ’ڈیٹا‘ نہیں ہے، کسی طالب علم کی کارکردگی خراب ہو سکتی ہے کیونکہ وہ پریشان ہے، کوئی طالب علم کلاس میں خاموش ہو سکتا ہے کیونکہ وہ خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہے۔ کوئی طالب علم بار بار ناکام ہو سکتا ہے مگر اس کے اندر غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایک حسّاس استاد طالب علم کی آنکھوں، خاموش رویے اور جذبات سے بہت کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اے آئی طالب علم کے جواب کا تجزیہ کر سکتی ہے، لیکن انسانی تعلق کی گہرائی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔
اُستاد حوصلہ دیتا ہے
زندگی میں بعض اوقات ایک جملہ انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے:’’مجھے تم پر یقین ہے۔ ‘‘ایک استاد کا یہ جملہ کسی ناکام طالب علم کو دوبارہ کھڑا کر سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت مشورہ دے سکتی ہے، لیکن استاد کی شخصیت، تجربہ، شفقت اور انسانی تعلق طالب علم کے دل پر ایک الگ اثر ڈالتا ہے۔ ایک اچھا اُستاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، بلکہ طالب علم کو اپنے آپ پر یقین کرنا سکھاتا ہے۔
استاداے آئی کے صحیح استعمال کا رہنما ہوگا
مستقبل میں اُستاد کا ایک اہم کردار یہ بھی ہوگا کہ وہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال سکھائے۔ طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ:
(الف) اے آئی سے مدد لینا اور نقل کرنا ایک ہی چیز نہیں۔
(ب)اے آئی کے ہر جواب کو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
(ج) اے آئی سے حاصل شدہ معلومات کی تصدیق ضروری ہے۔
(د)اپنی تخلیقی صلاحیت کو اے آئی کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔
(و) ذاتی اور حسّاس معلومات اے آئی کے ساتھ شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
(ہ) تعلیمی کام میں اے آئی کے استعمال کی حدود اور اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اس طرح استاد اے آئی استعمال کرنے والے طالب علم کو اے آئی کو سمجھنے والا اور اُس کا مثبت و مفید استعمال کرنے والاطالب علم بنا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے کلاس روم میں اُستاد کے مقام پر گفتگو جاری رہے گی۔