مرکزی حکومت کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کئے جانے کے معاملے نے جہاں معاشی اعداد و شمار کی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں وہیں غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں کے ذریعے ملک کی حقیقی معاشی صورتِ حال اور عام آدمی کی مشکلات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ الزام بار بار دہرایا جارہاہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹرس کی شناخت نہیں، بلکہ انہیں فہرست سے نکالنا ہے۔ تصویر: آئی این این
مرکزی حکومت کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کئے جانے کے معاملے نے جہاں معاشی اعداد و شمار کی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں وہیں غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں کے ذریعے ملک کی حقیقی معاشی صورتِ حال اور عام آدمی کی مشکلات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے امریکہ میں اقلیتوں کے حوالے سے دیے گئے بیان نے بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ملک میں جاری ایس آئی آر مہم کے دوران اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے نام ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر خارج کیے جانے کے الزامات نے انتخابی عمل کی غیر جانب داری اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کی آزادانہ سوچ اور سوال کرنے کے حق پر بڑھتی ہوئی پابندیوں تشویش کا اظہار کرنے والے سپریم کورٹ کےجج کے بیان پر بھی اخبارات نے اداریے لکھے ہیں۔
اعداد و شمار کی ہیرا پھیری کا پردہ فاش ہوا
لوک ستہ( مراٹھی، ۳؍ستمبر)
’’انگریزی کی ایک معروف ضرب المثل ہے کہ کھیر کے ذائقے کی اصل پرکھ اسے چکھنے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ معاشی رفتار کے تازہ اعداد و شمار پر چھڑنے والی نئی بحث اسی مثل کی یاد دلاتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی معیشت نے ۸۔ ۷ ؍فیصد کی شاندار شرح سے ترقی کی ہے۔ اگرچہ حکومت کو معاشی گھوڑا سرپٹ دوڑتا محسوس ہو رہا ہے مگر بڑا سوال یہ ہے کہ کیا زمینی حقیقت میں بھی عام آدمی کو اس خوشحالی کا ذائقہ چکھنے کو مل رہا ہے۔ حکومت کے ان فلک شگاف دعوؤں کی قلعی محض سیاسی مخالفین نے نہیں بلکہ خود حکومت کے سابق فائنانس سیکریٹری سبھاش چندر گرگ نے اتاری ہے۔ گرگ موجودہ حکومت ہی کے مقرر کردہ اعلیٰ ترین بیوروکریٹ رہے ہیں اور وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ساتھ کام کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ جب ان جیسا باخبر اور مستند معاشی ماہر خود حکومت ہی کے اعداد و شمار سے حکومتی دعوؤں کی دھجیاں اڑائے تو اس پر آنکھیں بند کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پچھلے سال بھی معاشی شرح نمو ۸۔ ۷؍فیصد ہی بتائی گئی تھی جسے بعد میں ترمیم کرکے گھٹاکر۹۔ ۶؍فیصد کر دیا گیا۔ حکومت کا یہ پرانا طریقہ کار رہا ہے۔ اسلئے موجودہ اعداد و شمار پر بھی شک پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ گرگ نے اعداد و شمار کی جس ہیرا پھیری کا پردہ چاک کیا ہے وہ معاشی حلقوں کے لیے چشم کشا ہے۔ گزشتہ سال جی ڈی پی کا ابتدائی تخمینہ ۸۶؍ لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا تھا جسے حکومت نے خاموشی سے گھٹا کر ۸۰؍ لاکھ کروڑ روپے کی بنیاد پر لا کھڑا کیا۔ اب اس گھٹی ہوئی بنیاد پر جب ۸۔ ۷ فیصد کی ترقی کا موازنہ کیا جاتا ہے تو مجموعی پیداوار ۸۸؍ لاکھ کروڑ بنتی ہے جو ۸۰؍ لاکھ کروڑ کے مقابلے میں ۱۰؍ فیصد کا بظاہر بڑا اچھال لگتی ہے۔ اگر پچھلے سال کے حجم کو گھٹا کر ۸۰؍ لاکھ کروڑ نہ کیا گیا ہوتا تو موجودہ اضافہ بمشکل دو لاکھ کروڑ روپے یعنی محض دو سے ڈھائی فیصد کی سست رفتار ترقی بنتا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیا سعودی، ترکی اور پاکستان مکہ معاہدہ میں ایران کو بھی شامل کر سکتے ہیں؟
موہن بھاگوت کا امریکہ میں ڈھونگ
سامنا( مراٹھی، ۳۱؍اگست)
’’سیاست میں قول و فعل کا تضاد کوئی نئی بات نہیں لیکن جب یہ تضاد بین الاقوامی سطح پر دانستہ فکری لبادہ اوڑھ لے تو اس کی قلعی کھولنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی ازبکستان کے دورے پر ہیں تو دوسری جانب آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نیویارک میں اپنی موجودگی درج کرا رہے ہیں۔ دورۂ امریکہ کے دوران موہن بھاگوت کو جس سخت عوامی مزاحمت اور شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دراصل مودی اور امیت شاہ کے اس متعصبانہ سیاسی مزاج کے خلاف ردِعمل ہے جس نے عالمی برادری میں ہندوستان کے جمہوری تشخص کو داغدار کیا ہے۔ مہاتما گاندھی کے نام لیواؤں نے جب امریکہ میں قاتلوں کی سرزمین پر آمد نامنظور کے نعرے لگائے اور خود وہاں کی ہندو تنظیموں نے یہ واضح کیا کہ بھاگوت یا سنگھ ان کے نمائندے نہیں ہیں تو فسطائیت کی نمائندگی کرنے والوں کے چہروں سے اعتدال پسندی کا نقاب اتر گیا۔ سب سے دلچسپ پہلو سرسنگھ چالک کا وہ پینترا ہے جو انہوں نے امریکی سر زمین پر اختیار کیا۔ نیویارک کے اسکان مندر میں بے گھر افراد کو کھانا تقسیم کرنے کے بہانے انہوں نے جو کرشن بھاؤنا اور وحدتِ انسانیت کا راگ الاپا وہ ہندوستان میں ان کے اپنے اندھے بھکتوں اور کٹر حامیوں کے حلق سے بھی نہیں اترے گا۔ بھاگوت صاحب فرماتے ہیں کہ ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو بھارت میں نہیں رہنا چاہیے تو وہ ہندو ہی نہیں ‘ اور یہ کہ’تمام راستے بھگوان ہی کی طرف جاتے ہیں۔ ‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی درس وہ ناگپور کے شاکھاؤں اور اتر پردیش کے انتخابی اکھاڑوں میں دیتے ہیں ؟ بھارت کے اندر اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی منظم کوششیں اور بیرونِ ملک جا کر رواداری کا یہ سستا ڈھونگ یہ کھلا منافقانہ رویہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ‘‘
ایس آئی آر ایک جمہوریہ المیہ بن گیا ہے
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۴؍ستمبر)
’’جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا کے چار پولنگ بوتھوں کا تنازع بظاہر ایک محدود سا واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اس گہری سیاسی اور انتظامی خامی کا پردہ چاک کرتا ہے جس نے ملکی انتخابی عمل کی ساکھ کو مشکوک بنا دیا ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر جو کچھ چل رہا ہے وہ جمہوری نظام کے بنیادی حق یعنی حقِ رائے دہی پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ گوڈا میں انتخابی اہلکاروں اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان کھچاؤ اور برسراقتدار پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے نام خارج کروانے کیلئے تھوک کے حساب سے ’فارم ۷‘داخل کرنے کا رجحان اس تلخ خدشہ کو سچ ثابت کرتا ہے کہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات کو منظم سازش کے تحت ووٹر فہرستوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کے ناموں پر کلہاڑی چلائی گئی ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو نسلوں سے اسی سرزمین پر آباد ہیں۔ تمام قانونی دستاویزات رکھتے ہیں اور دہائیوں پرانی انتخابی فہرستوں کا حصہ رہے ہیں۔ محض اخباری رپورٹ کے بعد روایتی انکوائری بٹھا دینے سے اس گہرے ساختی مرض کا علاج ممکن نہیں۔ ریاستوں میں ایس آئی آر کی مہم اب ووٹر لسٹوں کی درستگی کے بجائے کمزور طبقے کو خوفزدہ اور ہراساں کرکے ان کے ووٹ کا حق چھیننے کا پروانہ بن چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر کو پہلے ہی مشکوک اور مجرم سمجھ لیا جاتا ہے اور ثبوت فراہم کرنے کا سارا بوجھ غریب شہریوں کے ناتواں کاندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ ایسے نایاب کاغذات کا مطالبہ ناممکن حد تک مختصر مہلت اور غیر لچکدار بیوروکریسی کا رویہ اس پورے عمل کو ایک کڑی سزا میں تبدیل کر چکا ہے۔ ملک بھر میں اب تک ۱۳؍ کروڑ ناموں کا خارج ہونا کوئی معمولی شماریاتی ہندسہ نہیں بلکہ ایک جمہوری المیہ ہے۔ ‘‘
تعلیمی نظام کے مردہ ضمیر پر ایک دستک
نو بھارت( ہندی، ۲؍ستمبر)
’’سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجول بھوئیاں کا نیشنل لاء یونیورسٹی دہلی کے کانووکیشن کے موقع پر دیا گیا یہ بیان کہ ’طلبہ کے خلاف محض سوال پوچھنے، اختلافِ رائے رکھنے یا الگ زاویۂ نظر اپنانے پر تادیبی کارروائی غیر آئینی اور طاقت کا صریح غلط استعمال ہے‘دراصل ہمارے تعلیمی نظام کے مردہ ضمیر پر ایک بروقت دستک ہے۔ انہوں نے نہایت دو ٹوک انداز میں باور کرایا ہے کہ حکومت وقت سے سوال کرنا کسی بھی طور پر دیش دروہ یا غداری نہیں کیونکہ آئینِ ہند کی اصل روح ہی کثرت رائے اور آزادانہ افکار کی بنیاد پر استوار ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کی جانب سے یہ رہنمائی ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب ملک کے کیمپس میں آزادانہ سوچ کا گلا گھونٹ کر اندھی اطاعت گزاری کا کلچر مسلط کرنے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کا بنیادی مقصد محض ڈگریاں بانٹنا نہیں بلکہ ایسے بیدار مغز اور باشعور شہری پیدا کرنا ہے جو نظام کی خامیوں پر انگلی رکھتے ہوئے استفسار کر سکیں کہ ایسا کیوں ہے؟ یونیورسٹیاں دراصل جمہوری اقدار اور فکری مکالمے کی تجربہ گاہیں ہوتی ہیں جہاں مروجہ نظریات اور ریاستی پالیسیوں کو چیلنج کیا جاتا ہے ان پر جرح ہوتی ہے اور منطق کی کسوٹی پر سچائی تلاش کی جاتی ہے۔ بلاشبہ کسی بھی ادارے کیلئے نظم و ضبط ناگزیر ہے اور تشدد یا دھمکی آمیز رویوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ملک کے بیشتر تعلیمی اداروں میں جبر کی فضا قائم ہے۔ سوال اٹھانے، احتجاج کرنے یا انتظامی بے قاعدگیوں کو چیلنج کرنے والے طلبہ کو نوٹس اور قانونی مقدمات کی دھمکیوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ نئی نسل کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ زبانیں بند رکھیں اور اربابِ اقتدار کیلئے غیر آرام دہ سوالات نہ پوچھیں۔ کلاس روم میں دلائل کے ساتھ سوال کرنے کے بجائے یہ سکھایا جا رہا ہے کہ آپ کو صرف یہ سوچنا ہے۔ ‘‘