• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے!

Updated: September 28, 2026, 9:51 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

اس بات کااعتراف بی جے پی ہی سے وابستہ سابق مرکزی وزیرتعلیم مرلی منوہرجوشی نے کیا ہے اوراس پر بدعنوانی کاالزام بھی عائد کیا ہے۔

Murli Manohar Joshi, a member of the BJP`s Margdarshak Mandal, has put the Modi government in the dock. Photo: INN
بی جے پی مارگ درشک منڈل کے رکن مرلی منوہر جوشی نے مودی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

بی جے پی کے’مارگ درشک منڈل‘ کے رکن اورسابق مرکزی وزیر تعلیم مرلی منوہر جوشی نے گزشتہ دنوں ایک ہندی اخبار کو طویل انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو کا مرکزی موضوع ملک کا تعلیمی نظام اور اس نظام کو متاثر کرنے والے عناصر کی ترجیحات اور ان کا طرز عمل تھا۔ سابق مرکزی وزیر نے واضح طور پر کہا کہ تعلیم حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں ہے اوراس سے بھی زیادہ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ حکومت خود گھوٹالے کر رہی ہے۔ اس انٹر ویو میں مرلی منوہر جوشی نے تعلیم سے متعلق جو حقائق بیان کئے ہیں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نظام تعلیم میں مختلف عہدوں پر براجمان اشخاص کے پاس کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے جو اس نظام میں در آئے نقائص کو دور کر کے اس کی کارکردگی کو بہتر اور نتیجہ خیز بنا سکے۔ ان کے مطابق نظام تعلیم سے وابستہ ارباب اختیار کے اس ناکارہ پن کا بنیادی سبب ان کی وہ فکر ہے جو تمام مسائل کا حل ایک ہی جگہ سے حاصل کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ مرلی منوہر جوشی کے اس بیان کا واضح اشارہ اقتدار اعلیٰ کی جانب ہے جو عوامی زندگی سے وابستہ تمام شعبوں کے طرز عمل کو اپنی مرضی کا تابع سمجھتے ہیں۔ 
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران شاذ و نادر ہی ایسے مواقع آئے ہوں گے جب مختلف وزارتوں سے وابستہ منصوبوں کے افتتاح یا کسی منصوبے کی تکمیل کے وقت منعقدہ تقریب میں اقتدار اعلیٰ کے علاوہ دوسرے وزرا نمایاں طور پر موجود رہے ہوں۔ اقتدار کی تمام تر قوت کااس طرح صرف ایک ہاتھ میں محدود رہنا وفاقی جمہوریہ کے ان اصولوں کے خلاف ہے جو مختلف عوامی شعبوں کے مابین معیاری ہم آہنگی قائم کرنے اور ان شعبوں کی کارکردگی کو نتیجہ خیز بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال سانحہ کو محض ایک قدرتی آفت سمجھ کر آگے بڑھ جانا بڑی غلطی ہوگی

ملک کے حالات حاضرہ سے واقفیت رکھنے والا ہر فرد اس تلخ سچائی سے آگاہ ہے کہ نظام تعلیم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے ارباب اقتدارنے نہ صرف اس نظام کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس نظام سے وابستہ اقتصادی منصوبوں کی تعمیل کچھ اس انداز سے کرنے کو ترجیح دی ہے جس سے بہ ظاہر یہ لگے کہ وہ ملک کے تعلیمی نظام کو عالمی معیار کا ہم پلہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں لیکن یہ کوشش دراصل اس نظام سے زیادہ سے زیادہ مالی منفعت حاصل کرنے والی ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب شعبۂ تعلیم سے وابستہ بیشتر امور میں بدعنوانی کا بول بالا ہو گیا ہے۔ اس بدعنوانی کی سب سے نمایاں مثال گزشتہ بارہ برسوں میں پیپر لیک کے وہ معاملات ہیں جن کے سبب نوجوان نسل اپنے مستقبل کے تئیں بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہنے لگی ہے۔ یہ مسئلہ سماج اور حکومت میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی سے براہ راست وابستہ ہے۔ 
ارباب اقتدار نے عوامی زندگی سے وابستہ مختلف شعبوں کے طرز عمل کو اس راہ پر ڈال دیا ہے جہاں بدعنوانی کو سسٹم کا ایک جزو مان لیا گیا ہے۔ ارباب اقتدار کے اس رویے نے عوامی زندگی سے وابستہ مختلف شعبوں سے دیانت داری، شفافیت اور جوابدہی جیسی اقدار کو بتدریج منہا کر دیا ہے اور شعبۂ تعلیم بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ اس شعبہ سے وابستہ تمام کارکنان خواہ وہ طالب علم ہوں، اساتذہ یا انتظامی امور سے وابستہ افراد، بیشتر اب ایمانداری اور شفافیت کو ازکار رفتہ سمجھنے لگے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ملک کے بیشتر تعلیمی اداروں میں نہ تو تدریس معیاری اور موثر رہ گئی ہے اور نہ ہی طلبہ کی اکثریت تعلیم اور زندگی کی ان اقدار سے واقف نظر آتی ہے جو انھیں سماج کا باشعور فرد اور ملک کا ذمہ دار و بیدار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 
ملک کے موجودہ تعلیمی نظام کے متعلق یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ اقتدار نے اس نظام کو کار آمد و پائیدار بنانے والے ان ستونوں کو مسلسل کمزور کیا ہے جن ستونوں کی پختگی ہی ملک کے درخشاں مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس ضمن میں سب سے تشویش ناک سچائی یہ ہے کہ دانش و شعور کو یرقانی لبادہ اوڑھانے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔ ملک کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت پر یہ لبادہ ڈال کر ان حقائق کو روپوش کیا جا رہا ہے جن کے بغیر آزاد ہندوستان کا جمہوری نظام بے روح جسم کی مانند رہ جائے گا۔ اس کے علاوہ اقتدار کی جانب سے تعلیم کو فراہم کی جانے والی مالی اعانت کا گراف تبدریج کم ہوا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کے عنوان سے تعلیم کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں اور ان تبدیلیوں کو بروئے کار لانے والے وسائل کی عدم دستیابی اقتدار کے غیر سنجیدہ اور انتقام پر مبنی سیاسی رویے کو آشکار کرتی ہے۔ 
مرلی منوہر جوشی نے اس ضمن میں واضح طور پر کہا کہ جب وہ وزیر تعلیم تھے تو اُس وقت بھی نصاب میں بعض قابل اعتراض مواد کی شمولیت کا تنازع اٹھا تھا اور یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک گیا تھاجس کا تصفیہ کرنے کی غرض سے مروجہ تعلیمی پالیسی کا جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ کی نصابی ضرورتوں کی تکمیل کے لحاظ سے مروجہ پالیسی میں کوئی نقص نہیں ہے اور صرف اس وجہ سے پالیسی تبدیل کر دینا کہ وہ راجیو گاندھی کے دور حکومت میں بنی تھی، کسی طور سے بھی مناسب اور معقول نہیں ہے۔ ملک کے تعلیمی نظام اور اس نظام سے متعلق اقتدار کے موجودہ رویے پر سابق وزیر کے معروضات کو ان کی ’سیاسی کھسیاہٹ‘ کہہ کر نظر انداز بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ سیاسی سطح پر گرچہ وہ بھی فسطائیت کے حامی رہے ہیں لیکن بطور وزیر تعلیم ان کی کارکردگی کا معیار گزشتہ بارہ برسوں کے دوران وزارت تعلیم کا قلمدان سنبھالنے والے وزرا سے کہیں بہتر رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK