مدنپورہ کے ۷۹؍ سالہ محمد اسماعیل انصاری کو لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن گھر کے معاشی حالات اچھے نہیں تھے، اسلئے ڈراپ آؤٹ کا شکار ہونا پڑا، بعد میں کام کرتے ہوئے نائٹ اسکول سے ضرورت بھرتعلیم حاصل کی اور پھرٹیکسی ڈرائیونگ کا پیشہ اختیار کیا۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 9:32 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مدنپورہ کے ۷۹؍ سالہ محمد اسماعیل انصاری کو لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن گھر کے معاشی حالات اچھے نہیں تھے، اسلئے ڈراپ آؤٹ کا شکار ہونا پڑا، بعد میں کام کرتے ہوئے نائٹ اسکول سے ضرورت بھرتعلیم حاصل کی اور پھرٹیکسی ڈرائیونگ کا پیشہ اختیار کیا۔
محمد اسماعیل انصاری کی پیدائش ۱۵؍مئی ۱۹۴۷ءکومدنپورہ، جُونی مسجد محلہ میں ہوئی۔ سائوٹراسٹریٹ کے میگھ راج شیٹی مارگ اسکول سے ۷؍ویں اور انجمن خیرالاسلام اسکول مدنپورہ سے ۹؍ویں تک پڑھائی کی۔ انہیں پڑھائی کا کافی شوق تھا لیکن گھرکے معاشی حالات اچھے نہیں تھے، اسلئے انہیں ڈراپ آؤٹ کا شکار ہونا پڑا۔ مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے پہلے والد صاحب کے ساتھ فٹ پاتھ پر الگ الگ چیزیں فروخت کیں۔ اُن دنوں ۲؍روپے کی سلیپر اور پلاسٹک کی چپلیں فروخت کیں جو آج سیکڑوں روپے میں نہیں ملیں گی۔ پڑھائی کا شوق تھا، اسلئے دن میں اس طرح کے کاموں کے علاوہ رات میں پڑھائی کرنے کی سبیل ڈھونڈ نکالی۔ سائوٹر اسٹریٹ کے پیوپلس انگلش نائٹ اسکول میں نام لکھوایا۔ پہلی سے پانچویں جماعت تک ازسر نوطریقے سے پڑھائی کی۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ اُردو کے ساتھ انگریزی پڑھنا لکھنا اور بولنا سیکھ لیا۔ کاروبار کے ساتھ چند دوست احباب کی صلاح پر اسی دوارن ڈرائیونگ کی ٹریننگ حاصل کی۔ ۱۹۷۸ء سے ۲۰۱۹ء تک تقریباً ۴۰؍ سال ٹیکسی چلائی۔ ۲۰۱۹ء میں کورونا کے د ور میں اچانک بینائی متاثر ہو ئی تو ڈرائیونگ ترک کردی۔ بچے نیک اور فرماں بردار ہیں اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے ایک بیٹے اسرار احمد صابوصدیق میں تدریسی خدمات انجام دے رہےہیں ۔
محمد اسماعیل جس وقت انجمن خیرالاسلام میں پڑھا کرتے تھے، اس دور میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ ڈسپلن اور نظم وضبط پر سختی سے عمل کرنا لازمی تھا۔ اس وقت اسکول کے سپروائزر شریف سر ہوا کرتے تھے۔ وہ ۶؍فٹ سے زیادہ قدو قامت کے مالک تھے اور اسی طرح لحیم و شحیم بھی تھے۔ ان کی رعب دار شخصیت سے بچے گھبراتے تھے۔ بحیثیت سپروائزر، وہ روزانہ طلبہ کی آمد پر ان کا یونیفارم اوربال و ناخن وغیرہ کی جانچ کرتے تھے۔ جن کے یونیفارم صاف نہیں ہوتے انہیں ڈانٹتے، اگلے روز صاف یونیفارم پہن کر آنے کی تلقین کرتے، اسی طرح جوتے، موزے، بال اور ناخن وغیرہ سے متعلق ضروری ہدایت دیتے۔ علاوہ ازیں جو بچے اسکول دیر سے آتے انہیں بطور سزاکچھ دیر کلاس روم کے باہر کھڑا رکھتے، ان کے اس عمل سے بچے پہلے اپنا محاسبہ کرتے تھے، اس کے بعد اسکول آتے تھے۔ ان کی تنقید برائے تعمیر والی صفت سے محمد اسماعیل بہت متاثر تھے۔
محمد اسماعیل نے ۴۰؍سال ٹیکسی چلائی۔ اس دوران کا ایک واقعہ وہ آج بھی نہیں بھولے ہیں۔ نئے ڈرائیور عموماً رات کی شفٹ میں ٹیکسی چلاتے ہیں کیونکہ اس وقت ٹریفک کا مسئلہ نہیں ہوتاہے علاوہ ازیں سڑک پر گاڑیاں بھی کم ہوتی ہیں۔ ایک رات کو تقریباً ایک بجے ناگپاڑہ جنکشن پر ٹیکسی کا اسٹارٹر خراب ہونے سے وہ جلدی گھر لوٹ رہے تھے۔ مہاراشٹر کالج کے قریب ایک صاحب نے ہاتھ دکھا کر ان کی ٹیکسی روکی، انہوں نے ان صاحب سے پوچھا کہ کہاں جانا ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے سانتاکروز ایئر پورٹ جانا ہے، جس پر محمد اسماعیل نے ٹیکسی خراب ہونےسے معذرت چاہی۔ انہوں نے کہا ٹیکسی تو چل رہی ہے، خراب کہاں ہے؟ محمد اسماعیل نے انہیں بتایا کہ اسٹارٹر خراب ہوگیا ہے، میں اتنی دور آپ کو نہیں لے جاسکتا، اگر راستے میں گاڑی بند ہوگئی تو ہم دونوں کو پریشانی ہوگی، جس پر ان صاحب نے کہا کہ میرے ساتھ ایک بھائی اور ہیں ، انہیں ایئر پورٹ چھوڑکر واپس یہیں آنا ہے، اگر آپ چلیں تو بہت مہربانی ہوگی۔ محمد اسماعیل انہیں منع نہیں کرسکے۔ وہ انہیں ایئر پورٹ لے گئے اور وہاں جن بھائی کو چھوڑنا تھا، انہیں چھوڑ کر دوبارہ مہاراشٹر کالج آئے۔ اس دور میں سانتاکروز ایئر جانے اور واپس آنے کا کرایہ ۴۰؍ روپے ہوا تھا، لیکن اس ۴۰؍روپے کی بڑی اہمیت تھی۔ اس زمانےمیں پیٹرول۳؍روپے لیٹر تھا۔ نصف رات گھر پہنچنے پر، اُن کےوالد جو گھر کے باہر چارپائی پر لیٹے تھے، نے کہا کہ اسماعیل آج جلدی کیسے آگیا، جس پر اسماعیل نے بتایا کہ گاڑی خراب ہوگئی تھی، اس لئے جلدی آگیا، یہ کہتے ہوئے انہوں نے ۴۰؍روپے جو کمائے تھے، وہ والد کی ہتھیلی میں رکھ دیئے۔ ۴۰؍روپے دیکھ کر والد نے جذباتی انداز میں کہا تھا کہ’ بیٹا آج تُو ۲؍دن کا خرچ لے آیا‘ اس جملے کو وہ ابھی بھی نہیں بھولے ہیں۔ اس زمانے میں ۴۰؍روپے کی کتنی اہمیت تھی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
محمد اسماعیل نے زندگی میں ایک مرتبہ موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ وہ ایک مسافر کو وڈالا چار راستہ پر رات کے وقت چھوڑنے گئے تھے۔ اس نے کرائے کی ادائیگی کیلئے ۵۰؍روپے کی نوٹ دی۔ محمد اسماعیل سامنے فٹ پاتھ پر اسے ’چھٹا‘ کرانے جا رہے تھے، اسی دوران پیچھے سےایک کارنے زوردار ٹکر ماردی، جس کی وجہ سے وہ کافی بلندی سے اُچھل کر زمین پر گرے۔ اس حادثے میں ان کے سر، گردن اور چہرے پر شدید چوٹیں آئی تھیں لیکن وہ پوری طرح سے ہوش و حواس میں تھے۔ گاڑی والے کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس سے کہاکہتم یہاں سے جلدی نکل جائو، ورنہ لوگ تمہیں پریشان کریں گے جبکہ وہ انہیں اسپتال لے جانے پر بضدتھا۔ محمد اسماعیل نے کافی مشکلوں سے اسے سمجھا کر وہاں سے روانہ کیا۔ وہ بندہ بھی نیک انسان تھا، اس نے اس دور میں ان کی جیب میں ۵۰۰؍روپے ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اپنا علاج کرالیں ۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہمت کر کے محمد اسماعیل اپنی ٹیکسی خود چلا کر گھرلوٹے۔ کافی دنوں ان کا علاج جاری رہا۔
محمد اسماعیل کو موسیقی کابڑا شوق ہے۔ ان کے گھر کے قریب محمد صاحب نامی ایک موسیقار تھے۔ وہ گلی محلے کے بچوں کو موسیقی سکھاتے تھے۔ محمداسماعیل نے ان سے وائلن بجانا سیکھا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں گانے سننے کا بھی بڑا جنون ہے۔ وہ ٹیکسی میں گانا سننےکیلئے ٹرانزسٹر رکھتے تھے۔ اس دور میں ریڈیو پر نشر ہونے والا، امین سیانی کا معروف پروگرام ’بناکا گیت مالا‘ بہت مقبول تھا۔ سنیچر کی شام اور اتوار کی صبح یہ پروگرام دوبار نشر ہوتا تھا۔ بناکا گیت مالا سننے کے شوقین گلی محلے، پارک اور چوراہوں پر ایک ریڈیو کے ارد گرد جمع ہوتے اور درجنوں لوگ ایک ساتھ پروگرام سے محظوظ ہوتے تھے۔ آج بھی وودھ بھارتی پر صبح ۷؍ بجے نشر ہونے والے بھولے بسرے گیت پروگرام کو پابندی سے سنتے ہیں ۔
۶۰ء اور ۷۰ ء کی دہائی میں ہونے والےسیاسی انتخابات میں بھی محمد اسماعیل نے بطور ورکر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اس دور میں الیکٹرول سلپ اُردومیں لکھ کر گھر گھر پہنچانے کی ذمہ داری کے عوض چائے، بسکٹ اور کھاری ملتی تھی۔ ایک مرتبہ کمیونسٹ لیڈر گلاب رائوگناچاریہ چنچپوکلی تعلقہ سے جیتے تھے۔ ان کیلئے محمد اسماعیل نے بہت کام کیا تھا۔ جیتنے کے بعد گلاب رائوگناچاریہ خود محمد اسماعیل سے ملاقات کرنے ان کے گھر آئے تھے۔ گھر آکر انہوں نےکہا تھا کہ اگرکوئی کام ہو تو بتائو۔ محمد اسماعیل نےان سے مٹی کے تیل کی پرمٹ دلانے کیلئے کہا تھا۔ اس کے بعد گلاب رائو گناچاریہ نے انہیں پرمٹ دلایا تھا۔