ممبرا کے ۸۷؍ سالہ مرزا صلاح الدین بیگ کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے، شبلی کالج سے بی ایڈ کرنے کے بعد ۱۹۶۲ء میں عملی زندگی کا آغاز بحیثیت معلم رتناگری کے مستری اُردو اسکول سے کیا اور بعد میں بی ایم سی اسکول سے سبکدوش ہوئے، جماعت اسلامی سے بھی وابستہ ہیں۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 5:36 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
ممبرا کے ۸۷؍ سالہ مرزا صلاح الدین بیگ کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے، شبلی کالج سے بی ایڈ کرنے کے بعد ۱۹۶۲ء میں عملی زندگی کا آغاز بحیثیت معلم رتناگری کے مستری اُردو اسکول سے کیا اور بعد میں بی ایم سی اسکول سے سبکدوش ہوئے، جماعت اسلامی سے بھی وابستہ ہیں۔
ممبرا کے ۸۷؍ سالہ مرزا صلاح الدین بیگ کی پیدائش ۱۱؍اپریل ۱۹۳۸ءکو اُترپردیش، ضلع اعظم گڑھ، مبارکپور کے گائوں چکیہ میں ہوئی تھی۔ دینی تعلیم چکیہ سے مکمل کی۔ عصری پڑھائی مبارکپور کے پرائمری اسکول اور چھٹی سے آٹھویں تک کی تعلیم مبارکپور کے سیکنڈری اسکول سے کی، بعدازیں آگے کی پڑھائی کیلئے ٹائون انٹر کالج محمدآباد گوہنا، اعظم گڑھ میں داخلہ لیا۔ وہاں سے میٹرک پاس کرکے۱۹۵۵ءمیں اعظم گڑھ کے شبلی نیشنل کالج میں داخلہ لیا۔ وہاں سے انٹر، بی اے اوربی ایڈ کی پڑھائی مکمل کی۔ ۱۹۶۲ءمیں عملی زندگی کا آغاز بحیثیت معلم رتناگیری کے مستری اُردو اسکول سے کیا۔ یہاں ۱۹۶۵ء تک تدریسی خدمات انجام دینےکےبعد ممبئی کے ناگپاڑہ پر واقع احمد سیلراسکول میں تقرری ہوئی۔ یہاں ۳؍سال بچوں کوپڑھایا، بعدازیں ۱۹۶۸ءمیں بی ایم سی محکمہ تعلیم سےوابستہ ہوئے۔ ۳۱؍ سال تک بی ایم سی اسکولوں میں تدریسی ذمہ داری نبھائی۔ مجموعی طورپر ۳۶؍ سال تک بچوں کی تعلیم وتربیت کے پیشہ سے منسلک رہے۔ ۱۹۶۰ءسے جماعت اسلامی سے بھی جڑے ہوئےہیں اور اس عمر میں بھی جماعت کیلئے رضاکارانہ طور اپنی خدمات پیش کررہےہیں ۔
مرزا صلاح الدین بیگ جن دنوں مبارکپور کےپرائمری اسکول میں زیرتعلیم تھے، وہاں اسکولوں میں پینے کے پانی کاانتظام نہیں تھا۔ اسکول کا وقت صبح ۹؍ سے شام ۴؍بجے تک کا تھا، اس دوران طلبہ کو پورا وقت پیاسا ہی رہنا پڑتا تھا۔ ایسےمیں گرمی کے دنوں میں شدید پیاس لگنےپر صلاح الدین، اپنے ۲؍اسکولی ساتھیوں، جوقریب میں واقع مبارکپور پولیس تھانے کے اہلکار محمد علی کے صاحبزادے تھے، کے گھر پانی پینے کیلئے جاتےتھے۔
۱۹۸۴ءمیں ہونےوالے فرقہ وارانہ فساد میں بالخصوص بھیونڈی کو بڑے پیمانےپر نشانہ بنایاگیاتھا۔ یہاں مسلمانوں کا بڑے پیمانےپر جانی ومالی نقصان ہواتھا۔ ایسےمیں جماعت اسلامی کے سیکریٹری شہاب بانکوٹی کی جانب سے اخبارات میں ایک مراسلہ شائع ہوا تھا، جس میں رفقائے جماعت سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں ، فساد متاثرین کی مدد کیلئے ریلیف کا کام کریں۔ اس اپیل پر عمل کرتےہوئے فساد زدہ ماحول میں صلاح الدین بیگ نے تنہا ممبرا، کوسہ اور رابوڑی وغیرہ میں جاکر متاثرین کیلئے برتن، کپڑے، اناج اور نقد جمع کرنا شروع کیا تھا۔ رابوڑی میں تنہا پہنچنے پر مقامی لوگوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ آپ ایسےماحول میں تنہا یہاں کیسے چلے آئے ؟ اس مہم میں ممبرا شیلیش نگر کے ایک معاون محمد ضیاءالدین نےبھی ان کا ساتھ دیا تھا۔ ایک ٹیمپومیں مذکورہ سامان اور نقد لے کراکیلئے جب وہ بھیونڈی کی سرحد پر پہنچے توپولیس نے انہیں روک کر پوچھ تاچھ کی تھی۔ جماعت اسلامی کا حوالہ دینےپر پولیس نے انہیں بھیونڈی جانےکی اجازت دی۔ بھیونڈی میں جماعت اسلامی کےدفتر میں جاکر ریلیف کاسامان جمع کرانے کے بعد اطمینان کاسانس لیاتھا۔
مرزا صلاح الدین بیگ ۱۹۸۶ءمیں اہلیہ کے ہمراہ حج پر گئے تھے۔ اس دوران ان کا زیادہ تر وقت حرم شریف میں ہی گزرتاتھا۔ وہ حرم شریف میں موجود لوگوں سے اکثر ان کے ملک اور وہاں کے حالات پر گفتگو کیاکرتے تھے۔ ایک روز عصر اور مغرب کے دوران ان کی نظر ایک ایسے شخص پر جاکر ٹھہر گئی، جو شناسا معلوم ہورہاتھا۔ ایسا لگ رہاتھاکہ انہیں کہیں دیکھا ہوں لیکن یاد نہیں پڑرہا تھا۔ قریب جاکر انہوں نے سلام کیا اور ان کے بارےمیں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میرا تعلق افغانستان سے ہےاورمیرا نام گلبدین حکمت یار ہے۔ یہ سنتےہی صلاح الدین بیگ نے بڑی گرمجوشی سے ان سے مصافحہ کیا۔ اس دوران متعدد نوجوانوں نے ان دونوں صاحبان کے گرد گھیرا بنالیا۔ جب صلاح الدین بیگ نے ان کے بارےمیں دریافت کیا، تو گلبدین حکمت یار نےبتایا کہ یہ سب میرے جنرل اور کرنل ہیں، جو اسلام کیلئے جنگ لڑ رہےہیں۔ دوران گفتگو صلاح الدین بیگ نے کہا کہ آپ روس جیسے سپرپاور سے مقابلہ کررہےہیں ، کیا آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ اتنے طاقتور ملک کا مقابلہ کرسکیں ؟ اس کے جواب میں گلبدین حکمت یا ر نے نہایت اعتماد اور پُرجوش اندازمیں جواب دیاکہ ’’ہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے، سپرپاور روس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ آپ حرم شریف میں موجود ہیں ، اللہ تعالیٰ سے افغانستا ن کے مجاہدین کی کامیابی کیلئے دعا کریں، ان شاءاللہ وہ وقت بھی آئے گاجب ہم سپرپاور روس کو شکست سے دوچار کریں گے۔ ‘‘ اس کے کچھ ہی سال بعد افغانستان میں روس کو منہ کی کھانی پڑی اور بعد میں گلبدین حکمت یار افغانستان کے وزیراعظم بنے۔
۸۰ء کی دہائی میں ممبرا میں کوئی سیکنڈری اسکول نہیں تھا جس کی وجہ سے وہاں کے طلبہ سیکنڈری اسکول کی پڑھائی کیلئے تھانے جانے پر مجبور تھے۔ ممبرا سے تھانے جانا بڑا دشوارکن مرحلہ تھا۔ ایسےمیں ممبرا جماعت اسلامی کےمقامی امیر محمدامان اللہ جو خود بھی معلم تھے، نے صلاح الدین بیگ سے مشورہ کرکے ممبرا میں سیکنڈری اسکول قائم کرنےکیلئے یہاں کے سینئر اساتذہ کی ایک میٹنگ طلب کی۔ اسی میٹنگ میں ممبرا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر کمیٹی کاقیام عمل میں آیا۔ بعد ازاں ضلع پریشدتھانے سے ممبرا میں سیکنڈری اسکول کیلئے پرمیشن حاصل کی گئی۔ اسکول کے قیام کی اجازت تو مل گئی لیکن اسکول کی تعمیراور اسے چلانے کیلئے فنڈ کاانتظام نہیں تھا۔ ایسی صورت میں صلاح الدین بیگ نے مذکورہ کمیٹی کے ذمہ داران کے ہمراہ بابائے قوم یوسف عمر پٹیل، جو میمن ویلفیئر سوسائٹی کےصدر بھی تھے، سے ملاقات کی۔ انہوں نےاس تعلق سے اپنے ایک قریبی دوست یوسف عبداللہ پٹیل، جن کا شمار اس وقت کے دولت مندوں میں ہوتاتھا، سے بات چیت کی۔ انہوں نے اسکول کا پورا خرچ برداشت کرنے کی حامی بھری، اس طرح ان کی والدہ زینب بائی عبداللہ پٹیل سے اسکول کو منسوب کیاگیا۔ گزشتہ ۴۰؍سال سے اسکول کامیابی سے جاری ہے جس میں ہزاروں طلبہ پڑھائی کررہےہیں۔
بابری مسجد کی شہادت کےساتھ شہر ومضافات میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑاتھا۔ اس دور میں صلاح الدین بیگ بروے نگر، گھاٹ کوپر میونسپل اُردو اسکول میں بحیثیت صدرمدرس اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ فساد کی روح فرسا خبر سن کر بچوں کو چھٹی دے دی گئی تاکہ وہ حفا ظت سے اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔ بچوں کوچھوڑنےکےبعد یہ اطلاع ملی کہ اسکول کےقریب واقع شیوسینا شاکھ کے پاس ۲؍بچوں پر تلوار سے حملہ کیا گیا ہے۔ یہ سن کر صلاح الدین سرپریشان ہوگئے۔ سب بچوں کواسکول سے گھر بھیجنےکےبعد، اسکول کے ایک اور باریش معلم کےساتھ اسکول سے گھاٹ کوپر اسٹیشن جانےکیلئے بس پکڑا، بس میں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ ہرطرف خوف وہراس کا ماحول تھا۔ بس کااگلااسٹاپ شیوسینا شاکھاکے قریب تھا۔ وہاں پہنچنے پر ایک شخص ہاتھ میں اسلحہ لے کر بس میں سوارہوا۔ ہمیں غور سے دیکھنےکےبعد وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا، کچھ لمحوں میں وہ بس سے اُتر گیا، اس دوران ایسا محسوس ہورہاتھاکہ ہماری جان دائو پرلگی ہے۔ یہاں سے بس آگے کے اسٹاپ کیلئے روانہ ہوئی تب جان میں جان آئی۔ اگلے اسٹاپ پر۲؍ اورمسافروں کے سوار ہونےپر راحت محسوس ہوئی۔ گھاٹ کوپر اسٹیشن پہنچنے پر لوکل ٹرین کا برا حال تھا۔ کئی ٹرینیں چھوڑنےکےبعد ایک ٹرین میں جگہ ملی۔ ممبرا پہنچے تب سکون میسر آیا۔