زمین صرف مٹی، پتھروں، پہاڑوں اور دریاؤں کا نام نہیں؛ یہ انسان کی پہلی آغوش، آخری پناہ گاہ اور زندگی کی سب سے بڑی امانت ہے۔ اسی کے سینے پر تہذیبوں نے جنم لیا، اسی کی گود میں فصلیں لہلہائیں، اسی کے دریاؤں نے پیاس بجھائی اور اسی کی فضا نے سانسوں کو زندگی بخشی۔
درخت لگانا دراصل امید بونا ہے، پانی بچانا مستقبل کو محفوظ کرنا ہے اور فطرت سے محبت کرنا اپنے وجود سے محبت کرنے کے مترادف ہے۔ تصویر: آئی این این
زمین صرف مٹی، پتھروں، پہاڑوں اور دریاؤں کا نام نہیں؛ یہ انسان کی پہلی آغوش، آخری پناہ گاہ اور زندگی کی سب سے بڑی امانت ہے۔ اسی کے سینے پر تہذیبوں نے جنم لیا، اسی کی گود میں فصلیں لہلہائیں، اسی کے دریاؤں نے پیاس بجھائی اور اسی کی فضا نے سانسوں کو زندگی بخشی۔ لیکن آج یہی زمین اپنے باسیوں کی بے حسی، لالچ اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کے باعث زخمی اور نڈھال دکھائی دیتی ہے۔
ہر سال ۲۲؍اپریل کو منایا جانے والا ’’یوم ارض‘‘ ہمیں اس خاموش فریاد کو سننے کی دعوت دیتا ہے جو کٹتے ہوئے جنگلات، سوکھتے ہوئے دریا، آلودہ فضا اور معدوم ہوتی نسلوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ دن محض ایک تقریب نہیں بلکہ خود احتسابی کا لمحہ ہے؛ ایک ایسا لمحہ جب انسان اپنے آپ سے سوال کرے کہ کیا اس نے ترقی کے نام پر اپنی ہی بقا کے وسائل کو نقصان نہیں پہنچایا؟ کبھی زمین کا چہرہ گھنے جنگلات کے سبز دوپٹے سے ڈھکا رہتا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ صبح کی اذان معلوم ہوتی تھی اور دریاؤں کی روانی زندگی کا استعارہ تھی۔ مگر آج ترقی کی دوڑ میں درختوں کی جگہ کنکریٹ کے جنگل اُگ آئے ہیں۔ فضا میں دھوئیں کی تہیں سورج کی روشنی کو دھندلا رہی ہیں اور دریا صنعتی فضلے سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے فطرت سے محبت کا رشتہ توڑ کر صرف استعمال کا تعلق باقی رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ان مسائل کا حل والدین، اساتذہ اور معاشرہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے!
ماحولیات کا حسن صرف درختوں اور پھولوں تک محدود نہیں۔ ایک شہد کی مکھی، ایک تتلی، ایک چڑیا، ایک ننھا سا بیج اور زمین میں رینگتا ہوا ایک کیڑا بھی اس عظیم حیاتیاتی نظام کی کڑی ہے۔ جب ان میں سے کوئی ایک حلقہ کمزور ہوتا ہے تو پوری زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کا تحفظ دراصل انسانی زندگی کے تحفظ کے مترادف ہے۔یومِ ارض کا پیغام ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ زمین کو بچانے کے لئے بڑے منصوبوں کے ساتھ چھوٹے اقدامات بھی اہم ہیں۔ ایک درخت لگانا، پانی کی ایک بوند بچانا، پرندوں کے لئے گھونسلہ بنانا، نامیاتی کھاد کا استعمال کرنا، مقامی درختوں کی حفاظت کرنا اور پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا ایسے کام ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں لیکن اجتماعی سطح پر ان کے اثرات بہت دور رس ہوتے ہیں۔
خاص طور پر پھل دار اور غذائی پودوں کی شجرکاری ایک ایسا عمل ہے جو ماحول اور معاشرے دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ مورنگا، پپیتا، کیلا، املی اور نیم جیسے درخت نہ صرف زمین کو سرسبز بناتے ہیں بلکہ خوراک، سایہ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
اسی طرح پیپل، برگد، گل مہر اور املتاس جیسے مقامی درخت مقامی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور بے شمار پرندوں اور کیڑوں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔زمین کی بقا صرف حکومتوں یا عالمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا اخلاقی فرض ہے۔ اگر ہر انسان اپنے حصے کی زمین کو بہتر بنانے کا عہد کر لے تو ماحولیاتی بحران کی شدت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ دراصل زمین کو ہماری ضرورت نہیں، ہمیں زمین کی ضرورت ہے۔ اگر دریا خشک ہو جائیں، جنگلات ختم ہو جائیں اور فضا زہریلی ہو جائے تو انسان کی تمام تر ترقی بے معنی ہو جائے گی۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ زمین وراثت میں ملی ہوئی جائیداد نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ ہمیں اسے اسی طرح محفوظ اور خوبصورت بنا کر آگے منتقل کرنا ہے جیسے ایک باغبان اپنے باغ کی حفاظت کرتا ہے۔ کیونکہ جب زمین مسکراتی ہے تو انسانیت بھی مسکراتی ہے، اور جب زمین بیمار ہوتی ہے تو تہذیبیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نفسیاتی مسائل میں اُلجھ کر اپنوں سے علاحدہ رہنا عام ہو چکا ہے
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ زمین کی حفاظت کوئی ماحولیاتی مہم نہیں بلکہ زندگی سے محبت کا نام ہے۔ درخت لگانا دراصل امید بونا ہے، پانی بچانا مستقبل کو محفوظ کرنا ہے اور فطرت سے محبت کرنا اپنے وجود سے محبت کرنے کے مترادف ہے۔ یومِ ارض ہمیں اسی محبت، ذمہ داری اور شعور کے ساتھ ایک سبز، پائیدار اور روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا پیغام دیتا ہے۔
زمین کی پکار
زمین رو رہی ہے/ہوا سو رہی ہے
درختوں کی چھاؤں/کہاں کھو رہی ہے
ندی پیاس سے اب/صدا دے رہی ہے
پرندوں کی بستی/اجڑ سی رہی ہے
چلو ایک پودا/لگا کر تو دیکھیں
زمیں پر محبت/لٹا کر تو دیکھیں
یہ مٹی امانت/یہ دھرتی ماں ہے
اسی سے ہمارا/یہ سارا جہاں ہے
اگر ہم سنبھالیں/تو کل بھی ہرا ہے
زمین مسکرائے/تو اپنا بھلا ہے۔
زمین ہمارے قدموں تلے بچھی ہوئی مٹی نہیںہماری آنے والی نسلوں کا خواب ہے؛ اسے محفوظ رکھنا ہمارا فرض بھی ہے اور شناخت بھی۔