سپریم کورٹ کی فعالیت کوسلام

Updated: January 13, 2022, 1:20 PM IST | Khalid Shaikh | Mumbai

جب نفرتی تقاریر کے خلاف ملک بھر میں ہنگامہ مچا۔ لوگوں نے صدر جمہوریہ، وزیراعظم اور چیف جسٹس کوخط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور سخت کارروائی کی گزارش کی تواتراکھنڈ حکومت نے دکھاوے کے لئے ایف آئی آر درج کی اور صرف پانچ ملزمین کو نامزد کیا لیکن ابھی تک ان سے پوچھ تاچھ ہوئی ہے نہ گرفتاری۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

جس   سال  کا خاتمہ مسلمانوں کے قتل عام کے اعلان پر اورنئے سال کا آغاز  ’ہم ہیں متاعِ کوچۂ وبازار کی طرح‘ مسلم خواتین کی بے حرمتی پر ہوتو اس کا واضح مقصد ایک منظم سازش کے تحت  ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف   نفرت وعداوت کو ہوادینا  ہوتاہے۔ اس صورت حال سے ملک کی کوئی  ریاست مبّرا نہیں لیکن بی جے پی والی ریاستوں میں اس کا گہرا اثر نظر آتا ہے ۔ جہاں بھگوائی غنڈوں کو مسلم دشمنی اور تشدد کے اظہار کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ اُن کے دلوں سے قانون اور سزا کا خوف نکل چکا ہے جس کے لئے بڑی حد تک  پولیس اورکسی حد تک عدلیہ برابر کا ذمہ دار ہے۔ مودی کے تمام بڑے دعووں کی طرح ۱۳۵؍ کروڑ ہندوستانیوں کے پردھان سیوک ہونے اور سب کا ساتھ سب کا وکاس بھی  سیاسی وانتخابی ’جملہ‘ ثابت ہوا  ۔ مودی بھول جاتے ہیں کہ ملک کو سب سے اعلیٰ منصب پر فائز ہونے کے بعد ایک لیڈر کی سیاسی ونظریاتی وابستگی ختم ہوجاتی ہے۔  وہ کسی پارٹی کا نہیں ملک کا وزیراعظم کہلاتا ہے۔ اور  صرف ملک کو نہیں دنیا کو جوابدہ ہوتا ہے۔ مودی، کانگریس کی بداعمالیوں اوراپنے بڑبولے پن کی وجہ سے وزیراعظم تو بن گئے لیکن آر ایس ایس کے پرچارک اورسنگھی نظریات کے حصار سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ نتیجتاً ان کے بھکتوں کی اقلیت دشمن کارستانیوں سے ملک  ہی کی نہیں مودی کی بھی بدنامی ہوئی ہے ۔مودی کے برعکس سابق وزیراعظم  ایک سیاسی مدبّر تھے۔  پرچارک ہونے کے باوجود انہوںنے اس شناخت کو نظمِ حکمرانی  پر  حاوی ہونے نہیں دیا۔جبکہ مودی  کا یہ حال ہے کہ وہ ملک وقوم کو لا حق بڑھتی بیروزگاری ، مہنگائی ،   فرقہ پرستی ، جاتی واد اور خواتین کےغیر محفوظ ہونے جیسے سنگین مسائل پرزبان نہیں کھولتے لیکن اپنے ہندوہونے اور سنگھی ذہنیت کے اظہار کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے ہیں اور چونکہ وہ نر گسیت کے مریض اور  خودنمائی وخودستائی کے اسیر ہیں اس  لئے  الیکٹرانک میڈیا ان کی ہندو شناخت کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے لئے ٹی وی کیمروں کواُن کی حرکات وسکنات پر مرکوز رکھتا ہے۔ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھتے وقت پوجا پاٹ کی نمائش، کاشی ناتھ کوریوڈور کے افتتاح پر گنگا میں ڈبکی لگانے اور  مذہبی ارکان کی تشہیر  تشہیر ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے سربراہ کو زیب نہیں دیتی ۔
 مود ی کی سنگھی ذہنیت  کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ انہوںنے کبھی بھی  اقلیتوں اور دلتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر ہوئے  ظلم وجبر اور قتل وغارتگری کے خلاف زبان کھولنے کی زحمت نہیں کی۔ اگر کی بھی تو اس کی ضرور ت نہیں سمجھی  کہ اس پر عمل ہورہا ہے  یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہری دوار کے دھرم سنسد میں نام نہاد سادھو سنتوں نے  جب ہندوؤں کو  مسلمانوں کے قتل عام پر اکسایا، رائے پور میں کالی چرن مہاراج نے گاندھی جی کو گالیاں دیں اور سَلّی۔  بُلی  ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی عزت سے کھلواڑ کیا  تو ہمیشہ کی طرح مودی کی خاموشی پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ اس خاموشی کو نائب صدر جمہوریہ نے توڑا۔ ۳؍ جنور ی کو کیرا لا کی ایک تقریب میں نفرتی تقریر وتحریر کے ذریعے سماج میں نفرت پھیلانے والوں کو ملک کے لئے نقصان دہ بتایا اور                                               ’’واسودَھیواکٹمبکم ‘‘ (ساری دنیاایک خاندان ہے) کے اصول کو اپنانے پر زور دیا۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے شکاگو مذہبی کانفرنس میں سوامی وویکا نند کی تقریر کے حوالے سے ہندومذہب کو تحمل ، سادگی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا مذہب بتایا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو مذہب کا علمبردار ماننے سے انکار کیا۔ وویکا نند کو آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈر ایک مثالی شخصیت قراردیتے ہیں لیکن ان کے نظریات  سے اتفاق نہیں  کرتے ۔ غالباً شکاگو کانفرنس میں ہی وویکانند نے ایسی بات کہی جو ہندوتوا واودیوں کے گلے نہیں اترے گی۔ انہوںنےہندومسلم اتحادپر زور  دیتے ہوئے کہا تھا ’’ مادرِوطن کو مضبوط بنانے کے لئے ہندو  مذہب اور اسلا م کا سنگم ضروری ہے۔ ویدانت کا دماغ اور اسلام کا دھڑامید کی آخری کرن ہے۔ عملی اسلام کے بغیر ویدانت کے نظریات بے وقعت ہوں گے۔ مساوات کا سبق  ہمیں صرف اور صرف اسلام میں ملتا ہے۔‘‘
 ہری دوار میں اشتعال انگیز تقریروں کے بعد اتراکھنڈ حکومت کو حرکت میں آجانا چاہئے تھا لیکن چونکہ وہاں کا وزیراعلیٰ اورکچھ منتری اسٹیج پر براجمان سادھو سنتوں کے بھکتوں میں تھے۔ اس لئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ لیکن جب  نفرتی تقاریر کے خلاف ملک بھر میں ہنگامہ مچا۔ لوگوں نے صدر جمہوریہ، وزیراعظم اور چیف جسٹس کوخط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور سخت کارروائی کی گزارش کی  تواتراکھنڈ حکومت نے دکھاوے کے لئے ایف آئی  آر درج کی اور صرف پانچ ملزمین کو نامزد کیا لیکن  ابھی تک ان سے پوچھ تاچھ  ہوئی ہے۔ نہ گرفتاری… جبکہ کالی چرن مہاراج اور سُلّی۔ بُلّی ایپ کے ملزمین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔لیکن اب لگتا ہے کہ ہری دوار کی دھرم سنسد والوں کے دن بھی بھرچکے ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ نے دہلی کے جرنلسٹ قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش کی طرف سے داخل کی گئی ۔ مفاد عامہ کی درخواست کا نوٹس لیا جس میں چند ماہ پہلے دہلی میں اور ہری دوار کے دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور نسلی صفائے کا نعرہ لگانے والوں کے خلاف آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کی مانگ کی گئی  اور تعزیرات ہند کے  تحت سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا  ۔ معروف سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو  شرپسندی سے سماج پرپڑنے والے مضر اثرات اور گرفتاری کے معاملے میں ریاستی حکومت کے لیت ولعل والے رویے سے آگاہ کیا جس پر عدالت نے فوری سماعت کا عندیہ دیا۔ کل یعنی بدھ  کو عدالت نے اتراکھنڈ حکومت کو ایک نوٹس جاری کیا ہے اور دس دن کے اندر جواب مانگا ہے۔  ایک د وسری خبر کا تعلق پنجاب میں مودی کی سیکوریٹی  کے معاملے میں پائی جانے والی خامیوں  سے ہے۔جہاں انہیں فیروز پور میں ایک ریلی سے خطاب کرنا تھا ۔ خراب موسم، کسان مورچہ اور حاضرین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے مودی کا قافلہ آگے نہ بڑھ سکا ۔اسے  فلائی اوور پر اسے ۲۰؍ منٹ  کے انتظار کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔ یہ معاملہ مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان ایک بڑا ایشو بن گیا۔قبل  اس کہ معاملہ زیادہ طول کھینچتا سپریم کورٹ نے جانچ کی ذمہ داری لے کر عدالت کی ایک سابق جج کی نگرانی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ہری دوار ور پنجاب کے معاملے میں پہل کرنے پر ہم عدالت کی فعالیت کو سلام کرتے ہیں امید ہے جانچ کے نتائج ملک کے لئے خوش آئند ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK