گجرات الیکشن: پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

Updated: December 01, 2022, 10:29 AM IST | Khalid Shaikh | Mumbai

اب تک انتخابی دنگل کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہوتا تھا، ’ آپ‘ کی انٹری سے منظر نامہ بدل گیا ہے۔ پنجاب میں ملی کامیابی سے اس کے لیڈروں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ بی جے پی لیڈروں کو اُنہی کے انداز میں جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

The scenario has changed since AAP entry: Photo INN
آپ کی انٹری سےمنظرنامہ بدل گیا ہے:تصویرآئی این این

 ہماچل پردیش اور گجرات الیکشن کے نتائج اگر چونکا نے والے ہوئے تو اس کا لازمی اثر اگلے تمام انتخابات پر پڑے گا اور ہندوستانی سیاست میں ایک نئے موڑ کا نقیب ہوگا۔ ہماچل میں الیکشن ہوچکا ہے اس لئے اس پر گفتگو بے سود ہوگی۔ گجرات میں پہلے دَور کا الیکشن آج ہے اور مودی اور بی جے پی کیلئے کرویا مرو کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے دونوں کا وقاراور اعتبار وابستہ ہے۔ گجرات وہ ریاست ہے جو ہندوتوا کی اولین تجربہ گاہ اور بدترین مسلم کُش فسادات کیلئے جانی جاتی ہے جس سے نہ صرف ملک بدنام ہوا بلکہ امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک نے مودی کے داخلے پر پابندی لگادی جو اُن کے وزیراعظم بننےکے بعد ہٹائی گئی۔ یہی وہ ریاست ہے جس نے مودی کو ’ہندو ہردے سمراٹ ‘ اور ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے پر وزیراعظم بنایا۔ یہ اور بات ہے کہ مودی ۱۴۰؍ کروڑ ہندوستانیوں کا وزیراعظم بننے کے بجائے ایک مخصوص نظریے کے پرچارک اور برادران وطن کے ایک مخصوص طبقے کے نمائندہ ثابت ہوئے۔ بی جے پی کے سابق صدر ایل کے اڈوانی نے مودی کے پہلے دَور میں بڑی کڑوی مگر سچی بات کہی تھی کہ ملک میں ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ایمرجنسی کے ذکر پر ہمیں اس وقت کے کانگریس چیف دیوکانت بروا یاد آگئے جنہوںنے چاپلوسی کی انتہا کرتے ہوئے’ اندرا اِز انڈیا اینڈ انڈیا از اندرا‘کا فقر ہ وضع کیاتھا ۔مودی کے بارے میں تویہ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ مودی از بی جے پی اینڈ بی جے پی از مودی۔ اگر مودی  ذمہ داری نہ لیں تو پارٹی چاروں شانے چِت ہوجائے گی۔ مودی کوبھی اس کا احساس ہے۔ یہی نہیں، بی جے پی گزشتہ ۲۷؍ برسوں سے گجرات پر قابض ہے اور مودی کی آبائی ریاست ہے جہاں ۲۰۱۴ء میں وزیراعظم بننے سے پہلے وہ گیارہ سال تک وزیراعلیٰ تھے اس لئے وہ ہر قیمت پر الیکشن جیتنا چاہیں گے۔ کیا وہ کامیاب ہوں گے؟ سروے یہی بتارہے ہیں لیکن ’’ کب بدل جائے ووٹروں کا مزاج ‘‘ کے تحت کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ ویسے یہ بات یقینی ہے کہ ۲۰۱۷ء کے الیکشن کی طرح یہ الیکشن بھی آسان نہیں ہوگا۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ اب تک انتخابی دنگل کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہوتا تھا، ’ آپ‘ کی انٹری سے منظر نامہ بدل گیا ہے۔ پنجاب میں ملی کامیابی سے اس کے لیڈروں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ بی جے پی لیڈروں کو اُنہی کے انداز میں جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی سمیت بی جے پی کے تمام بڑے لیڈر کانگریس سے کہیں زیادہ کیجریوال اور دیگر لیڈروں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہیں اور سرکاری ایجنسیوں کی مدد سے انہیں نیچا دکھانے میں لگے ہیں۔ اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ تو نتائج کے بعد معلوم ہوگالیکن یہ طے ہے کہ ’آپ‘ کی اِنٹری سے کانگریس کو نقصان ہوگا کیونکہ سیکولر ووٹ بٹ جائیں گے۔
  مودی کے رعب داب کا ایک اثریہ بھی دیکھنے میں آیا کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں اب کُھل کر ’نرم ہندوتوا‘ کارڈ کھیلنے پر اترآئی ہیں وہ جان گئی ہیں کہ مودی اور بی جے پی کو اُنہی کے ہتھیار سے مات دی جاسکتی ہے، چنانچہ ۲۰۱۹ء کے دہلی الیکشن میں کیجریوال نے خود کو ہنومان بھکت بتایا اور ہنومان چالیسا سناکر بی جے پی کو دھول چٹائی ۔ ۲۰۱۷ء کے گجرات الیکشن میں راہل گاندھی نے ’جنیودھاری ہندو‘ ہونے کا دعویٰ کیا اور مندروں میں ماتھا ٹیکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گجرات میں پہلی بار بی جے پی کی جیت کا مارجن تین ہندسوں سے گھٹ کر دو ہندسوں یعنی ۹۹؍ سیٹوں پر سمٹ گیا۔ اس بار بھی بی جے پی لیڈروں کو اسی بات کا اندیشہ ہے لیکن خطرہ کانگریس سے نہیں ’ آپ‘ سے ہے ۔
  کانگریس کی حالت بہت بُری ہے ۔ کس کے وہم وگمان میں تھاکہ ملک کو آزادی دلانے والی کانگریس جس نے ایک طویل عرصے تک پورے ملک پر حکومت کی ، آزادی کے امرت مہوتسو میں دو ریاستوں میں محدود ہوجائے گی۔ دراصل کانگریس کا زوال اندرا گاندھی کے دَور سے ہی شروع ہوچکا تھا۔ان کے قتل پر راجیوگاندھی کو پارلیمانی الیکشن میں ملی غیر معمولی کامیابی ہمدردی کے ووٹوںکا نتیجہ تھی۔ اس کے بعد کانگریس مرکز میں کبھی اپنے بل پر حکومت نہیں بناسکی اسے ہمیشہ بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑا۔ نرسمہاراؤ ایک اقلیتی حکومت کے سربراہ تھے تو منموہن سنگھ مخلوط حکومت کے۔ ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی الیکشن کے بعد کانگریس مسلسل زوال پذیر رہی ہے۔ ۲۰۱۸ء میں راجستھان ، ایم پی اور چھتیس گڑھ میں ملی کامیابی ، ہماری دانست میںاتفاقیہ تھی۔ اُن میں بھی وہ ایم پی میں اقتدار قائم رکھنے میں ناکام رہی۔ امیت شاہ نے دَل بدلوؤں کی مدد سے اس کا تختہ پلٹ دیا۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد دَل بدلی کا سب سے زیادہ نقصان کانگریس کو ہوا۔ اُس کے موقع پرست اور اقتدار پسند لیڈر وَن وے ٹریفک کی طرح بی جے پی کی گود میں جا بیٹھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست میں نظریاتی واخلاقی اقدار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ، ہر شے بکاؤ بن گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کانگریس کی کمزور قیادت اور داخلی انتشار ہے۔ راہل گاندھی ، ۲۴؍ گھنٹے کی متقاضی سیاست کے پارٹ ٹائمسیاستداں واقع ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بھارت جوڑو یاترا کو غیرمعمولی کامیابی مل رہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ اس سے جُڑتے جارہے ہیں اور راہل گاندھی کا قد اونچا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یاترا ووٹوں میں تبدیل ہوسکے گی؟  اس کا جواب مشکل ہے کیونکہ زمینی سطح پر کانگریس کی انتخابی مہم ہلچل پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مودی اور بی جے پی کو شکست دینے کے لئے یاترا کی نہیں ملک گیر تحریک کی ضرورت ہے۔اچھا ہوتا اگر راہل گاندھی یاترا سے زیادہ وقت نکال کر اپنی پوری توجہ اور قوت گجرات الیکشن پر لگاتے۔ گجراتی بدلاؤ کے حق میں ہیں۔ اُن کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی بیروزگاری اورمہنگائی ہے جس پر کوئی بات نہیں کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK