Updated: September 11, 2026, 11:34 AM IST
| Guwahati
آسام کے مسلم اکثریتی ضلع گول پاڑہ میں ۷۳؍ مکانات کی مسماری کے معاملے پر گوہاٹی ہائی کورٹ نے ضلع انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کارروائی کو بادی النظر میں ’غیر قانونی اور غیر مجاز‘ قرار دیا ہے۔ عدالت نے انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ ذاتی زمین پر قائم مکانات کو صرف ۲۴؍ گھنٹے کے نوٹس کے بعد منہدم کرنے کی ایسی کون سی ’فوری اور ہنگامی صورتحال‘ پیدا ہوگئی تھی۔
گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام کے مسلم اکثریتی ضلع گول پاڑہ میں ۷۳؍ مکانات کو مسمار کئے جانے پر انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ متاثرہ رہائشیوں کی جانب سے ۲۴؍ گھنٹے کے انتہائی مختصر نوٹس کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس دیواشیس بروا نےضلع انتظامیہ سے سوال کیا کہ ایسی کون سی ’’فوری اور ہنگامی صورتحال‘‘ پیش آ گئی تھی جس کی وجہ سے ذاتی زمین پر اتنی جلد بازی میں اتنا سخت قدم اٹھانا پڑا۔ متاثرین نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ۵؍ ستمبر کو نوٹس دے کر ۲۴؍ گھنٹے کے اندر مکانات خالی کرنے کو کہا گیا تھا اور ۷؍ ستمبر کی صبح ہی ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔
عدالت نے مٹیا کے سرکل آفیسر کی اس کارروائی کو پہلی نظر میں ’’غیر قانونی، غیر مجاز‘‘ اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ جج نے کہا کہ متاثرین کو مکانات گرائے جانے سے پہلے اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا جو موجودہ دور میں ’’بالکل ناقابلِ تصور‘‘ ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کے نوٹس سے کسی ایسی ہنگامی صورتحال کا ثبوت نہیں ملتا جو کسی کی ذاتی زمین پر اس قسم کے سخت اختیارات کا استعمال جائز ٹھہرا سکے۔ سینئر وکیل ایس بورٹھاکر نے عدالت میں متاثرین کے حق میںاپنامؤقف پیش کرتے ہوئےکہا کہ مسماری سے پہلے رہائشیوں کو اعتراض درج کرانے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔
ہائی کورٹ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ جن مکانات کے خلاف یہ کارروائی ہوئی وہ درخواست گزاروں کی ذاتی ملکیت والی زمین پر بنےہوئے تھے۔ عدالت نے آسام ایگری کلچرل لینڈ ایکٹ ۲۰۱۵؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر ایک بیگھہ یا اس سے کم زرعی زمین پر اپنی رہائش کیلئے دو منزلہ تک گھر بنایا جائے تو اس کیلئے ڈسٹرکٹ کمشنر کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، عدالت نے اس بات پر حتمی فیصلہ نہیں دیا کہ گرائے گئے تمام مکانات اس قانون پر پورا اترتے تھے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت ہند کے حکم کے باوجود میٹا بچوں کیساتھ زیادتی والے اشتہار چلا رہا ہے: رپورٹ
عدالت نے سرکاری وکیل ایس ایس رائے کوحکم دیا ہے کہ وہ متعلقہ حکام سے ہدایات حاصل کریں اور اگلی سماعت پر یہ وضاحت پیش کریں کہ وہ کون سا ’’فوری خطرہ‘‘ تھا جس کی وجہ سے مکانات گرانا ضروری ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے متاثرین کو اپنے مالی نقصان کی تفصیلات کا حلف نامہ جمع کرانے کی اجازت دی ہے اور گول پاڑہ کے ڈسٹرکٹ کمشنر اور مٹیا سرکل آفیسر کو حکم دیا ہے کہ ۱۱؍ ستمبر کی اگلی سماعت تک اس زمین پر کوئی مزید کارروائی نہ کی جائے۔