• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ مظاہرین پر زیادتی معاملہ کی جانچ کمیٹی میںکوئی تبدیلی نہیں ہوگی

Updated: September 11, 2026, 3:41 PM IST | Agency | New Delhi

سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے حکم دیا،کہا:یہ کمیٹی عدالت کی توسیعی شاخ ہے،متعصب سمجھنا سراسر غلط ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ حال ہی میں دہلی میں نیٹ اسٹوڈنٹس کے مظاہرین کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتی اور پولیس اہلکاروں کے خلاف تشدد کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ۵؍ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں کسی بھی تبدیلی کا مطالبہ قبول نہیں کرے گی۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر سبھاش ریڈی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائےمالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے سماعت کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ’’یہ کمیٹی عدالت کی توسیعی شاخ ہے‘‘ اور عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی کسی بھی کمیٹی کو پہلے ہی سے متعصب سمجھنا سراسر غلط ہے۔ عدالت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کمیٹی سے کہیں غلطی ہوئی ہے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے، جہاں اسے کھلی سماعت کا مکمل موقع دیا جائے گا۔

کرناٹک میں ’وندے ماترم‘ کے صرف دو بندگائے جائیں گے

سماعت کے دوران بعض درخواست گزاروں کے وکلا، جن میںپرشانت بھوشن اور گوپال شنکرنارائنن شامل تھے نے کمیٹی کےایک رکن، جو شمال مشرقی ریاست کے سابق ڈی جی پی ہیں، پر’مفادات کے ٹکراؤ‘ کا الزام لگاتےہوئے کمیٹی کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا۔ تاہم، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ان اعتراضات کی سخت مخالفت کی۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ شمال مشرقی ریاست کے سابق ڈی جی پی کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ مرکزی دھارے کی سیاست سے دور اور غیر جانب دارہیں۔جسٹس باگچی نے بھی اس بات کو دہرایا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج کی سربراہی والی کمیٹی پر بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے تعصب کا شبہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ اس دوران عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شامل ایک طالب علم کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے والے گریٹر نوئیڈا کے ایگزیکٹیومجسٹریٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK