عادت سے مجبور میڈیا اچھی خبریں بھی چھپا رہا ہے

Updated: March 30, 2021, 6:46 AM IST | Hasan Kamal

اِدھر چند ہفتوں کے دوران کچھ بہت اچھی باتیں بھی ہوئی ہیں جن کی تشہیر ضروری تھی مگر میڈیا، جو خبریں چھپانے کا عادی ہوگیا ہے، عادت کے مارے ان خبروں کو بھی دبائے بیٹھا رہا۔

Media
میڈیا

ہمارے مین اسٹریم میڈیا کو عوام سے سچائیاں چھپانے کی اتنی بری لت پڑ گئی ہے کہ وہ ایسی خبریں بھی عوام کو بتاتے سے ڈرنے لگا ہے جو ہندوستان کیلئے اچھی ہوتی ہیں۔ اسے فکر رہتی  ہے کہ کہیں دیش کیلئے اچھی ثابت ہونے والی یہ خبریں مودی سرکار بالخصوص خود نریندر مودی کے امیج کیلئے خطرہ نہ بن جائیں۔ مودی نے اپنا امیج ایسا بنایا ہے کہ وہ نہ کسی سے ڈر سکتے ہیں، نہ ہی کسی سے گفتگو کرتے وقت کوئی مروت کر سکتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں چند ایسی ہی باتیں سنائی دی ہیں، جن سے ہندوستان کا بین الاقوامی  امیج بہتر ہوا ہے، لیکن جن پر اگر کھل کر باتیں ہونے لگیں تو مودی سرکار اور خود وزیر اعظم کے ’مردانگی کا نمونہ‘ امیج پر حرف آنے کا خطرہ پیدا ہو جائیگا۔ آج کل خبروں کو روکا نہیں جاسکتا تاہم میڈیا کو ان  خبروں کی اہمیت گھٹا کر انہیں کم اہم اور معمولی بنا کر پیش کرنا بھی آتا ہے۔ مثلاً  پچھلے ماہ یعنی فروری میں اعلیٰ ہندپاک افسروں نے ہاٹ لائن پر گفتگو کی اور اگلے دن  ایک معاہدہ پر دستخط بھی کئے۔ 
 اب یہ تو ہوا نہ ہوگا کہ اچانک پاکستان کے کسی اعلیٰ سطحی فوجی افسر کے جی میں آیا ہوگا کہ چلو اپنے ہندوستانی ہم منصب سے بات کر کے اس کی خیرو عافیت دریافت کی جائے۔ دوسری طرف فون کی گھنٹی بجنے  پر ہندوستان کے اسی سطح کے افسر نے سوچا ہو کہ چلو  بات کر ہی لیتے ہیں۔اور پھر باتوں باتوں میں طے کر لیا ہو کہ کل سے گولیاں نہیں چلیں گی۔ اس سرحد میں دونوں فوجوں کی طرف سے  ۲۰۱۵ء سے بلاغہ فائرنگ  ہو رہی تھی۔ فائرنگ ہی نہیں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگایا جا رہا تھا۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ دونوں طرف ہزاروں عام شہری خصوصاً  عورتیں اور بچے ہلاک ہو رہے تھے۔ اس لئے اگر یہ معاہدہ ہوا تو یہ کوئی معمولی خبر نہیں تھی۔ یقیناً  دونوں ملکوں پر یا تو جنگ بندی کیلئے کسی نہ کسی نے دبائو ڈالا ہوگا یا پھر کسی نے مصالحت کرائی ہو گی۔ جو بھی ہو خبر ایسی نہیں تھی جسے دو چار سطروں یا دو چار جملوں میں ٹرخا دیا جائے۔ لیکن کیا ایسا ہی گیا۔ کیونکہ میڈیا کو خوف ہوا کہ اس سے مودی سرکار کی دہشت گردی کے خاتمہ کے بغیر پاکستان سے کوئی معاملہ یا سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی کی نفی ہوتی ہے۔ حالانکہ جنگ بندی کے اجراء کے اس معاہدہ پر دونوں ملکوں کو اقوام متحدہ نے بھی مبارک باد دی اور امریکہ اور برطانیہ نے بھی اس کا خیر مقدم کیا، لیکن ہمارے میڈیا نے اسے یکسر نظر انداز کیا۔ ایک اور چھوٹی سی مثال ملاحظہ ہو۔ ہندو پاک میں مدت سے ایک آبی تنازع جاری ہے۔ ہندوستان دریائے چناب پر کچھ ایسے پل بنانا چاہتا ہے، جس سے پاکستان کو پانی کی فراہمی کم ہو سکتی ہے۔ کیا آپ کو ہمارے میڈیا نے بتایا کہ ۲۳ ۔۲۴؍  مارچ کو ایک آٹھ رکنی پاکستانی وفد ہندوستان آیا اور ڈھائی سال بعد دونوں ملکوں نے اس تنازع کو حل کرنے کیلئے بات چیت شروع کی؟  میڈیا نے اسے کیوں چھپایا؟ صرف اسلئے کہ پلوامہ  سانحہ کے بعد بی جے پی کے لیڈروں نے قسم کھائی تھی کہ پاکستان کو  پانی کی ایک  ایک بوند کیلئے ترسا دیا جائے گا۔ ظاہر ہے یہ بات  لوگوں کو  معلوم ہوتی تو انہیں مذکورہ قسم بھی یاد آجاتی اور پھر سوال اٹھائے جاتے۔ حالانکہ اس خبر کی بھی دُنیا میں تعریف ہوئی ہے۔ 
 کچھ  اور باتیں ہیں جو  پس پردہ بھی ہو رہی ہیں اور سامنے بھی نظر آرہی ہیں۔ میڈیا کو ان باتوں کا بخوبی علم ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ سرکار کے امیج کی فکر سرکار سے زیادہ میڈیا کو  ہے۔ اس لئے میڈیا ان باتوں کو چھپانے کے لئے زور زور سے پانچ اسمبلی انتخابات کا ڈھول پیٹ رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ کسی اور طرف جا ہی نہ سکے۔ 
 بین الاقوامی معاملات پر نظر  رکھنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ یقیناً عمران کو بھی کچھ باتوں کا یقین دلاکر احتیاط کرنے کا مشورہ دیا گیا ہوگا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کیلئے یو اے ای کے وزیر خارجہ نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔ اس کے کچھ ہی دنوں پہلے عمران خان کا اور اس کے بعد پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوا کا بیان آیا کہ ہند و پاک کو ماضی کی تلخیاں  بھلاکر از سر نو تعلقات نارمل کرنا چاہئے اور مسئلہ ٔکشمیر کو مکالمہ کے ذریعہ حل کر لینا چاہئے۔ یہ سب اچھی خبریں تھیں، لیکن میڈیا نے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ 
 ہمارے میڈیا کو شاید اب تک یاد ہے کہ مودی جی نے وزیر اعظم بننے سے پہلے کس طرح ڈاکٹر من موہن سنگھ کو بہت کڑے لفظوں میں نصیحت کی تھی کہ انہیں چین اور پاکستان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے۔  انہوں نے کہا تھا کہ چین کو لال آنکھوں سے سمجھانا چاہئے اور پاکستان کے لیڈروں کو لوَ لیٹر لکھنا بند کرنا چاہئے۔ لیکن ۲۳؍ مارچ کو ہمارے وزیر اعظم نے عمران خاں کے نام جو خط لکھا، اس کا مضمون سن کر تو سننے والوں نے دانتوں تلے انگلی دبالی۔ ایک تو انہوں نے عمران خان کو ایکسی لینسی یا ’’ عالی مرتبت‘‘ کہہ کر مخاطب کیا،  پھر یوم پاکستان کی مبارک باد دی۔ ایک تہنیتی پیغام کیلئے بس یہی کافی تھا، لیکن ہمارے وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں پڑوسی ممالک خوف و دہشت اور عداوت کے سائے سے دور ایک دوستانہ ماحول میں رہیں ، جو انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عمران خان کی صحتیابی کے لئے بھی دعا کی اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اسے اگر لو َلیٹر نہ کہا جائے توبھی ایک بہت دوستانہ اور مخلصانہ خط بہر حال کہا جائیگا۔ سنا ہے کہ ہمارے صدر جمہوریہ نے پاکستانی صدر کو بھی بالکل اسی نوعیت کا خط بھیجا ہے۔ ہمارا میڈیا ان خطوط کو بھی گول کر گیا۔ اس نے عادت سے مجبور ہو کراچھی خبر بھی چھپا نے کی کوشش کی مگر سوشل میڈیا پر خط گردش میں آگیا۔  
 پالتو میڈیا کو عوام سے سچائیاںچھپانے کیلئے ان دنوں خاصی مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔ یاد رہے کہ چند دنوں پہلے امریکی دفاع سکریٹری لائڈ آسٹن بھی بھارت آئے تھے۔ بائیڈن کے صدر بننے کے بعد یہ ان کے کسی اہم وزیرکاپہلا دورہ تھا۔ انہیں امریکی خارجہ کمیٹی کے چیف بوب ایمنڈے نے کشمیر، سی اے اے، صحافیوں کی گرفتاری، کارکنوں پر ملک سے غداری کے مقدمات اور کسان تحریک جیسے امور پر گفتگو کی تاکید کی تھی۔ وہ تین دن رک کر چلے گئے، لیکن یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ انہوں نے کس سے اور کیا بات کی۔ جب یہ مضمون آپ کے زیر نظر ہوگا اور تاجکستان میں ہندوستانی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دوشانبے میں مل رہے ہوں گے۔ اس ملاقات اور اس کے نتیجے کو بھی شاید چھپا ہی لیا جائے، حالانکہ یہ ایک مثبت عمل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK