حیدر رہے بیاباں میں روز و شب

Updated: September 26, 2022, 1:18 PM IST | Shakeel Ayjaz | Akola

ان دنوں اتنی بڑی تعداد میں علاقائی، ضلعی، چھوٹے بڑے ایوارڈس بانٹے جارہے ہیں کہ جب کسی اوریجنل ادیب کو ملتا ہے تو وہ تشہیر نہیں کرتا ہے کہ کہیں لوگ اُسے بھی سفارشی ایوارڈ یافتہ نہ سمجھ لیں۔ ایک حقیقی ادیب کو پیشگی اطلاع دی گئی کہ آپ کو شہر کی طرف سے ایوارڈ دیا جارہا ہے تو معذرت کرنے لگا کہ بھائی، مَیں اپنی گوشہ گیری میں عزت کی زندگی گزار رہاہوں ایوارڈ ملنے کے بعد لوگ مذاق بنائیں گے۔ مَیں کس کس سے لڑتا رہوں گا۔

Haider Bayabani .Picture:INN
حیدر بیابانی ۔ تصویر:آئی این این

 لڑکپن میں گھر کی چوری سے ہم میٹنی شو کی فلمیں دیکھتے تھے۔ ۱۹۷۰ء (گھر کی چوری سے یعنی گھر سے چرائے پیسوں سے نہیں بلکہ گھر کے بزرگوں کی چوری سے) میں تین دوستوں کا ٹولہ تھا۔ ٹکٹ کے پیسے جمع ہوجاتے تو ہم ایک خاص دوست کو ڈھونڈنے نکل جاتے۔ چائےپلاکر اُس سے پوچھتے کہ اس وقت شہر کے سات عدد سینما گھروں میں کون سی فلمیں اچھی ہیں۔ وہ دو تین نام بتاتا۔ یہ فلمیں چھوڑ کر کسی فلم میں چلے جاتے۔ گزشتہ تجربات سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ وہ جس فلم کی تعریف کرتا ہے وہ سب سے خراب ہوتی ہے۔ بچپن کا ذہن آج بھی کام کرتا ہے۔ میں نے کچھ ’لوگ‘ ذہن میں رکھے ہوئے ہیں کہ وہ جس کتاب کی تعریف کریں گے اُسے چھوڑ کر سب پڑھنا ہے۔ اچھا ہوا کہ حیدر بیابانی کی شاعری کی تعریف کرنے والوں میں ان میں سے ایک بھی ’لوگ‘ نہیں ہے۔ یوسف ناظم ،رام لعل، رفیعہ منظورالامین، دلیپ سنگھ، حکیم محمد سعید، بانو سرتاج، غلام حیدر، وکیل نجیب، قاضی مشتاق احمد، سید صفدر اور اظہر حیات وغیرہ نے ان کی تعریف کی ہے۔ حیدر بیابانی کے بچپن کے دوست سید غلام علی لکھتے ہیں کہ بچپن میں حیدر کے دوستوں کا دائرہ بہت محدود تھا۔ (اس میں صرف لڑکیاں ہوں گی اور اسی محدود دائرہ کے سبب شاعری پر طبیعت مائل ہوئی ہوگی کیونکہ ۱۴؍ پندرہ برس کی خطرناک کہی جانے والی عمر میں کہ جب لڑکوں کو مسکراہٹیں اور پیار سے دیکھتی آنکھیں اچھی لگنے لگتی ہیں،اس عمر میں ہی حیدر بیابانی نے لکھنا شروع کردیا تھا۔ ) غلام علی کہتے ہیں کہ حیدر، اچھا کھانے پینے کے سبب لڑکپن میں بھی اپنی طبعی عمر سے کچھ زیادہ کے نظر آتے تھے۔ (اس کا نقصان یہ ہوتا ہوگا کہ شادی کی محفلوں میں ان کے ہم عمر لڑکے، خواتین کی مجلس میں گھوم پھر کر، کھانوں کی خوشبو اور پردوں کے رنگ دیکھ کر خوشی خوشی لوٹ آتے ہوں گے اور حیدر کو باہرہی روک دیا جاتا ہوگا۔ یہ تڑپ بھی ان کے شاعر بننے میں مددگار ثابت ہوئی ہوگی۔) ان کو نوکریاں راس نہیں آئیں اس لئے زراعت اور تجارت کا پیشہ اپنالیا۔ تاہم ان کو تین بار مدرس اور ایک بار کلرک ہونا ہمیشہ یاد آتا ہے۔ (یہ دوران تعلیم ٹیچرس ڈے کی بات تو نہیں ہورہی ہے؟ کیونکہ ٹیچرس ڈے پر لڑکوں کوٹیچر بننے میں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ چپراسی تو اس روز اسکول کا ہیرو ہوتا ہے جدھر سے گذرتا ہے ہنسی قہقہے بٹورتا ہے)
 غلام علی نے حیدر بیابانی کی ادبی جدوجہد پر ایک پیراگراف اس جملے پر ختم کیا ہے کہ ’’اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔‘‘ میں اس جملے سے اسکول کے زمانے میں بہت پریشان رہا۔ عظیم شخصیات کی سوانح میں بار بار آتا تھا کہ انھوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ اساتذہ اس کا مطلب سمجھاتے نہیں تھے۔ پیچھے مڑے بغیر آگے بڑھ جاتے تھے۔ بچپن کی عقل سے غور کرتا تو خیال آتا کہ گردن میں درد رہتا ہوگا۔ نس پہ نس چڑھ گئی ہوگی۔ اُونس بھر گئی ہوگی۔ پتھر بن جانے کے خوف سے پیچھے نہیں دیکھتے ہوں گے۔ یا مڑکر دیکھ لیں تو پولیس پیچھے لگ جاتی ہوگی کہ کچھ چرا کر بھاگ رہا ہے۔ یا پیچھے بہت سارے لوگ بھاگتے ہوئےآتے ہوں گے، مڑکر دیکھنے میں رفتار اور وقت کا نقصان ہوگا۔ یہ بھی خیال آتا کہ بھاگتا سانپ پیچھے مڑکر نہیں دیکھتا۔ سوچتے سوچتے ان کا بھی خیال آجاتا جو پیچھے مڑکر ضرور دیکھتے ہیں۔ جیسے پتھر سے پٹ کر بھاگتا کتا پیچھے مڑ مڑکر بھونکتا ہے۔ اسکول کالج کی لڑکیاں مڑ مڑکر دیکھتی ہیں کہ خدانہ کرے ہمارے پیچھے دو چار لڑکے بھی نہ ہوں۔  حیدر صاحب کی ۲۹؍ کتابیں ہیں۔ ان میں سے۱۴؍ کے دو دو، تین تین ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس ریکارڈ سے مَیں بہت پریشان ہوں کہ اس کی برابری کیسے کروں کیونکہ میں، ان چند لوگوں میں سے ہوں جو فطرتاً ادیب نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کے حرص میں ادیب بن بیٹھتے ہیں۔مَیں ، اچھا ادب تخلیق کرنے پر محنت کرنے کےبجائے محض ریکارڈ بنانے پر محنت کرتا ہوں۔ اپنی ہر کتاب میں مکمل بایوڈاٹا چھاپتا ہوں تاکہ ’’قافیہ نہیں ملا‘‘ کہہ کر چِلّانے والا، بایوڈاٹا کے ’’وزن سے تومرے گا۔‘‘ ان دنوں اتنی بڑی تعداد میں علاقائی، ضلعی، چھوٹے بڑے ایوارڈس بانٹے جارہے ہیں کہ جب کسی اوریجنل ادیب کو ملتا ہے تو وہ تشہیر نہیں کرتا ہے کہ کہیں لوگ اُسے بھی سفارشی ایوارڈ یافتہ نہ سمجھ لیں۔ ایک حقیقی ادیب کو پیشگی اطلاع دی گئی کہ آپ کو شہر کی طرف سے ایوارڈ دیا جارہا ہے تو معذرت کرنے لگا کہ بھائی، مَیں اپنی گوشہ گیری میں عزت کی زندگی گزار رہاہوں ایوارڈ ملنے کے بعد لوگ مذاق بنائیں گے۔ مَیں کس کس سے لڑتا رہوں گا۔ سفارشی ایوارڈس اور بوگس ڈگریوں کی بھر مار کے تماشوں سے تنگ آئے لوگوں کی نظر میں اب ’محروم‘ ہی ’محترم‘ ہوتے جاتے ہیں۔
 غلام علی نے برائے افتخار لکھا ہے کہ حیدربیابانی کی ۲۰؍نظمیں سرقہ ہوئی ہیں، اس لئے یوسف ناظم نے انہیں ’’سرقہ کاروں کا محبوب شاعر‘‘ لکھا ہے۔ سرقہ والی بات سن کر میرے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ اب یہ ریکارڈ برابر کرنے کے لئے اپنی تخلیقات کس سے سرقہ کرائوں مَیں؟ یہیں تک تو کتنی مشکل سے پہنچاہوں۔ مجھ جیسے ایک حرص خورے، ریکارڈ گزیدہ ادیب نے اس کے لئے بہت کوشش کی لیکن ۲۰؍تو کیا اپنی ایک نظم بھی سرقہ نہ کراسکا۔ آخر کار دوستوں سے کہا یار میری کوئی نظم سرقہ کرونا! دوست کس کام آئیں گے؟ تم سرقہ کرو مَیں شور کرتا ہوں۔ کسی نے توجہ نہ دی۔ مجھ جیسے نقلی ادیبوں کو قدرت بھی اصلی بڑا بننے نہیں دیتی۔ 
 حیدر بیابانی سے آج تک میری ملاقات نہیں ہوئی، وہ کیسے ہوں گے خلیل برہانپوری کے اس شعر سے اندازہ ہوتا ہے :
کیسا گول مٹول بدن ہے=دلکش ہے انمول بدن ہے
ان پر ہر دم فضل ربی =بچوں کے شاعر حیدر جی
مرتضیٰ ساحل تسلیمی نے نکتہ پیدا کیا ہے کہ حیدر (شیر) بیابان میں نہ رہے گا تو کہاں رہے گا؟
رہے بیاباں میں روز وشب =شیر ہے ان کے نام کا مطلب
(شیر آجکل نیشنل ہائی ویز پرنکل آتے ہیں۔ بیچوں بیچ بیٹھ کر دونوں طرف رُکے ٹریفک سے محظوظ ہوتے ہیں۔ دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوں گے کہ لوگ ہم کو عالمی لیڈر یا عالمی مجرم سمجھ کر اشتیاق سے دیکھ رہے اور فوٹو نکال رہے ہیں۔ لیکن اسی عالمی وجہ سے نزدیک نہیں آتے۔ کون سکھ کی جان دُکھ میں ڈالے۔ حیدر کو یعنی شیر کو چاہئے کہ وہ بیاباں میں رہ کر جنگل کے بچوں کے لئے شاعری کرے لیکن اس کے لئے اَنا کا مسئلہ ہے۔ وہ ہاتھی ، بندر، کبوتر، مینڈک، مچھلی، کوے کی تعریف میں اشعار کس دل سے کہے گا۔ یوسف ناظم کہتے ہیں کہ ’’ حیدر بیابانی جب جنگل میں بھی جاتے ہیں تو آنکھیں کھول کر راستہ چلتے ہیں۔ حالانکہ بیاباں میں ٹریفک کا کیا مسئلہ ؟ لیکن احتیاط بڑی چیز ہے۔‘‘
 حیدر بیابانی کی صحت اور بلند قامتی کے بارے میں کئی قلم کاروں نے لکھا ہے :
قد کی اونچائی کا ہم کریں کیا بیاں=کوئی مینارہ بچوں کے ہے درمیاں (متین اچلپوری)
’’بلند قامتی کے سبب ایک آدھ میٹر کپڑے کا ناش مارتے اور دروازے کی چوکھٹوں سے سر پھوڑتے ہیں۔‘‘ (بابو آر کے)۔(برار میں ڈاکٹر سید صفدر اور مَیں شکیل اعجاز، اس خطرے سے محفوظ ہیں۔ چھوٹا دروازہ بھی ہمارا سر نہیں پھوڑسکتا۔) بابو آر کے لکھتے ہیں کہ دورانِ سفر حیدر بھائی جیسوں کو لوگ اپنی نشست ہاتھ جوڑ کر پیش کردیتے ہیں اور ہم جیسوں کو ہاتھ پکڑ کر اپنی نشست سے اٹھا دیتے ہیں۔
 حیدر بیابانی کا ہر شعر بچوں کے لئے ہے لیکن غور کرنے پر اس میں وہ پہلو بھی نکلتے ہیں جو میں نے قوسین میں لکھے ہیں۔
- سردی میں وہ خوب لگے/ بارش میں مرغوب لگے/ گرمی میں محبوب لگے/ ہے ایسی وہ بھلی بھلی۔ (رومانیت)
- جنت کی وہ حور ہے کوئی یا پریوں کی رانی ہے+ہم اس کے دیوانے ہیں وہ پھولوں کی دیوانی ہے۔ (رومانیت)
- رنگ بدلتی اس دنیا میں کس کس کو پہچانو گے+سادھو بھی نکلے گا ڈاکو ایسا بھی ہوسکتا ہے (لیڈر)
- ان کا کچھ گھر دار نہیں ہے/کوئی کاروبار نہیں ہے/کرتے چھینا چھپٹی کرتے دنگے بندرجی/چھی چھی چھی (لیڈر)
- ٹھٹھرتے کانپتے سردی کے صبح و شام آئے ہیں+کسی نے دی نہیں دعوت یہ مہماں بن بلائے ہیں (حیدر بیابانی)
 غلام علی اور حیدر بیابانی آپس کی باتوں میں ’’بن بلائے مہمان‘‘ کے لئے ذاتی کوڈ ’’سردی کے صبح و شام‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ حیدربیابانی کے ساتھ دو تین نئے لوگ دیکھ کر غلام علی نے پوچھا آپ لوگ کون ہیں؟ حیدربیابانی نے مسکراکر کہا سردی کے صبح و شام۔ غلام علی نے مصنوعی خندہ پیشانی سے ان سے ہاتھ ملاکر حیدربیابانی سے پوچھا۔ سردیاں کب ختم ہونگی؟ سردیاں ختم ہوتے ہی ایک نئی کتاب پر کام کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK