Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہانِکارک

Updated: August 10, 2026, 12:06 PM IST | Waseem Aqeel Shah | Mumbai

وہ تیزی سے دوڑتا ہوا سامنے والی گلی میں مڑ گیا ـ اسے یقین تھا کہ بے شمار قدموں کی لرزہ خیز چاپ اور بپھرے ہوئے ہجوم کا شور اس کے بالکل پیچھے ہے ۔ـ ذرا سی سستی اس کی جان کو جوکھم میں ڈال سکتی تھیـ

Picture: INN
تصویر: آئی این این
وہ تیزی سے دوڑتا ہوا سامنے والی گلی میں مڑ گیا ـ اسے یقین تھا کہ بے شمار قدموں کی لرزہ خیز چاپ اور بپھرے ہوئے ہجوم کا شور اس کے بالکل پیچھے ہے۔ ذرا سی سستی اس کی جان کو جوکھم میں ڈال سکتی تھی ـ لیکن گلی میں داخل ہوتے ہی اس نے بڑی چالاکی سے انھیں چکما دے دیا اور ہانپتے کانپتے چائے کی ایک خستہ سی ٹپری کے پیچھے جا چھپا۔ 
اس کا دل اس زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی دھک دھک کرتا ہوا سینہ سے نکل پڑے گا۔ ہر طرف سناٹا بول رہا تھا۔ اسے حیرت ہوئی کہ ابھی رات کوئی اتنی گہری بھی نہیں ہوئی اور یہ سائیں سائیں سناٹا ـ ـ ـ ـ! اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے منہ پر رومال رکھ لیا تاکہ ہانپنے کی آواز اس کے وجود کے حصار سے باہر نہ نکل سکےـ
کچھ دیر اسی طرح گزارنے کے بعد جب اس کی سانسیں معمول پر آئیں تو وہ خود کو کوسنے لگا۔ آج اگر ہاسٹل میں دوستوں کے ساتھ ٹھہر جاتا تو کیا برا تھا ؟ وہ ۲۵؍ کلومیٹر دور شہر کے ایک کالج میں زیرِ تعلیم تھا اور روزانہ کالج کے بعد دو الگ الگ کلاسوں میں ٹیوشن لے کر اپنے گاؤں لوٹ آتا تھا۔ البتہ کبھی کبھی دوستوں کے ساتھ ہاسٹل ہی میں رک جاتا تھا۔ آج جبکہ دوست بضد تھے کہ وہ یہیں ٹھہر جائے لیکن پتا نہیں کیوں وہ انہیں ٹال گیا ! 
اس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ اپنے ہی گاؤں میں حالات اس قدر سنگین صورت اختیار کر لیں گے کہ بس اسٹاپ سے گھر تک کی دس منٹ کی یہ دوری اس کے  لئے آگ کا دریا ثابت ہوگی۔ ہجوم بس اسٹاپ ہی سے اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔ جیسے جیسے وہ بس اسٹاپ کی روشنیوں سے دور ہوتا جا رہا تھا ، ہجوم اس کے قریب آتا جا رہا تھاـ جلد ہی فاصلہ اتنا سمٹ آیا کہ اسے دوڑنا پڑا ـ سنسان سڑکیں ، بند دکانیں ، گھروں کے اندھیرے دالان اور ہر طرف چھائی ہولناک خاموشی سے اس نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو گاؤں میں فساد بھڑک اٹھا ہے۔ وہ من ہی من اپنے بچاؤ کی تدبیریں کرنے لگا ـ۔ اگر فسادی ہمارے ہوئے تو کوئی گھبرانے والی بات ہی نہیں ـ لیکن اگر ’’وہ‘‘ ہوئے تو میں اپنا نام اُنھی کے ناموں جیسا بتادوں گا۔ وہ ابھی اُن  کے ناموں میں سے اپنے  لئے ایک فرضی نام طے کر ہی رہا تھا کہ یکایک اسے شدید جھٹکا سا لگا  اور آنکھیں مارے حیرت کے پھیل گئیںـ ارے ، گاؤں میں تو ان کا ایک بھی گھر نہیں ہے ! تو یہ لوگ ـ ـ ـ ؟     اب وہ یہ گتھی سلجھانے میں لگ گیا کہ یہ ہجوم کن لوگوں کا ہےـ کچھ دیر سو چ بچار کر کے اور ساری کڑیاں جوڑ جاڑ کر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ تو اپنے ہی لوگ ہیں، ان سے بھلا کیا خطرہ ! 
اس کے اندر جما ہوا خوف کا تودہ پگھل گیا۔ دل کو ایک عجیب سا اطمینان حاصل ہواـ اس نے نڈر ہو کر ٹپری کی آڑ سے سر باہر نکالا ، کپڑے جھاڑے اور گردن اٹھا کر اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔ ابھی وہ چند ہی قدم آگے بڑھا تھا کہ گلی کے دوسرے سرے سے فسادیوں کا وہی ہجوم سامنے آ کھڑا ہوا۔ اب کے اس کی ٹانگیں نہیں کانپیں۔ ہجوم کے قریب آتے ہی اس نے دور جل رہی اکلوتی اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں دیکھا کہ ان میں سے کئی چہرے اس کے شناسا تھےـ اس نے خوف اور بے خوفی کے ملے جلے انداز میں مسکراتے ہوئے بہت سی ہمت مجتمع کی اور گویا ہوا : ’’ ارے، میں ہوں سمیر ! راجو بھائی کا بیٹا ـ ـ ، تم تو جانتے ہی ہو کہ میں شہر میں پڑھتا ہوںـ آج کالج کے بعد ٹیوشن میں زیادہ وقت لگ گیا ـ ـ ـ ـ۔
اگرچہ وہ اسے ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا، لیکن اس کی آواز میں درد کا پنچھی بھی کہیں پھڑ پھڑا رہا تھا۔ جیسے بھی ہو وہ بغیر رُکے ایک لَے میں کہہ جا رہا تھا۔ اسی دوران ہجوم کے بیچ میں کھڑا کسرتی جسم کا لمبا سا آدمی آگے بڑھا۔  اس سے پہلے کہ سمیر اپنی بات پوری کرتا، آدمی اس کے بالکل قریب چلا آیا۔ پھر اچانک ہوا میں ایک دھار دار چاقو لہرایا اور اگلے ہی پل ایک دردناک گھٹی گھٹی سی چیخ سناٹے کا جگر چیرتی ہوئی فضا میں تحلیل ہو گئی۔ چاقو اس کے جگر کے پار ہو چکا تھا ـ وہ دہرا ہو کر زمین پر گر پڑا۔ ـ دھیرے دھیرے اس کا بہتا خون گاؤں کی مٹی میں جذب ہونے لگا۔ اس نے بدقت نظر اٹھائی۔اس کی پھیلتی ہوئی پتلیوں کے سامنے وہی لمبا کسرتی بدن کا آدمی کھڑا کہہ رہا تھا :  ’’ تم سالے نئے بچے لوگ ، پڑھ لکھ کر  اُن سے بھی زیادہ ہانِکارک بنتے جا رہے ہو ! ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK