آن لائن ادائیگی پر چارج عائد کرنے کے حکومت کے فیصلہ کے خلاف تاجروں نے برہمی کا اظہار کیا، صارفین کو شدید پریشانیوں کا سامنا۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 11:44 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
آن لائن ادائیگی پر چارج عائد کرنے کے حکومت کے فیصلہ کے خلاف تاجروں نے برہمی کا اظہار کیا، صارفین کو شدید پریشانیوں کا سامنا۔
ملک بھر میں ڈیجیٹل معیشت اور کیش لیس لین دین کو فروغ دینے کے بعد اب حکومت کی جانب سے یو پی آئی پر چارجز عائد کرنے سے کاروباری طبقے میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔تاجروں کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے شہریوں اور تاجروں کو نقد لین دین سے ڈیجیٹل نظام کی طرف لائی اور اب اضافی فیس کا بوجھ ڈال کر تجارتی منافع کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اسی پس منظر میں مشہور تجارتی مرکز الہاس نگر میں تاجر برادری نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔
واضح رہے کہ آئندہ ۱۵؍ اکتوبر سے ۲؍ ہزار روپے سے زائد مالیت کے یو پی آئی لین دین پر۴؍فیصد ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ) چارج نافذکرنے کی حکومتی تجویز کے خلاف الہاس نگر میں بطور احتجاج جمعہ کے روز ’نو یو پی آئی ڈے‘ منایا گیا۔ آل انڈیا ٹریڈر اسوسی ایشن کی ملک گیر اپیل پر الہاس نگر شاپ کیپر اسوسی ایشن کے زیر اہتمام شروع کی گئی اس احتجاجی مہم کو مقامی دکانداروں کی بھرپور اور خود جوش حمایت حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کیلئے دستخطی مہم
شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں دکانداروں نے اپنی دکانوں پر نصب کیو آر کوڈ اور یو پی آئی اسکینر کو سیاہ کپڑے سے ڈھانپ کر آن لائن رقوم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنا شدید احتجاج درج کرایا۔ تاجروں کی اس علامتی ہڑتال کا براہِ راست اور سب سے زیادہ اثر عام صارفین پر پڑا۔ گزشتہ چند برسوں سے اسمارٹ فون کے ذریعے ادائیگیوں کی عادت پڑ جانے کے سبب زیادہ تر شہریوں کی جیبوں میں نقد رقم نہ ہونے کے برابر تھی۔جب گاہک خریداری کے لئے بازار پہنچے تو اسکینر پر سیاہ کپڑا دیکھ کر ششدر رہ گئے۔
دکانداروں کی جانب سے ڈیجیٹل پے منٹ بند ہونے پر خریداروں کو عین وقت پر خریداری ادھوری چھوڑ کر قریبی اے ٹی ایم کا رخ کرنا پڑا تاکہ نقدی نکلوائی جا سکے جس کے باعث بازاروں میں شدید افراتفری اور خریداروں کا وقت ضائع ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:سی جے پی کے جیل بھروآندو لن میں نوجوانوں کا جم غفیر
اس احتجاج پر عام شہریوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض شہریوں نے دکانداروں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا کے نام پر عوام اور چھوٹےتاجروں کو اس نظام کا عادی بنانے کے بعد اضافی مالی بوجھ لادنا کسی صورت جائز نہیں، حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا چاہیے۔دوسری طرف کئی خریداروں نے تاجروں کے اس طریقۂ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو اپنے مطالبات کے لئے حکومت کے سامنے آواز اٹھانی چاہیے، عام صارفین کو یرغمال بنا کر بازاروں میں پریشانی پیدا کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
اس موقع پر الہاس نگر شاپ کیپر اسوسی ایشن کے صدر دیپک چھتلانی نے کہا کہ اضافی ایم ڈی آر نافذ ہونے سے تاجروں کا منافع شدید متاثر ہوگا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے تاجروں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر کسی بھی قسم کا اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔