کیا ہم آن لائن تعلیم و تدریس میں ناکام ہوئے ہیں؟

Updated: September 13, 2020, 5:08 AM IST | Mubarak Kapdi

ای لرننگ اور ای ٹیچنگ دنیا کے چند ترقی پذیر ممالک میں پہلے ہی سے رائج تھے۔ کورونا وائرس کے پھیلائو اور اُس کی روک تھام کیلئے لاک ڈائون کی بنا پر آن لائن طریقہ تعلیم کو ہمارے ملک میں بھی اپنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہم اس کے ابتدائی دَور میںکتنے کامیاب اورناکام ہوئے ہیں، آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں

Online Education - PIC : INN
آن لائن تعلیم ۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر سارے ادارے اور سارے نظام درہم برہم ہیں۔ ان سب میں جس کیلئے سب سے زیادہ فکر ہورہی ہے، وہ ہے تعلیمی نظام۔ اسلئے کہ معاشی، طبّی ، ثقافتی، تجارتی اور سارے نظام تعلیمی پیش رفت کے محتاج ہیں۔ طلبہ ، والدین، اساتذہ اور انتظامیہ فکر مند ہیں کہ آخر اس تعلیمی سال ۲۱۔۲۰۲۰ء کا حشر کیا ہوگا کیونکہ بد بختی سے اب کووِڈ کے مریضوں کی تعداد اس ملک میں اچانک بڑھنے لگی ہے۔ حکومتِ وقت موجودہ سارے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ عوامی غم و غصہ ختم کرنے اور اوچھی و بھونڈی مقبولیت حاصل کرنے کیلئے وہ کسی بھی نچلی سطح پر جاسکتی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ وہ موجودہ تعلیمی سال ہی کو دائو پر نہ لگادے۔ یعنی دسمبر /جنوری میں صرف دوماہ کیلئے تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں اور دو مہینوں میںنصاب کا ۲۰؍فیصد حصہ کسی طرح پڑھایا جائےاور اُتنے ہی نصاب پر جھٹ پٹ امتحان لے کر سب کو ’پاس‘ کرنےکا اعلان کردیا جائے۔ پھر جون /جولائی ۲۰۲۱ء تک تعلیمی ادارے بند کردیئے جائیں۔ محکمہ تعلیم، پروفیشنل کورسیز کے ساتھ بھی یہی برتائو کرسکتا ہے یعنی اُنھیں اگلی کلاس میںترقی دے دی جائے۔
  اس اقدام سے حکومت کو کیا حاصل ہوگا ؟ (الف) حکومت کی ساری غفلتوں پر پردہ پوشی (ب) وائرس کو روکنے میں ناکامی کے آزاد میڈیا کے احتجاج پرروک تھام (ج) پی ایم کئیر فنڈ کے حقائق راز بنے رہیں (د) جی ڈی پی کی دُرگت پر خاموشی برقرار رہے اور(و) سب سے بڑا حاصل اس حکومت کویہ ہوگا کہ صرف دو ماہ کی جوں توں پڑھائی سے والدین کے ہاتھوں میں ’پاس‘ کا رزلٹ آجائے گا، اُس سے خوش ہوکر آنے والے چند اسمبلی انتخابات میںاُسے بھرپور ووٹ ملیں ۔
 اللہ کرے کہ ملک بھر میں کووِڈ مریضوں کی تعداد میں کمی آتی جائے ورنہ یہ شاطر سیاست داں صرف دو ماہ میں تعلیمی سال سمیٹ کر طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے سے بھی باز نہیںآئیں گے۔ ایسا ہونے نہ پائے اس کیلئے متواتر و متبادل یعنی آن لائن درس س تدریس کے نظام کو بہتر اور مؤثر بنانے کیلئے ہمیں محنت کرنی ہی ہوگی۔ اس ضمن میںتعلیمی نظام سے جُڑے سارے عناصر کو کیسے پیش رفت کرنی ہے، ہم اس کا جائزہ لیں گے۔
 (۱) ای ٹیچنگ کا نظریہ کورونا سے پہلے بھی قائم تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے اکثر اساتذہ اس کے ضمن میں سنجیدہ نہیںتھے۔ ہم بھی چند اداروں میں اساتذہ سے اکثر اُنھیں یہ مثالیں دیا کرتے تھے کہ (الف) دورانِ خون کا نظام سمجھانے کیلئے پچھلے وقتوں میں کوئی چارٹ دکھایا جاتا یا چکنی مٹّی کا ماڈل ، اب اگر اُسے پردے /اسکرین پر باقاعدہ حرکت کرتے بتایا جائے کہ خون دِل میں داخل ہوکر کیسے اور کہاں جاتا ہے؟ صاف خون کہاں پہنچتا ہے؟ ویڈیو میںوہ بتانے پر چند منٹوں میںطلبہ کو ہمیشہ کیلئے یاد ہوجاتا ہے۔ (ب) جغرافیہ کے نقشے و گلوب پر حرکت کرتی تصاویر بہر حال بھاری ہیں۔ ان سارے حقائق کا اساتذہ اعتراف تو کرتے ہیں البتہ بڑے بڑے اداروں میں ای ٹیچنگ ایک سالانہ سرگرمی ہوا کرتی تھی۔ اسکولوں کے مابین یکروزہ ای ٹیچنگ مقابلہ بھی رکھا جاتا ، تقسیم انعامات و اسناد بھی، ایک دن کا میلہ ختم ۔ دوسرے روز کلاس روم کا رُخ کرنے پر معلوم ہوتا کہ اساتذہ روایتی طریقے ہی سے پڑھارہے ہیں۔ ان ساری کوتاہیوں کو نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری زبان میںای ٹیچنگ کا خاطرخواہ سافٹ ویئر تیار نہیں ہوسکا۔  
 (۲) کورونا وائرس کا حملہ بالکل غیر متوقع تھا، اسلئے آن لائن تعلیم لازم و ملزوم ہوجائے گی، اس کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ اس سلسلے میں اساتذہ، طلبہ و معاشرہ بالکل تیار نہیں تھا۔ جب اس وبا نے طول پکڑی تو اساتذہ حرکت میںآگئے۔ ریاست بھر سے کئی اساتذہ سےموصول ویڈیو وغیرہ سے ہمیں بھر پور اُمّید جاگی ہے کہ ہمارے اساتذہ اگر ٹھان لیں تو وہ اس میدان کے بھی اُستاد ثابت ہوسکتے ہیں۔ اساتذہ کے تیارکردہ جو درجنوں ویڈیو حال میںدیکھے اُن میں ہمیں’پانی کا چکّر، نظامِ انہضام، نظامِ شمسی، بھارت کی تاریخ اور دو درجی مساوات وغیرہ نے کافی متاثر کیا ۔ ان میں سے اکثر بچّوں کی نفسیات کو مکمل ملحوظ رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ 
 (۳) ہمارے اکثر اساتذہ میںصلاحیتیںموجود ہ ہیں البتہ اِن میں سے ایک بڑی تعداد کو بعض انتظامیہ نے دھمکانا شروع کیاکہ اب اکثر والدین اپنے بچّوں کی لاک ڈائون کے دوران کی فیس ادا کرنے سے رہے، اسلئے اساتذہ عطیات جمع کرنا شروع کریں اور اپنی تنخواہ کا خود انتظام کریں۔ آن لائن میٹنگوں میں اُن سے کہا جانے لگا کہ کسی سے بھی عطیات جمع کریں، ورنہ انھیں تنخواہ نہیںدی جائے گی۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آخر یہ کام اساتذہ کیوں کریں؟ پھر انتظامیہ کے اراکین کس مرض کی دوا ہیں؟ وہ صرف نئے اساتذہ کی تقرری کے وقت ادارے کی خستہ حالی کا حوالہ دے کر اُن سے لاکھوں روپے لُوٹ گھسوٹ کریں گے؟ دوسری بات یہ ہے کہ اِن چھ ماہ کے لاک ڈائون میںپوری قوم کی معیشت لگ بھگ صفر بن گئی ہے تو اساتذہ اُسی قوم کے ذمہ داروں یا والدین سے عطیات کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ اس خستہ حال قوم کے بچے کھُچے وسائل دیگر تعلیمی اُمور کیلئے چھوڑ دیجئے۔ اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ وہ قوم کے دس بچّوں کی فیس ادا کرے تو اُس سے دراصل یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ۲؍ اساتذہ کا تنخواہ کی رقم دے۔ کیا اس طرح ہم اپنے اساتذہ کو ذلیل کرسکتے ہیں؟ کہیںہمارے پردھان کی آتما اِن انتظامیہ کے افراد میں سرایت تو نہیں کر گئی جو اساتذہ کو’ آتم ْ نِربھر‘ بننے کو کہہ رہی ہے ؟ 
 یہاں سوال یقیناً یہ پیدا ہوتاہے کہ پھر نجی تعلیمی اداروںکے اساتذہ کی تنخواہ کا کیا ہوگا؟ بڑے تعلیمی ادارے اپنے رُسوخ سے مختلف کمپنیوں سے سی ایس آر (کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلیٹی) فنڈ حاصل کرسکتے تھے۔ اپنا کوئی کارپس فنڈ پہلے ہی تیار کرتے تاکہ آنے والی کسی بھی ناگہانی آفت کا سامنا کیا جا سکے۔ اوقاف کے فنڈس سے گائوں دیہاتوں کے اسکولوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکتا  ہے۔ اس وائرس زدہ ماحول میںاساتذہ کو چند اداروں میں جس ذہنی ٹارچر سے گزرنا پڑ رہا ہے، اُس سے اُن کی تخلیقی صلاحیتیں بھی متاثر ہورہی ہیں اور اسلئے آن لائن پڑھائی کیلئے اسباق اور اسٹڈی مٹیریل تیار تو کرسکتے ہیں مگر احسن طریقے سے نہیں۔
 (۴) آج آن لائن اسٹڈی میٹریل کی تیاری میں بڑی خاموشی سے ریس شروع ہوچکی ہے، اسکولوں اور کوچنگ کلاسیس میں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ کوچنگ کلاس والے یہ ریس جیت جائیں گے ، کیوں کہ اُنھوںنے انتہائی قابل ماہرین کومنہ مانگے دام پر اِس منصوبے پر مامور کردیا ہے۔ تعلیمی ادارے بھی منہ مانگے دام دے سکتے ہیں مگر وہ بس کام چلائو قسم کے اور کم خرچ والے مٹیریل پر اکتفا کرنے کا ذہن بنا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا جو دو دہائی قبل ہم نے آئی ٹی اور کمپیوٹرس کے کورسیز کے ضمن میں دیکھ چکے ہیں۔ ان کورسیز میںکوچنگ کلاس کی فیس بالفرض ۵۰؍ ہزار روپے ہوتی تھی اور یونیورسٹی کے اُسی کورس کی فیس صرف ۱۰؍ ہزار ، البتہ یونیورسٹی کے کورس میںکوئی داخلہ نہیںلیتا تھا اور کوچنگ کلاس کے کورس میں داخلے کیلئے بھیڑ اُمڈ پڑتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ یونیورسٹی والے اِن جدید ٹیکنالوجی کے کورسیز کانصاب  جہاں ہر پانچ چھ سال بعد تبدیل کرتے تھے وہیں کوچنگ کلاس والے ہر چھ ماہ میں نِت نئی چیزوں کا اضافہ کرتے تھے اور اپنے کورسیز کو اَپ ڈیٹ کرتے تھے جبکہ یونیورسٹی سے کورس پورا کرنے والا طالب علم جب عملی میدان میں آتا تو دیکھتا کہ وہاں کی ساری معلومات آئوٹ ڈیٹیڈ یعنی بے مصرف ہوچکی ہے۔ 
 اسکول اور اسکولی نظام کو بہر حال جیتنا ہے، ہمارے اساتذہ کو جیتنا ہے اسلئے انتظامیہ کو بیدار ہونا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK