ہم اسٹون ایج میں پہنچ گئے ہیں؟

Updated: April 20, 2022, 10:06 AM IST | Mumbai

بیس کروڑ مسلمانوں کے ساتھ حکومت کواس طرح کا سوتیلا برتاؤ کرنے کی کھلی چھوٹ اس لئے مل گئی ہے کیونکہ پچھلے آٹھ برسوں میں پارلیمنٹ، عدلیہ، بیورو کریسی، میڈیا، الیکشن کمیشن، آر بی آئی، حزب اختلاف اور سول سوسائٹی جیسے جمہوری ادارے یا تو ناتواں ہوگئے یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔

We will turn the houses from which stones have been thrown into piles of stones
جن گھروں سے پتھر پھینکے گئے ہیں ہم ان گھروں کو پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل کردیں گے

 گھروں سے پتھر پھینکے گئے ہیں ہم ان گھروں کو پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل کردیں گے‘‘یہ دھمکی کسی بالی ووڈ فلم کے ویلن نے نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشر انے نہ صرف دی بلکہ اس پر عمل کرکے بھی دکھایا۔ منتری جی نے کھرگون کے ان ’’پتھر بازوں‘‘ کے گھروں پر بلڈوزر چلوادیئے جن پر رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کا الزام لگایا گیا تھا۔ ۱۶؍گھروں اور ۲۹؍دکانوں کو چشم زدن میں زمین بوس کردیا گیا۔ میرا سوال ہے کہ کیا ملک کے کونے کونے میں روز مرہ کی آپسی جھڑپوں میں لوگ ایک دوسرے پر پتھر نہیں پھینکتے ہیں؟ کیاکسی سڑک حادثے میں ہوئی ہلاکتوں کے بعد پبلک بے قابو ہوکر پولیس پر سنگباری نہیں کرتی ہے؟ کیا ان تمام پتھر بازوں کے گھروں کو منہدم کردیا جاتا ہے؟ کیا ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون ہے جو پتھر پھینکنے یا کسی فساد میں حصہ لینے والے کے گھر کو ڈھادینے کی اجازت دیتا ہے؟ اس طرح کی حرکت کرنے والے شخص کو پولیس گرفتار کرتی ہے اورجرم ثابت ہونے پر عدالت سزا سناتی ہے۔کسی کے گھرپر بلڈوزر چلوانا قانونی نہیں انتقامی کارروائی ہے جس کے ذریعہ صرف پتھر پھینکنے والے شخص کو ہی نہیں بلکہ اس کے ماںباپ بھائی بہن اور بچوں کو بھی سزا دی گئی ۔بین الاقوامی قانون یہ کہتا ہے کہ کسی شخص کو ایسے کسی جرم کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے جس کا اس نے ارتکاب نہیں کیا ہو۔ جینوا کنونشن کے تحت جنگ کے دوران بھی اجتماعی سزا کی سخت ممانعت ہے۔ کسی فلسطینی بچے کے پتھر پھینکنے کی وجہ سے مغربی کنارے میں اس کے گھر پر اسرائیلی فوج کا بلڈوزر چلتے ہوئے تو ہم نے ٹی وی پر اکثر دیکھا تھا۔ اسرائیل کی دوستی نے اب ہمیں بھی اسٹون ایج میں پہنچادیا ہے۔
 مدھیہ پردیش سے مغربی بنگال تک، راجستھان سے جھارکنڈ تک اور گوا سے گجرات تک اس بار رام نومی کے مقدس تہوار کے موقع پر ملک کے آٹھ دس صوبوں میں جس طرح دن دہاڑے مسلم بستیوں پر چڑھائی کی گئی، مسجدوں اور مزاروں کا تقدس پامال کیا گیا، لاؤڈ اسپیکر پر زہریلے اور برہنہ نعرے لگائے گئے اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ جہاں جہاں تشدد بھڑکا وہاں ایک بات مشترک تھی۔ رام نومی کے جلوس مسجدوں کے سامنے نکالے گئے بلکہ مسجدوں کے سامنے ان جلوسوں کو روک کر دیر تک طوفان بدتمیزی کی گئی اور متعدد مقامات پر مسجد وں کی گنبدوں پر بھگوا جھنڈے بھی نصب کردیئے گئے۔ کیا حکومت، پولیس،عدالت یا میڈیا نے کبھی غور کیا ہے کہ رام نومی یا ہنومان جینتی کے جلوس مندروں کے بجائے مسجدوںکے اطراف  کیوں مصر رہتے ہیں؟
 جن مظلوموں کو پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی (یاغالباً پشت پناہی) میں ٹارگیٹ کیا گیا، ہمیشہ کی طرح تابعدار میڈیا کی مدد سے جانبدار حکومت نے تشدد اور تخریب کاری کا سارا ملبہ انہی کے سر وں پر ڈال دیا۔ پہلے اس طرح کے واقعات کے بعد صرف یک طرفہ گرفتاریاں ہوتی تھیں۔ اس بار یک طرفہ گرفتاریا ں بھی ہوئیں اور یکطرفہ طور پرگھروں کو ڈھاکر بے گناہوں پرقیامت بھی ڈھائی گئی۔ 
 دو دہائی قبل گجرات کو ہندوتوا کی لیبارٹری بنایا گیا تھا۔ اب اس لیبارٹری کی شاخیں آسام، اترپردیش،مدھیہ پردیش،راجستھان، کرناٹک اورگوا جیسے متعدد صوبوں میں کھل گئی ہیں۔ آج پورا ملک ’’گجرات ماڈل ‘‘کے جلوے دیکھ رہا ہے۔کبھی حجاب تو کبھی حلال، کبھی اذان تو کبھی جمعے کی نماز، کبھی رام نومی کے جلوس تو کبھی کشمیر فائلز، مذہبی منافرت اور تعصب کی ہانڈی کو مسلسل ابال پر رکھنے کے لئے ہر ہفتے نئے نئے ایندھن فراہم کئے جارہے ہیں۔
 بی جے پی نے آر ایس ایس کے دیرینہ ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے پچھلے آٹھ برسوں میں مسلمانوں کو ملک میں الگ تھلگ کردینے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی بے وقعتی اور ثقافتی بے توقیری کے بعد اب انہیں اقتصادی طور پر بھی کنگال کرنے کے منصوبہ پر زور شور سے کام شروع کردیا گیا ہے۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی نے دو دو بار عام انتخابات اور درجنوں صوبائی اسمبلی کے انتخابات جیت کر مسلمانوں کو سیاسی طور پر بالکل غیر اہم بنادیا ہے۔ بی جے پی کے ۳۰۳؍ اراکین پارلیمنٹ میں ایک بھی مسلم نہیں ہے، ملک کے کسی صوبے میں کوئی مسلم وزیر اعلیٰ نہیں ہے،۱۵؍ صوبوں میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے۔
  ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر ناز ہے لیکن اب ملک کی ۱۵؍فیصد آبادی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ یوں تو اقلیت دشمنی بی جے پی کے خمیر میں شامل ہے لیکن ۲۰۱۹ء   کے بعد سے حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف مسلسل محاذ آرائی کر رہی ہے۔ پچھلے تین برسوں میں ٹرپل طلاق پر پابندی، کشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ، سی اے اے اور لو جہاد جیسے متعدد ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن کا نشانہ سماج کاصرف ایک طبقہ ہے۔
 بیس کروڑ مسلمانوں کے ساتھ حکومت کواس طرح کا سوتیلا برتاؤ کرنے کی کھلی چھوٹ اس لئے مل گئی ہے کیونکہ پچھلے آٹھ برسوں میں پارلیمنٹ، عدلیہ، بیورو کریسی، میڈیا، الیکشن کمیشن، آر بی آئی، حزب اختلاف اور سول سوسائٹی جیسے جمہوری ادارے یا تو ناتواں ہوگئے یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔ یہ ادارے ہی جمہوریت کی پاسبانی کرتے ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر نے آج حکومت کے سامنے خود سپردگی کردی ہے۔ جمہوریت میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ آج ہندوستان میں اکثریت کی بالادستی قائم کی جارہی ہے۔ 
 سونیا گاندھی نے خبردار کیا ہے کہ مذہبی تعصب، نفرت اور عدم رواداری کی یہ سونامی ملک کو تباہ کرکے چھوڑے گی۔شو سینا کے سنجے راوت نے وارننگ دی ہے کہ رام کے نام پر فرقہ پرستی کا یہ تانڈو ملک میں ایک نئے بٹوارے کے بیج بورہا ہے۔ جنون کے اس دور میں ہوش مندی کی بات کوئی سن کہاں رہا ہے؟ میرا خیال یہ ہے کہ ملک کی جغرافیائی تقسیم شاید اب ممکن نہ ہو لیکن موجودہ حکومت میں ملک کے شہریوں کو ضرور تقسیم کردیا گیا ہے۔ 
پس نوشت: وزیر اعظم نریندر مودی نے حال میں کہا کہ رمضان ہمیں ’’غریبوں اور ضرورتمندوں کی خدمت ‘‘کا اہم پیغام دیتا ہے۔’’یہ مساوات، بھائی چارے اور رحمدلی کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔‘‘ ستم ظریفی دیکھئے کہ شرپسندوں نے وزیر اعظم کے اس دل چھولینے والے پیغام کے چند دنوں بعد ہی ملک کے مختلف حصوں میں اس ’’بھائی چارہ‘‘ کو پارہ پارہ کردیا اور ایک صوبائی حکومت نے’’غریبوں اور ضرورتمندوں کی خدمت‘‘کیلئے ان کے آشیانے اجاڑ دینے کا 

khargone Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK