کھرگون سے ہزاروں مسلمانوں کی نقل مکانی ، کئی مسجدوں میں پناہ گزیں

Updated: April 15, 2022, 9:50 AM IST | khargone

تشدد کے وقت جائے وقوع سے بھاگ کر اپنی جان بچانے والی ایک مسلم خاتون نے بتایا کہ فسادیوں نے اس کا گھر تک جلا دیا ،کئی اب بھی محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں، اب تک ۱۶؍ مکانات اور۲۹؍ دکانوںپر بلڈوزر چلایاگیا ، جن مکانات پر بلڈوزر چلایا گیا ہے ان میںسے کچھ پی ایم آواس یوجنا کے تحت تعمیرکئے گئے تھے،ایم پی حکومت پر امتیازی اقدام کا الزام

Shops smashed by bulldozers
بلڈوزر سے دکانیں توڑے جانے کامنظر

مدھیہ پردیش (ایم پی) کے کھرگون شہر میں اتوار کو رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا ۔ اسکے بعد ملزمین کے خلاف کارروائی کے  نام پریکطرفہ طورپرمسلمانوں کے گھروں اور دکانوں  پر غیر قانونی قراردیتے ہوئے بلڈوزرچلا دئیے گئے۔ شیوراج حکومت اور انتظامیہ کے اس بلڈوزر اقدام کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔ اسی دوران خبر آئی کہ انتظامیہ نے جن گھروں کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا تھا، ان میں سے ایک گھر پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔دوسری طرف کھرگون سے ہزاروں کی تعداد میںمسلمانوں نے نقل مکانی کی ہے اوربہت سے لوگ مسجدوں میںپناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔رام نومی کے موقع پر ہندوتوا بریگیڈ کی طرف سے پیدا کیے گئے فرقہ وارانہ تشدد نے مدھیہ پردیش کے کھرگون شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد سے متاثر اور خوفزدہ ہزاروں مقامی مسلمان نقل مکانی کو مجبور ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے قریبی مساجد میں پناہ لے رکھی ہے۔ایک مقامی کارکن نے ایک میڈیاپورٹل کے ساتھ جو ویڈیو شیئر کیا ہے اس میں مسلمانوں کو مسجد کے فرش پر لیٹا دکھایا گیا ہے۔ تشدد کے وقت جائے وقوع سے بھاگ کر اپنی جان بچانے والی ایک مسلم خاتون نے بتایا کہ فسادیوں نے اس کا گھر تک جلا دیا ۔ معمولی ملازمت کرکے اپنے خاندان کی پرورش کرنے والی اس خاتون کا کہنا ہے کہ ’’میرا پورا گھر جلا دیا گیا۔ میری تین بیٹیاں ہیں، اور اب ہم مسجد میں سونے کے لیے مجبور ہیں۔‘‘
ہزاروں مسلمان محفوظ مقامات کی تلاش میں
 تشدد کے سبب علاقے سے بھاگ کر اپنی جان بچانے والوں کی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتالیکن کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اب تک تقر یباً ایک ہزار مسلمان محفوظ مقامات کی تلاش میں علاقے کو چھوڑ چکے ہیں۔ کانگریس کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ’’علاقے کے کچھ خوفزدہ مسلمانوں نے اپنے رشتہ داروں کے یہاں پناہ لی ہے، کچھ لوگ مسجدوں  میںپناہ گزیں ہیں۔‘‘ کانگریس کارکن کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوتھ کانگریس لیڈر سومل ناہٹا نے بی جے پی حکومت پر امتیازی اقدام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ناہٹا کا کہنا ہے کہ ’’کسی بھی  قصور وارکو نہیں بخشا جانا چاہئے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان۔ قصورواروں کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور شیوراج سنگھ حکومت کو انصاف کو یقینی بنانا چاہئے۔‘‘ ناہٹا نے مزید کہا ’’حالانکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے مکانات اور املاک کو بلڈوز سے گرا دیا گیا ہے جبکہ تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘‘
مسلمانوںکی نقل مکانی سے پولیس کا انکار
  دوسری جانب مدھیہ پردیش کے کھرگون سے  بڑی تعداد میںمسلمانوں کی نقل مکانی پر جب مدھیہ پردیش پولیس سے سوال کیا گیا تو اس نے اسے مسترد کر دیا۔ کھرگون میں اپنی ڈیوٹی کر رہے ایک پولیس افسر سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’کوئی مسلمان یہاں سے نہیں بھاگا ہے۔‘‘ پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’صرف ان گھروں کو بلڈوزر سے گرایا گیا ہے جو سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔ ‘‘ افسر نے تشدد کے سلسلے میں اب تک۳۰؍ ایف آئی آر درج ہونے کی بات بھی کہی۔
رام نومی جلوس کے منتظمین نے شرانگیزی کی تھی
 پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں تصادم کے بارے میں خبریں ملی تھیں۔ احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے ہم نے رام نومی ریلی کے منتظمین سے کہا کہ وہ تنگ گلیوں سے نہ گزریں، لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں سنی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’پتھراؤ اس وقت شروع ہوا جب رام نومی کے منتظمین کی طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے اور مسلم خواتین سے متعلق نازیبا اور قابل اعتراض گانے بجائے گئے۔‘‘
اب تک ۹۵؍ افراد کو حراست میںلیا گیا
 پولیس کے مطابق کھرگون تشدد میں تقریباً۹۵؍ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ کھرگون کے پولیس سپرنٹنڈینٹ (ایس پی) سدھارتھ چودھری کو تشدد میں گولی لگی ہے۔ ان کے علاوہ ۶؍ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم۲۴؍ افراد زخمی ہوئے۔
حکومت کی طرف سے ڈھائی لاکھ روپے ملےتھے
 آن لائن میڈیا رپورٹس کے مطابق مالک مکان حسینہ فخرو کو پی ایم اے وائی کے تحت حکومت سے ڈھائی لاکھ روپے ملے تھے۔  ان کاگھر تقریباً ۶؍ ماہ قبل مکمل ہوا تھا۔ فخرو کے بیٹے امجد خان نے بتایا کہ پیر کو ضلعی انتظامیہ نے سرکاری اراضی پر بنے مکان کو غیر قانونی کہہ کر گرا دیا۔خان نے کہا کہ۲۰۲۰ء  تک یہ خاندان پلاٹ پر کچے گھر میں رہ رہا تھا۔۲۰۲۰ء میں، جب اسے پی ایم آواس یوجنا کے تحت منظوری ملی، تو  اسے پکا  بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں حکومت سےڈھائی لاکھ  روپے ملے اور ایک گھر بنانے کے لیے مزید ایک لاکھ روپے کی بچت ہوئی۔ ادھرانتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام مکانات تجاوزات سے بنائے گئے تھےاور جن کے مکانات تھے ان کا تعلق  پتھراؤ کرنے والے ملزمین سے تھا ۔

khargone Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK