دولت کی ایسی فراوانی کبھی دیکھی تھی؟

Updated: January 26, 2022, 8:57 AM IST | Pervez Hafeez | Mumbai

آکسفم کے مطابق امیرترین ہندوستانیوں کے اثاثے کووڈ دور میں ڈبل ہوگئے اور دوسری جانب مفلسوں کی تعدادبھی ڈبل ہوکر تقریباً چودہ کروڑ ہوگئی۔مارچ ۲۰۲۰ء سے نومبر ۲۰۲۱ء تک کے مختصر عرصے میں ہندوستانی سرمایہ داروں کی دولت ۲۳؍ لاکھ کروڑ روپے سے چھلانگ لگا کر ۵۳؍لاکھ کروڑروپے تک جاپہنچی۔

According to Oxfod, the assets of the richest Indians doubled during the Covid era
آکسفم کے مطابق امیرترین ہندوستانیوں کے اثاثے کووڈ دور میں ڈبل ہوگئے

اس سے زیادہ اچھے دن آپ کو اور کیا چاہئیں؟ مودی جی کے دور اقتدار میں ملک کے ارب پتیوں کی تعداد ۵۵؍سے بڑھ کر ۱۴۲؍ہوگئی۔ ۲۰۱۳ءتک ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیش امبانی کی مجموعی دولت ۲۲؍ بلین ڈالرسے کم تھی اور اب صورتحال یہ ہے کہ آئندہ چند ماہ یا شاید چند ہفتوں میںوہ ۱۰۰؍ بلین ڈالر والے ارب پتیوں کے خصوصی کلب میں شامل ہوجائیں گے۔ ۲۰۱۳ء میں گوتم اڈانی کی مجموعی دولت تین بلین ڈالر سے بھی کم تھی جو محض سات برسوں میں بڑھ کر ۹۰؍ بلین ڈالر یعنی ساڑھے پانچ کھرب روپے ہوگئی ہے۔کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ گوتم اڈانی کے چھوٹے بھائی ونود اڈانی نے بھی معجزاتی ترقی کرتے ہوئے اتنی جلدی اتنی دولت اکٹھی کرلی ہے کہ اب وہ ہندوستان کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں اڈانی فیملی کی روزانہ آمدنی ایک ہزار کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے اور وہ اب نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا کے دوسرے امیر ترین سرمایہ دار بن چکے ہیں۔ مکیش امبانی پہلے ہی ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ مودی جی کے راج میں ہندوستان کے ان دوصنعت کاروں نے جیسی ہوشربا ترقی کی ہے اس کی مثال ساری دنیا میں مشکل سے ملے گی۔ 
 Oxfam India کی تازہ رپورٹ نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ وطن عزیز میں مٹھی بھر ارب پتیوں اور ایک ارب سے زیادہ عام ہندوستانیوں کے درمیان جو معاشی خلیج پہلے سے موجود تھی وہ عالمی وبا کے دور میں بحر ہند سے بھی زیادہ گہری ہوگئی ہے۔ پچھلے دو برسوں میں کورونا کی قہر سامانیوں نے ملک کے عام شہری کی مالی حالت بے حد خستہ کردی اور ۸۴؍ فیصد گھرانوں کی اوسط آمدنی گھٹ گئی لیکن اس وبا کی مہربانیوں سے اس عرصے میں دھنا سیٹھوں کی تجوریاں اور بھی تیزی سے بھرگئیں۔آکسفم کے مطابق امیرترین ہندوستانیوں کے اثاثے کووڈ دور میں ڈبل ہوگئے اور دوسری جانب مفلسوں کی تعدادبھی ڈبل ہوکر تقریباً چودہ کروڑ ہوگئی۔مارچ ۲۰۲۰ء سے نومبر ۲۰۲۱ء تک کے مختصر عرصے میں ہندوستانی سرمایہ داروں کی دولت ۲۳؍ لاکھ کروڑ روپے سے چھلانگ لگا کر ۵۳؍لاکھ کروڑ روپے تک جاپہنچی۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۰ء میں ساڑھے چار کروڑ سے بھی زیادہ ہندوستانی اتنی’’شدید قلاشی‘‘کا شکار ہوگئے کہ آج دنیا بھر میں نئے نئے غریب ہوئے لوگوں کی آدھی تعداد ہندوستان میں بستی ہے۔ 
  ستم ظریفی دیکھئے کہ سال بھر میں چالیس نئے ہندوستانی ارب پتی پیدا بھی ہوگئے۔ ۲۰۲۰ء کی آکسفم رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ۶۳؍ ہندوستانی ارب پتیوں کی مجموعی دولت ملک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ کیا یہ کم فخر کی بات ہے؟ کیا اسے آپ وکاس نہیں مانیں گے کہ صرف ایک فی صد امیر ترین افرادکی تجوری میں ملک کی ۷۰؍ فیصد غریب آبادی کی جمع پونجی سے چار گنا زیادہ دولت بندہے؟  آکسفم انڈیاکے سربراہ امیتابھ بیہر کے مطابق دولت کی اس شدید نابرابری کی وجہ معاشی نظام میں کی گئی وہ دھاندلی ہے جس نے دولتمندوں کو غریبوں اور پس ماندہ عوام پر غلبہ عطا کردیا۔آکسفم (ایک معتبر بین الاقوامی ادارہ جو دنیا سے غریبی کم کرنے کیلئے برسر پیکار ہے) کی اس رپورٹ جس کا ٹائٹل ’’قاتل عدم مساوات‘‘ ہے کا دعویٰ ہے کہ ناہموار معاشی سسٹم کی وجہ سے ملک میں نابرابری اور غریبی اتنی بڑھ گئی ہے۔
 آئیے اب عالمی منظرنامہ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔دنیا کے سو سے زائد ارب پتیوں کے ایک گروہ نے داووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کو ایک خط لکھ کر یہ انوکھی فرمائش کی ہے کہ ان پر مزید ٹیکس لگایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام کو دانستہ طور پر ناقص اور غیر منصفانہ بنایا گیاہے تاکہ امیروں کو مزید امیر بنایا جاسکے۔ عالمی ارب پتیوں نے یہ اپیل اس تحقیق کے بعد کی جس سے پتہ چلا ہے کہ اگر دنیا کے امیر ترین لوگ ایک سال میں wealth tax کی مد میں ۲ء۵۲؍ ٹریلین(ڈھائی لاکھ کروڑ ڈالر) ادا کردیں تو اس رقم سے دنیا کے تمام باشندوں کو کووڈ کا ویکسین لگایا جاسکتا ہے اور دو ارب تیس کروڑ لوگوں کو غریبی کی دلدل سے نکالا جاسکتا ہے۔
 ادھر یہ عالم ہے کہ مودی جی نے ۲۰۱۶ء میں امیروں کودینے کیلئے ویلتھ ٹیکس ختم کردیا اور کارپوریٹ ٹیکس کو ۳۰؍فیصد سے گھٹا کر۲۲؍ فیصد کردیا۔اس اقدام سے پچھلے سال ملک کو ڈیڑھ لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا۔ کورونا کی مار جھیلنے کے باوجود غریب، پچھڑے ہوئے اور متوسط طبقے کے شہریوں نے امیروں کی بہ نسبت زیادہ ٹیکس ادا کیا جبکہ امیروں نے اپنے حصے کا ٹیکس مار کر اور زیادہ دولت بٹوری۔
 سماجی اور معاشی نابرابری جسے آکسفم نے’’ فحش نابرابری‘‘ قرار دیا،کو دور کرنےکیلئے موجودہ غلط پالیسیوں کو درست کرنے کی فوری ضرورت ہے اور اس کیلئے بیہرا کی تجویز یہ ہے حکومت کثیر دولت پر ٹیکس عائد کرکے اس سے حاصل شدہ رقم کو حقیقی معیشت میں لگائے تاکہ عام لوگوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔اس  اہم کام کیلئے دولت کی از سر نو تقسیم اور ایسی معاشی ترقی کی ضرورت ہے جس میں سب لوگ شامل ہوں ۔ بیہرہ نے آخر میں یہ مطالبہ کیا  کہ نابرابری اور غریبی کیخلاف قومی جنگ میں ملک کے ارب پتیوں کو جنہوں نے عالمی وبا کے دوران ریکارڈ منافع کمایا ہے، لازمی طور پراپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 
  دنیا کے ۱۰۲؍ ارب پتیوں نے ورلڈ اکنامک فورم کو لکھے گئے اپنے کھلے خط میں کھلے دل سے یہ تسلیم کیا کہ ان کے گروپ میں شاید ہی ایسا شخص ہوگا جو ایمانداری سے یہ کہہ سکے کہ اس نے اپنے حصے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔اس جرأت مندانہ اپیل پر جن ۱۰۲؍لوگوں کے دستخط ہیں ان کا تعلق امریکہ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ، ڈنمارک، ناروے، آسٹریا اور نیدرلینڈس جیسے ممالک سے ہے۔کافی تلاش کے باوجود مجھے کسی ہندوستانی ارب پتی کا نام اس فہرست میں نہیں نظر آیا۔ غالباً ہمارے صنعت کاروں کی نظر میں مغربی سرمایہ داروں کی یہ سخاوت دراصل ان کی حماقت کی غمازہے۔ بیچارے ہندوستانی ساہوکا روں نے ٹیکس بچانےکیلئے کیسے کیسے جتن کئے تب جاکر انہیں ارب پتی کا درجہ ملا اور ان دریادل گوروں کی احمقانہ جذباتیت دیکھئے کہ یہ اپنی حکومت سے اپیل کررہے ہیں کہ ان سے مزید ٹیکس وصول کرے۔ راک فیلر، بل گیٹس، وارن بفیٹ اور مائیکل بلومبرگ جیسے متعدد امریکی صنعت کار اتنے نادان ہیں کہ ساری عمر محنت سے دولت کماتے ہیں اورپھر اس دولت کے بیشترحصے کو غریبوں کی فلاح و بہبود کی خاطردان کردیتے ہیں۔ انہیں پیسہ کمانا تو آتا ہے لیکن ہمارے دھنوانوں کی طرح پیسہ بچانا نہیں آتا ہے۔یہ اتنے مورکھ ہیں کہ ہندوستانی رئیسوں کی طرح اپنی دولت اور جائیدادیں اپنی اولادوں کیلئے چھوڑ کر نہیں جاتے ہیں۔ شاید مغربی سرمایہ داروں کے ذریعہ اپنی دولت کی اس فیاضانہ تقسیم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انگریزی زبان میں’’چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے‘‘ جیسی کوئی کہاوت نہیں ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK