• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بوقت روانگی ٔتبوک حضرت ابوذر غفاریؓ کا پیچھے رہ جانا اور اُن کیلئے آپؐ کی پیشین گوئی

Updated: November 10, 2023, 2:50 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai

سیرت النبیؐ کی اِس خصوصی سیریز میں آج حضرت ابوذرؓ غفاری کے بارے میں پڑھئے جس کا لب لباب یہ ہے کہ حضرت ؓ کا آخری وقت بالکل اُسی طرح آیا جس طرح آپؐ نے بیان فرمایا تھا۔ آج ہی کی قسط میں حضرت ابوخیثمہ ؓ کے بارے میں بھی پڑھئے۔ آپؓ بھی قافلے کے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان دو واقعات کے ساتھ ان کالموں میں قوم ثمود کی بستیوں کے بارے میں بھی پڑھئے کہ وہ کہاں کہاں تھیں اور آج وہ علاقہ کہاں ہے۔

According to historians, the population of the Thamud nation was spread from the coasts of the Persian Gulf to the borders of Iraq in Hadramout, the best part of Arabia, and Yemen was their capital. Photo: INN
مؤرخین کے مطابق قوم ثمود کی آبادی عرب کے بہترین حصے حضرموت اور یمن میں خلیج فارس کے ساحلوں سے حدود عراق تک پھیلی ہوئی تھی، یمن ان کا دار الحکومت تھا۔ تصویر : آئی این این

تبوک کے لئے روانگی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رجب نوہجری میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، تیس ہزار صحابہؓ آپ کے ساتھ تھے، لشکر میں دس ہزار گھوڑے تھے، تثنیۃ الوداع کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں ترتیب قائم کی، مقدمۃ الجیش، میمنہ اور میسرہ تشکیل دیئے، جھنڈے لے کر چلنے والے متعین فرمائے۔ چنانچہ سب سے بڑا جھنڈا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو عطا فرمایا، دوسرا بڑا جھنڈا زبیر بن العوامؓ کو دیا، اوس کا جھنڈا اُسید بن حُضیرؓ کے اور خزرج کا ابو دُجانہؓ کے حوالے فرمایا، تبوک میں فوج کی نگہبانی کی ذمہ داری عباد بن بشیرؓ کو دی، چنانچہ وہ ہر وقت لشکر کی قیام گاہوں کے چکر لگاتے رہتے تھے۔ راستہ سمجھنے اور رہنمائی کرنے کا کام حضرت علقمہ بن الغفواء الخزاعیؓ کے سپرد ہوا، انہیں تبوک کا راستہ اچھی طرح معلوم تھا، وہ کئی بار اس راستے سے گزر چکے تھے۔ (شرح المواہب اللدنیہ: ۳/۷۲،طبقات ابن سعد: ۲/۱۶۶، سبل الہدی والرشاد: ۵/۶۵۲) 
راستے کے واقعات
فوج کی تیاری کے بعد روانگی عمل میں آئی، اکثر منافقین تو پیچھے رہ ہی گئے تھے، بعض مخلص صحابہ بھی مختلف وجوہات کی بنا پر لشکر میں شامل نہ ہوسکے، آپؐ نے کسی کا انتظار نہیں فرمایا، بعض صحابہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا، یارسولؐ اللہ فلاں شخص ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے چھوڑو، اگر اس میں کچھ خیر ہوا تو عنقریب اللہ تعالیٰ اسے ہمارے ساتھ ملا دے گا، اور اگر اس کے برعکس ہوا تو اللہ زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۳/۵۲، رقم الحدیث: ۴۳۷۳)
حضرت ابوذر غفاریؓ کا قصہ
مشہور صحابی حضرت ابوذر غفاریؓ بھی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھے۔ ان کے متعلق بھی آپؐ کو اطلاع دی گئی، آپ نے یہی فرمایا، انہیں چھوڑو، اگر ان کے ساتھ خیرہوا تو اللہ انہیں ہم سے ملا دے گا، اور اگر اس کے برعکس ہوا تو اللہ زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابوذر غفاریؓ اس لئے لشکر میں شامل نہ ہوسکے کہ ان کی اونٹنی سست رفتاری سے چل رہی تھی، انہوں نے اونٹنی کو تیز چلانے کی کوشش بھی کی، مگر وہ اسی طرح سست قدموں سے چلتی رہی۔ حضرت ابوذرؓ نے اونٹنی کو وہیں چھوڑا اور سامان کمر پر لاد کر چل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں کسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، لوگوں نے تنہا ایک شخص کو سامان اٹھائے آتے ہوئے دیکھا تو آپ کو خبر دی کہ یارسول اللہ! ایک شخص اکیلا چلا آرہا ہے، آپؐ نے فرمایا: میرا خیال ہے وہ ابوذرؓ ہوں گے، لشکر کے قریب ہوئے تو صحابہؓ نے پہچان لیا کہ وہ ابوذر ہی ہیں ، عرض کیا: یارسولؐ اللہ! وہ ابوذر ہی ہیں ، آپؐ نے فرمایا: اللہ ابوذرؓ پر رحم فرمائے، وہ تنہا چلے گا، تنہا مرے گا، اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا۔ (سیرۃ النبویہ ابن ہشام:۴/۴۰۵) 
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں انہیں ربذہ کے مقام پر جانے کا حکم ہوا، وہ امیر کا حکم بجالائے اور اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ اس دور افتادہ مقام پر رہنے لگے، ان کی بیوی کہتی ہیں کہ جب میرے شوہر کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، ابوذرؓ نے کہا: روتی کیوں ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں سے ایک شخص جنگل بیابان میں تنہا مرے گا، جب میں مر جاؤں تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا، اور میری لاش کو اس رہ گزر پر رکھ کر انتظار کرنا، تمہیں جو پہلا قافلہ نظر آئے اس سے کہنا کہ یہ ابوذرؓ کا جنازہ ہے۔ اتفاق سے حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کوفے کے ایک قافلے کے ساتھ ادھر سے گزر رہے تھے، انہیں بتلایا گیا کہ یہ رسول اللہ کے صحابی ابوذرؓ کا جنازہ ہے، یہ سن کر ابن مسعودؓ رونے لگے، فرمایا کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ اللہ ابوذرؓ پر رحم کرے، وہ تنہا چلے گا، تنہا موت سے ہم کنار ہوگا اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے نماز جنازہ پڑھی اور ان کی تدفین میں حصہ لیا۔
(سیر اعلام النبلاء: ۳/۳۹۳، المستدرک للحاکم رقم الحدیث: ۵۴۵۲)
علامہ ابن القیم نے زادالمعاد میں یہ روایت ابن حبان کے حوالے سے کچھ اس طرح بیان کی ہے: حضرت ابوذرؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت ام ذرؓ کہتی ہیں کہ جب ابوذرؓ پر موت کے آثار شروع ہوئے تو میں رونے لگی، انہوں نے کہا کیوں روتی ہو، میں نے کہا: کیسے نہ روؤں ، آپ اس میدان میں مر رہے ہیں ، اور میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں کہ آپ کو کفن دے سکوں ، ابوذرؓ نے کہا: چُپ ہوجاؤ، میں تمہیں ایک خوش خبری سناتا ہوں ، ہم چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص اکیلا مرے گا، پھر وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت آجائے گی، جتنے لوگوں کے سامنے آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی میرے علاوہ سب گزر چکے ہیں ، سب کا آبادی میں انتقال ہوچکا ہے، جاؤ، راستے میں جاکر بیٹھو، میں نے کہا، حاجی جاچکے ہیں ، اب کوئی آنے جانے والا باقی نہیں ہے، انہوں نے کہا: جاؤ، دیکھو، میں ان کے کہنے پر جاتی اور ٹیلے پر چڑھ کر اِدھر اُدھر دیکھ کر واپس آجاتی، اسی حال میں کچھ لوگ مجھے اونٹوں پر سوار نظر آئے، میں نے اشارہ سے انہیں بلایا، وہ تیزی کے ساتھ میرے پاس آئے، اور پوچھنے لگے! اے اللہ کی بندی! کیا بات ہے، میں نے ان لوگوں سے کہا کہ ایک مسلمان مر رہا ہے، اس کو کفنانے میں مدد کرو، انہوں نے پوچھا: وہ شخص کون ہے؟ میں نے کہا: ابوذرؓ! کہنے لگے: کون ابوذرؓ؟ کیا رسول اللہ کے صحابی؟ میں نے کہا: ہاں ، وہ سب پریشان ہوگئے اور اپنے ماں باپ ابوذر پر قربان کرنے لگے، اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ان کے پاس آئے، جب سب لوگ آگئے تو ابوذر نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: تم سب لوگ دھیان سے میری بات سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک شخص بیابان میں تنہائی کی حالت میں مرے گا، وہاں اس وقت چند لوگ موجود تھے جو سب دُنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ، صرف میں باقی بچا ہوں ، اگر میرے پاس یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوتا جو میرے کفن کے لئے کافی ہوتا تو میں تم سے نہ کہتا، میں تم سے خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسا شخص کفن نہ دے،جو امیر ہو، یا عریف (نگران کار)ہو، یا برید (پیغام رساں ) ہو یا نقیب (قبیلے کا ذمہ دار) ہو۔ یہ چاروں عہدوں کے نام ہیں (جیسا کہ قوسین میں دیا گیا ہے)۔ اتفاق سے سبھی لوگ ان میں سے کسی نہ کسی عہدہ پر فائز تھے، البتہ ایک انصاری نوجوان کسی عہدہ پر نہیں تھا، اس نے آگے بڑھ کر کہا، چچا! آپ فکر نہ کریں میں آپ کو کفن دوں گا، یہ میری چادر ہے، اس میں دو کپڑے ہیں ، یہ خالص میرا ہے اور اس میں میری ماں کے ہاتھ کا کاتا ہوا سوت لگا ہوا ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے فرمایا: ہاں ! تم ہمیں کفن دے سکتے ہو۔ انتقال کے بعد انصاری نوجوان نے اپنی چادر کا کفن دیا، سب نے مل کر نماز ادا کی اور اس کے بعد تدفین میں شرکت کی۔ (زاد المعاد: ۳/۳۸۹) 
حضرت ابو خیثمہؓ کا قصہ
ابوخیثمہؓ بھی مدینے ہی میں رہ گئے تھے، ایک دن وہ اپنے باغ میں آئے، سورج بلندی پر تھا، گرمی شدید تھی، ان کی دونوں بیویوں نے اپنے کمروں کی دیواروں پر پانی چھڑک کر انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی، ان کا پسندیدہ کھانا بھی تیار کیا تھا اور مشکیزے میں پانی بھی ٹھنڈا کرکے رکھا ہوا تھا، ابو خیثمہؓ گھر پہنچے، دونوں بیویوں کی کار گزاری دیکھی، مگر گھر کے اندر نہیں گئے، وہیں باہر سے کہنے لگے رسولؐ اللہ گرمی اور دھوپ میں ہوں اور میں اپنے گھر کی ٹھنڈک میں حسین عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤں ، پانی پیوں ، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، تم دونوں میرا سامان سفر تیار کرو، میں ابھی رسولؐ اللہ کی خدمت میں جانا چاہتا ہوں ، انہوں نے سامان تیار کیا، اپنی سواری کے پاس آئے اور اسی وقت رسول اللہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، آپ تبوک پہنچ چکے تھے، لوگوں نے کسی مسافر کو دور سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا: ابو خیثمہؓ ہوگا، قریب آئے تو لوگوں نے پہچان لیا واقعی ابوخیثمہؓ تھے، ابو خیثمہؓ رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپؐ نے فرمایا: اے ابو خیثمہؓ! یہ کام تم نے اچھا کیا، ابوخیثمہؓ نے پورا واقعہ عرض کیا: آپؐ خوش ہوئے اور ان کے لئے خیر کی دُعا فرمائی۔(البدایہ والنہایہ: ۵/۸)
قوم ثمود کی بستیاں 
قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کے بعد دو قوموں کا ذکر ملتا ہے، ایک قوم ہودکا اور دوسری قوم ثمودکا، عاد کا زمانہ دو ہزار سال قبل مسیح کا ہے، قرآن کریم میں عاد کو من بعد قوم نوحٍ کہا گیا ہے، گویا طوفان نوح میں جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ گئے تھے عاد ان ہی کی اولاد میں سے ہیں ، حضرت نوح اور قوم عاد کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے،اس زمانے کے لحاظ سے یہ قوم نہایت متمدن اور بے حد ترقی یافتہ تھی، بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ اُن کی آبادی عرب کے بہترین حصے حضرموت اور یمن میں خلیج فارس کے ساحلوں سے حدود عراق تک پھیلی ہوئی تھی، یمن ان کا دار الحکومت تھا۔
قوم ثمود؛ قوم عاد ہی کی ایک شاخ ہے، قوم عاد میں سے جو لوگ عذاب الٰہی سے محفوظ رہ گئے تھے بعد کے زمانے میں انہی کی نسل پھیلی اور قوم ثمود کہلائی، ان کو عادِ ثانیہ اور ثمود ارم بھی کہاجاتا ہے، یہ لوگ حجر میں آباد تھے، حجاز اور شام کے درمیان جو میدان ہے اس کو قرآن کریم نے الحجر کہا ہے، قوم ثمود کی بستیاں اسی علاقے میں تھیں ، اب یہ علاقہ مدائن صالح کہلاتا ہے، مدینہ منورہ سے اس کا فاصلہ پانچ سو کلو میٹر ہے، بہترین اور پختہ سڑک ہے، یہ سڑک تبوک سے ہوتی ہوئی یمن، شام، اردن، فلسطین اور مصر تک جاتی ہے۔
ثمود کو اللہ تعالیٰ نے بڑی نعمتوں سے نوازا تھا، ان کی مہارت اور طاقت وقوت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر رہائشی مکانات بنا لئے تھے، آج بھی یہ مکانات موجود ہیں ، اور لوگ انہیں دیکھنے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK