Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت عائشہؓ کی تربیت خودنبی کریم ﷺ نے فرمائی تھی

Updated: May 10, 2020, 1:42 PM IST | Mufti Mohammed Naeem

سرور کائنات، ہادی عالم، امام الانبیاء، سیدالمرسلین، خاتم النبیین، حضرت محمدﷺکے رفیق ِ سفر و حضر، یارِغار ومزار، خلیفۂ اول، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیاری بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم ﷺ کی زوجۂ محترمہ اور امہات المومنینؓ میں بلند مقام کی حامل ہیں

Medina Sharif - Pic : INN
مدینہ شریف ۔ تصویر : آئی این این

ان کا لقب صدیقہ اور حمیرا ہے، کنیت ام عبداللہ ہے۔ یہ کنیت خود حضور ﷺ کی تجویز فرمائی ہوئی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ عرب میں کنیت رکھنا شرافت کا معیار اور علامت سمجھی جاتی تھی ، ایک دن حضرت عائشہؓ  نے نبی اکرم ﷺ  سے عرض کیا کہ عرب کی عورتیں کنیت سے مشہور ہیں، آپؐ میری بھی کوئی کنیت تجویز فرمادیں، اس پر آپ ؐنے فرمایا: اپنی کنیت عبداللہ کے نام کی نسبت سے ام عبد اللہ رکھ لو۔ واضح رہے کہ حضرت عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔
 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے اعلان نبوت کے چار سال بعد پیدا ہوئیں، اس طرح انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ پیدائشی مسلمان تھیں۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اسلام کی ان برگزیدہ شخصیات کی فہرست میں داخل کردیتا ہے، جن کے کانوں نے کبھی کفروشرک کی آواز تک نہیں سنی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین تھیں اور انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ علمی طور پر صحابیاتؓ میں سب سے بڑی فقیہہ تھیں۔ نبی ﷺ نے نکاح سے پہلے انہیں دو مرتبہ خواب میں دیکھا کہ وہ ریشمی کپڑے میں ملبوس ہیں، کوئی شخص آپ ﷺ سے کہتا ہے کہ یہ آپﷺ کی زوجۂ محترمہ ہیں۔ آپ ﷺ دوران خواب ہی فرماتے ہیں کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ایسا ہوجائے گا۔ 
 عقد نکاح کے کچھ ہی عرصے بعد نبی ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا اور یہ دونوں حضرات مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہوگئے۔ راستے میں مختلف واقعات پیش آئے، بالآخر آپ دونوں حضرات مدینہ منورہ بخیرو عافیت پہنچ گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے مقابلے میں انتہائی اطمینان بخش فضا قائم فرمائی جس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے گھرانے کو مدینۂ منورہ بلوالیا۔ یہاں آپ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔ اس کے بعد بحیثیت زوجہ نوسال نبی ﷺ کی رفاقت میںاس طرح گزارے کہ ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی محبت کے ساتھ پیش آتے تھے، نبی ﷺ نے آپ کی بہترین تربیت بھی فرمائی اور یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذوق و شوق تھا کہ انہوں نے علمی میدان میں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور علوم اسلامی کے ایک بہت بڑے ذخیرے کو نہ صرف اپنے پاس محفوظ فرمایا، بلکہ ہرہر موقع پر امت مسلمہ کی رہنمائی بھی فرمائی۔
 علامہ سیّد سلیمان ندویؒ رقمطراز ہیں: ’’عموماً ہر زمانے کے بچّوں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل کے بچّوں کا ہے کہ سات آٹھ برس تک تو انہیں کسی بات کا مطلق ہوش نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی بات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن حضرت عائشہ صدیقہؓ لڑکپن کی ایک ایک بات یاد رکھتی تھیں۔ ان کی روایت کرتی تھیں، ان سے احکام مستنبط کرتی تھیں۔ لڑکپن کے کھیل کود میں کوئی آیت کانوں میں پڑ جاتی، تو اسے بھی یاد رکھتی تھیں، کم سنی اور کمر عمری میں ہوش مندی اور قوت حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرت نبویؐ کے تمام واقعات بلکہ جزوی باتیں تک ان کو یاد تھیں۔ ان سے بڑھ کر کسی صحابیؓ نے ہجرت کے واقعات کو ایسی تفصیل کے ساتھ نقل نہیں کیا۔‘‘
 حضرت عائشہ ؓکو چند ایسی خصوصیات بھی حاصل تھیں، جن میں امت کا کوئی فرد ان کا سہیم و شریک نہیں۔ وہ آپ ﷺ کو ازواج مطہرات ؓ میں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ آپؓ کی وجہ سے امت کو تیمم کی رخصت ملی۔ جبریل علیہ السلام کو آپؓ نے دیکھا۔ آپ کی پاک دامنی اور برأت میں دس قرآنی آیات نازل ہوئیں۔جب آپؐ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو آپؐ  کا سر مبارک حضرت عائشہؓ کے زانو پر تھا۔  اس کے علاوہ اور بھی کئی فضیلتیں حاصل تھیں۔ حضرت عُروہ بِن زبیرؓ کا قول ہے کہ میں نے قرآن و حدیث، فقہ و تاریخ اور علم الانساب میں اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ احنف بِن قیسؒ اور موسیٰ بِن طلحہؒ کا قول ہے کہ حضرت عائشہؓ صدیقہ سے بڑھ کر میں نے کسی کو فصیح الّلسان نہیں پایا۔
 رسول اللہ ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت آپ کی طبیعت کئی روز علیل رہی۔ بیماری نے شدت اختیار کی۔ آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہراتؓسے اجازت چاہی کہ آپ کی تیمارداری عائشہ صدیقہؓ کے ہاں کی جائے۔ تمام ازواج مطہراتؓ نے بخوشی اس کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہؓ  کے ہاں تشریف لے گئے، اور وصال تک ان ہی کے ہاں رہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں پر دم کرتی تھیں۔ نبی  ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں یہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓکے لئے بڑا اعزاز تھا۔
 ۱۷؍رمضان المبارک  ۵۸؍ ہجری کو آپؓ کا وصال ہوا اور آپؓ کی وصیت’’موت کے بعد فوراً مجھے دفن کردینا‘‘ کے مطابق حضرت ابوہریرہ ؓنے جنازے کی امامت فرمائی، اس کے بعد جنت البقیع (مدینہ منورہ) میں تدفین کردی گئی۔ قاسم بن عبداللہ، عبداللہ بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن ابی عتیق، عروہ ابن زبیر اور  عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم تدفین کے عمل میں شریک ہوئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK