حفاظ نے اس سعادت پرخوشی اورغمی کی ملی جلی کیفیات کا اظہار کیا ۔بعض نے کہا: حافظ صاحب ،مصلّیٰ ہے ہی پسینہ آنے کی جگہ۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 1:41 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
حفاظ نے اس سعادت پرخوشی اورغمی کی ملی جلی کیفیات کا اظہار کیا ۔بعض نے کہا: حافظ صاحب ،مصلّیٰ ہے ہی پسینہ آنے کی جگہ۔
تراویح میں قرآن کریم مکمل ہوجانے پرحفاظ شاداں وفرحاں ہیں۔ اس عظیم انعامِ خداوندی پر انہو ں نے باری تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کےساتھ اپنی مختلف کیفیات کا تذکرہ کیا جو تراویح پڑھانے کے دوران تکمیل ِ قرآ ن تک ان کے ذہن و دماغ پر طاری رہیں۔ ذیل میںایسے چند حفاظ کی تفصیلات درج کی جارہی ہیں جنہوںنے۲۷؍ویں شب میںقرآن کریم مکمل کیا۔
حافظ مولانا محمدطلحہ سلیم سیلیا (فائن ٹچ ،پوتیا کمپاؤنڈ کی مسجد) نے کہاکہ’’ تراویح میں قرآن کریم کی تکمیل دراصل خود قرآن کریم کے مطابق اس بارِامامت کی ادائیگی ہے جسے اٹھانے اور ادا کرنے سے زمین و آسمان عاجز رہے۔‘‘ مولانا طلحہ کے مطابق’’ کثرت سے تلاوت،پوری تیاری اور دوسرے حافظ کو سنانے کے باوجود مصلے کا خوف بہرحال رہتا ہے اورکوئی دن ایسا نہیںگزرتا جب یہ گمان نہ ہوتا رہا ہو کہ بس ،کسی صورت عافیت سےیہ ذمہ داری ادا ہوجائے۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنے ایک ساتھی کاتذکرہ کیا، ’’وہ بھی پڑھا رہے تھے کہ ایک دن کرتے کے نیچے بنیان نہ پہنی تو ایئرکنڈیشن چلنے کےباوجود وہ تراویح پڑھاتے ہوئے پسینے میں شرار بور ہوگئے۔‘‘ اس پر مولانا طلحہ نے اپنے ساتھی کو جواب دیا کہ ’’حافظ صاحب، مصلّیٰ ہے ہی پسینہ چھوٹنےوالی جگہ۔‘‘ حافظ محمداحمد(ممبئی سینٹرل ) نے کہاکہ ’’ قرآن کریم مکمل ہونے پر ایسا لگا جیسے کوئی بڑا بوجھ تھا، اسے منزل تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوگئی۔یہ وہ موقع ہے جب قرآن کریم پورا ہونے پرخوشی ہوتی ہے اورغم بھی۔ غم اس لئےکہ اب تلاوت ِقرآن کے تئیں وہ اہتمام اورانہماک قائم نہیںرہے گا جو ماہ ِ مبارک میںرہا کرتا تھا۔ کاش ! باری تعالیٰ تمام حفاظ کو پورے سال اسی طرح سے اہتمام کی توفیق مرحمت فرمائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایں خانہ ہمہ آفتاب است، خود بھی حافظ، والد، چچا اور دادا بھی حافظ
حافظ سید رحمت اللہ(میراروڈ) کے مطابق ’’ قرآن کریم کے جیسے جیسے پارے پورے ہوتے جاتے ہیںکیفیت بدلتی جاتی ہے۔ جیسے جیسے ۲۷؍ ویں شب قریب آتی جاتی ہےدل بے چین ہونے لگتا ہےکہ اب قرآن پاک پڑھنے پڑھانے کی یہ کیفیت آئندہ رمضان میں ہی میسر آئے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب قرآن کریم کی سورہ ناس تلاوت کی جاتی ہے اور تراویح کی آخری رکعت ہوتی ہے، اس وقت قلب و ذہن پرجواطمینان اورشکر کی کیفیت طاری ہوتی ہے ، اسے بیان کرنا اورالفاظ کا جامہ پہنانا ممکن نہیں ہے۔‘‘
حافظ عبدالصمد شیخ (مسجد قباء، مالونی )کے مطابق ’’ تراویح پڑھانا آسان نہیں ہے ، قرآن مکمل ہونے پر اس قدر خوشی ہوئی کہ اسے بیان نہیں کرسکتا۔ جب تک تراویح پڑھانے کا سلسلہ جاری رہا ، صرف قرآن کریم کادَور ہی مشغلہ رہا اس کے باوجود مصلّے پر کھڑے ہونے کےبعد کیفیت بدل جاتی تھی۔ بعض دفعہ تو ایسی جگہ لقمہ ملتا تھا جہاں کبھی مشابہت لگنے کا گمان بھی نہیں ہوا۔ مگرفضل خداوندی سے یہ اہم ترین ذمہ داری ادا ہوگئی۔‘‘