میٹنگ تب ہوئی جب رمضان کے کئی دن گزرنے کے بعد وہ تمام اعضاء جن کا تعلق ہضم سے ہے، صبح سے شام تک اپنی بیکاری کی وجہ سے اوب گئے اور ڈرتے ڈرتے انہضامی اعضاء کے سردار ’’معدہ‘‘ کے پاس پہنچے۔ اس انشائیے میں دیکھئے معدہ نے انہیں کیا صلاح دی۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 3:08 PM IST | Mohammed Rafi Ansari | Mumbai
میٹنگ تب ہوئی جب رمضان کے کئی دن گزرنے کے بعد وہ تمام اعضاء جن کا تعلق ہضم سے ہے، صبح سے شام تک اپنی بیکاری کی وجہ سے اوب گئے اور ڈرتے ڈرتے انہضامی اعضاء کے سردار ’’معدہ‘‘ کے پاس پہنچے۔ اس انشائیے میں دیکھئے معدہ نے انہیں کیا صلاح دی۔
خوراک اور لذت سے پر ہیزکا عرصہ عرف عام میں’روزہ ‘ کہلاتاہے۔ اس دوران روزہ داروں پر جو گزرتی ہے یہاں اس کا بیان مقصود نہیں۔ البتہ اس عر صہ میںاعضائے انہضام پر جو گزرتی ہے اسے تصورکی آنکھ سے دیکھنے پر ایک انوکھی تصویر بنتی ہے جو فکر انگیز کے ساتھ حیرت انگیز بھی ہے۔ آئیے دیکھتے چلتے ہیں۔
گیارہ مہینوں میں معمول کے خلاف اچانک جسم کے ان حصّوں کا جزوی طو رپر معطل یعنی بے شغل یا بے کار ہوجانا منہ سے لے کر بڑی آنت تک کے علاقہ میں ایک ’ ہڑ کمپ‘ مچنے کا موجب ہوتاہے۔ اس کیفیت کے لئے لفظ ’افراتفری‘ بھی غلط نہیں لیکن جو ہلچل قرارِ واقعی ’وقوع پزیر ہوتی ہے ’ ہڑ کمپ‘ اس کی ترجمانی کے لئے زیادہ بہترہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا: کیا گھنٹوں میں تبدیل ہونے والے دو منٹ واپس ملیں گے؟
اعضائے انہضام تعداد میں پانچ ہیں اور ہر عضو بہت اہم اور قابل بلکہ اپنی جگہ جوہر ہے۔ یہ اعضاء مسلسل اپنے جوہر دکھاتے رہتے ہیں۔ پہلے نمبر پر ’منہ‘ ہے۔ روزے کے دوران یہ عضو یعنی منہ کھانے پینے سے منہ پھیر لیتا ہے۔ اس کے بعد’ خوراک کی نالی‘ کا مقام ہے۔ خوراک کی نالی یا نلی کے بعد ’معدہ‘ہی وہ جوہرِ قابل ہے جہاں پہنچ کر غذا ہضم ہونے کے پہلے مرحلے میں پہنچتی ہے۔ بعد ازآں ’چھوٹی آنت‘ بڑے کرشمے دکھاتی ہے ، اور پھر بڑی آنت بحسن و خوبی غذا کو اپنے منطقی انجام تک پہنچاکر دم لیتی ہے۔ یہ ان کا روز کا معمول ہے مگر ماہِ صیام میں یہ پاورلوم کے اُن مزدوروں جیسے ہوجاتے ہیں جن کے پاس مندی میں کچھ کام نہیں ہوتا۔
تفصیل اس اجمال کہ یہ ہے کہ ماہِ رمضاں اپنے آخری عشرے میں تھا۔ روزانہ کی بے شغلی اور بے کاری سے یہ پانچوں ایک طرح سے اوب گئے تھے۔ انہوں نے اجتماعی غور و خوض کی ضرورت محسوس کی چنانچہ طے پایا کہ ’معدہ‘ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنا اپنا دکھ بیان کیا جائے تاکہ کوئی صورت نکلے۔ مشکل یہ تھی کہ معدہ ذرا مغرور قسم کا عضوہے۔ وہ اپنے آگے کسی کی نہیں سنتا ۔ مگر اس کے علاوہ کوئی اور تھا بھی نہیں جس سے حالِ دل کہا جاتا۔
چار و ناچار، چاروں اعضاء معدے کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ وہاں دور تک سنّاٹا دکھائی دیا کیونکہ حضرت معدہ بھی بے کاری کے دور سے گزر رہے تھے۔ ان چار اعضاء کی آمد حضرت ِمعدہ کو ناگوار گزری۔ ’’منہ‘‘ کو دیکھ کر تو انہوں نے اپنا منہ پھیر ہی لیا۔ اس ردِ عمل پر منہ بے چارہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ دانتوں نے(دانت کاٹ کر ) اس کا حوصلہ بڑھایا۔ پھرمنہ اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہنے لگا: ساتھیو! ان دنوں یہ عالم ہے کہ صبح سے ایک لقمۂ تر کو ترس جاتا ہوں۔ کتنی دیر ہو جاتی ہے ۔ ڈر نے لگتا ہوں کہ کہیں یہ سلسلہ مجھے لقمۂ اجل نہ بنا دے۔ منہ نے ابھی اپنا منہ پوری طرح بند بھی نہ کیا تھا کہ خوراک کی نالی تلملا اٹھی۔ بیچاری خشک سالی کی مار سے پریشان ہورہی تھی مگرمعدے نے ا سے کچھ کہنے سے روک دیا۔ اس بیچ بڑی آنت بھی وہاں پہنچ گئی جوہنگامی میٹنگ کا سن کر بڑی مشکل سے ہی سہی مگر حاضر ہوئی تھی۔ اس نے معدے کو سلام کیا اور اُسی کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: عید ایک روشن صبح
معدے کا جگری دوست جگر ہے۔ اب تک وہ دور بیٹھا میٹنگ کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اُسے علم تھا کہ معدہ اپنے میں مگن اس لئے ہے کہ بہت دنوں سے اسے آرام نہیں ملا تھا۔ اب اسے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے سالانہ امتحان ختم ہونے پر لمبی چھٹیاں ملی ہے۔ وہ اس تعطیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ جگر نے معدے کو اپنے اعتماد میں لیا اور اس سے اظہارِ رفاقت کرتے ہوئے بولاکہ جناب! یہ سب لوگ تمہارے پاس بہت امید لے کر آئے ہیں، انہیں مایوس نہ کرو۔ انہیں کچھ مشورہ دو۔ ان کی ڈھارس بندھاؤ، کوئی راستہ دکھاؤ ، ان کی مشکل آسان کرو۔ جگر کی باتوں سے معدہ کی نخوت کچھ کم ہوئی۔ پھر اس نے پہلی بار اپنے مہمانوں کو مسکرایا کر دیکھا اور اُن کا سواگت کیا۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ جگر بھی مسکرانے لگا۔ میٹنگ کے شرکاء میں اُمید جاگی۔ تب جگر نے معدے سے درخواست کی کہ وہ حل سجھاتے ہوئے خطبہ ٔ صدارت پیش کریں۔
جنابِ صدر معدہ نے کرسیٔ صدارت ہی سے خطاب کرنا پسند کیا اورسلام کے بعد یوں لب کشا ہوئے: ’’ہم نشینو، شکر کرو پہلے اپنے رب کا اور پھر انسان کا جو سال میں ایک مرتبہ روزے رکھتا ہے۔ اس دوران وہ اپنے سے زیادہ تمہیں آرام پہنچاتا ہے۔ نادانو، تم اس قدر کیوں منہ لٹکائے بیٹھے ہو۔ مجھے اپنی بزرگی کی قسم، اے مایوس دلو! آرام کے چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد تو تمہیں زبردست مشقت کرنی ہے کیونکہ انسان تیس دن کے روزوں کے بعد جب دستر خوان پر آئے گا تو مت پوچھو کیسا غضب ڈھائے گا۔ تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔ دو دو بلکہ ممکن ہے تین تین شفٹ میں کام کرنا پڑے۔ مندی کے بعد جو تیزی آئے گی تو جان لو کہ پورے گیارہ مہینے جاری رہے گی۔ تم پھر میٹنگ کرنا چاہو گے انسان کو سمجھاؤں کہ کئی طرح کے اسٹارٹر اور پھر مین کورس میں سالن اور نان پھر بریانی، پھر ڈبل کا میٹھا اور اس کے بعد آئس کریم، اُف بہت گراں گزرتا ہے اتنا سب ہضم کرنا، بتاؤ ایسی شکایت لے کر کتنی مرتبہ آئے ہو تم میرے پاس، شادیوں کے سیزن میں تو دن میں دو دو مرتبہ آئے ہو، مَیں کتنی میٹنگیں کروں تمہارے ساتھ؟ اب جو آرام کا موقع ملا ہے تو کیوں بورائے پھر رہے ہو!‘‘ ایسا لگ رہا تھا کہ صدارتی خطبہ ابھی جاری رہے گا کیونکہ صدر صاحب خطابت کے موڈ میں تھے مگر نہایت خاموشی سے جگر نے اشارہ کیا کہ حضور آج کے لئے اتنا ڈوز کافی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عیدالفطر: انسان سازی کے ہمہ گیر نظام کا عملی مظہر
اس محفل میں ایک اخباری نامہ نگار بھی موجود تھا۔ اُس نے شرکائے میٹنگ کا ردعمل معلوم کرنے کی غرض سے تمام اعضاء کی طرف دیکھا تو اُن کے سر جھکے ہوئے تھے جیسے گہری ندامت میں ڈوبے ہوئے ہوں۔ بہرکیف یہ ہنگامی میٹنگ ’’منہ‘‘ کے شکریئے کے ساتھ اس اعلان پر اختتام کو پہنچی کہ عید کے دن سب کا منہ میٹھا کیا جائے گا۔