Inquilab Logo Happiest Places to Work

صاحبو، ماہ ِرمضان گزرگیا، اب کیا؟

Updated: March 27, 2026, 11:33 AM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai

عبادتوں کی گرمجوشی، مساجد کی رونق، تلاوتِ قرآن کی لذت اور ضبط ِ نفس کی مشق برقرار رہے گی یا آئندہ سال تک کیلئے موقوف کردی جائیگی؟

The rows of worshippers that were formed during the month of Ramadan should be maintained afterwards as well. Photo: INN
ماہِ رمضان میں مصلیان کی جتنی صفیں بن جاتی تھیں ، انہیں بعد میں بھی قائم رکھنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک اپنی روحانی برکتوں، نورانی ساعتوں اور اصلاحِ باطن کے حسین لمحات کے ساتھ رخصت ہو چکا ہے اور عیدالفطر کے بعد ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اصل امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب یہ طے ہوتا ہے کہ آیا رمضان المبارک ہمارے لئے محض چند دنوں کی ایک عارضی کیفیت تھا یا ہم نے اپنی زندگی کے دھارے کو واقعی تبدیل کر لیا ہے۔ 

عبادتوں کی گرمجوشی، مساجد کی رونق، تلاوتِ قرآن کی لذت اور ضبط ِ نفس کی وہ مشق جو ہمیں اس ماہِ مقدس میں حاصل ہوئی،کیا وہ سب اب بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے، یا ہم پھر ماہِ مبارک سے قبل والی روش کی طرف لوٹ چکے ہیں؟ رمضان کا اختتام ہم سب کے لئے ایک نئے سفر کا نقطہ ٔ آغاز ہونا چاہئے، ایک ایسا سفر جس میں ہمیں یہ غور کرنا ہے کہ ہم نے اس مہینے سے کیا سیکھا اور اسے اپنی آئندہ زندگی میں کس حد تک برتا۔

یہ بھی پڑھئے: معدہ کی صدارت میں اعضاءِ انہضام کی ہنگامی میٹنگ

رمضان المبارک کی اصل روح یہی ہے کہ وہ ہمیں ایک منظم اور شعوری تربیت کے ذریعے آئندہ گیارہ مہینوں کے لئے تیار کرتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل ایک عملی مشق گاہ تھا، جہاں صبر، ضبط ِ نفس، وقت کی پابندی اور احساسِ بندگی کو ہمارے اندر راسخ کیا گیا۔ سحر کی بیداری سے لے کر افطار کے انتظار تک، تراویح کی مسلسل حاضری سے لے کر تلاوتِ قرآن کی لذت تک، اور حلقۂ تفسیر میں شمولیت سے لے کر آیاتِ قرآنی کی تفہیم و تدبر تک، ہر عمل ہمیں یہ سکھاتا رہا کہ ایک مومن کی زندگی نظم و ضبط، حسنِ سلوک اور رب سے مضبوط تعلق کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اب جبکہ یہ مہینہ ختم ہو چکا ہے، تو سوال یہی ہے کہ ہم نے اس تربیت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا، یا اسے ایک عارضی کیفیت سمجھ کر پس ِ پشت ڈال دیا؟

یہاں سے اصل مرحلہ استقامت کا شروع ہوتا ہے، جو کسی بھی روحانی تربیت کی حقیقی کسوٹی ہے۔ رمضان میں نیکیاں کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ ماحول سازگار ہوتا ہے اور ہر سمت عبادت کی فضا قائم ہوتی ہے؛ مگر رمضان کے بعد یہی اعمال اس وقت اپنی قدر و قیمت ظاہر کرتے ہیں جب انسان بعد کے مہینوں میں بھی اسی شوق، اسی اخلاص اور اسی احساسِ جواب دہی کے ساتھ انہیں جاری رکھتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عبادت عادت میں اور عادت کردار میں ڈھلتی ہے۔ اگر ہم نے رمضان میں پروان چڑھنے والی اس کیفیت کو برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی، تو یہی مہینہ ہماری زندگی میں ایک مستقل انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے؛ ورنہ یہ ساری جدوجہد محض ایک وقتی جذبے کی صورت میں تحلیل ہو جائیگی۔

یہ بھی پڑھئے: عید الفطر روحانی جدوجہد اور بندگی کی تکمیل کا انعام

ماہِ مبارک ہمیں جس اعلیٰ اخلاقی معیار سے روشناس کراتا ہے، وہ بھی محض اسی مہینے تک محدود رہنے کے لئے نہیں ہوتا۔ جھوٹ سے اجتناب، غیبت سے پرہیز، صبر و تحمل اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، یہی اوصاف دراصل ایک صالح معاشرہ کی بنیاد ہیں۔ اگر رمضان کے بعد ہماری گفتگو میں پھر سے تلخی، رویہ میں از سرنو سختی اور معاملات میں وہی بے حسی در آئے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم نے رمضان کے حقیقی پیغام کو پوری طرح جذب نہیں کیا۔ اس کے برعکس، اگر یہ اخلاقی خوبیاں ہماری شخصیت کا مستقل حصہ بن جائیں تو یہی وہ تبدیلی ہے جو رمضان المبارک کی عملی مشق سے مطلوب ہے، ایک ایسی تبدیلی جو وقتی نہیں بلکہ دیرپا اور اثر انگیز ہو۔

اسی طرح رمضان المبارک کا ایک اہم ترین پہلو قرآنِ کریم سے تعلق کی تجدید بھی ہے، وہی تعلق جو اس مہینے میں عروج پر ہوتا ہے۔ تلاوت کی کثرت، آیات پر غور و فکر، اور دل کی گہرائیوں میں اترتی ہوئی ہدایات، یہ سب ہمیں ایک نئی فکری سمت عطا کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہ تعلق رمضان کے بعد کمزور کیوں پڑ جاتا ہے؟ ہم اسے اپنی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ کیوں نہیں بنا پاتے؟ حقیقت یہ ہے کہ قرآن محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ رہنما ہے، جو ہر زمانے میں انسان کو روشنی فراہم کرتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہم اس سے اپنا رشتہ قائم رکھیں، اس کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں، تو یہی وہ ذریعہ ہے جو ہماری روحانیت کو تازہ اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ رمضان ہمیں انفرادی عبادت کا درس دینے کے ساتھ ساتھ ایک زندہ اور بیدار اجتماعی شعور کا درس بھی دیتا ہے۔ افطار کے دسترخوانوں پر امیر و غریب کا امتیاز مٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مساجد میں صفوں کی برابری ہمیں مساوات کا عملی سبق دیتی ہے اور صدقہ و خیرات کا بڑھتا ہوا رجحان ہمیں اپنے معاشرہ کے کمزور طبقات کے ساتھ جڑنے کا احساس بخشتا ہے مگر جیسے ہی ماہ مبارک رخصت ہوتا ہے، یہ اجتماعی حرارت مدھم پڑنے لگتی ہے اور ہم دوبارہ اپنی ذاتی مصروفیات کے حصار میں قید ہو جاتے ہیں۔ دراصل، اگر ہم رمضان المبارک کے اس اجتماعی پیغام کو برقرار رکھ سکیں تو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے کا جذبہ اور باہمی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کا احساس تقویت پائے گا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک متوازن، انصاف پسند اور باوقار معاشرہ تعمیر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا: کیا گھنٹوں میں تبدیل ہونے والے دو منٹ واپس ملیں گے؟

رمضان المبارک انسانی عادات کی تشکیل اور ان کے استحکام کا ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کسی بھی نئی عادت کو پختہ ہونے کیلئے ایک معین مدت درکار ہوتی ہے اور رمضان کا تسلسل اس فطری اصول کے عین مطابق ہے۔ سحر میں بیداری، نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن، اور نفس پر قابو، یہ سب اعمال اگر شعوری طور پر جاری رکھے جائیں تو مستقل عادات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ رمضان کے بعد ہم پہلے جیسے ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں مثبت تبدیلیاں رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم رُخصت ِ رمضان کو اختتامی مرحلہ نہیں بلکہ ایک ایسی بنیاد سمجھیں، جہاں سے ایک نئے، منظم اور بامقصد طرزِ زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

اسی تسلسل میں یہ حقیقت بھی پیشِ نگاہ رہے کہ رمضان ہمیں خود احتسابی کا جو شعور عطا کرتا ہے، وہ دراصل ایک مومن کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ روزہ دار تنہائی میں بھی کھانے پینے سے اس لیے اجتناب کرتا ہے کہ اسے اپنے رب کی نگرانی کا یقین ہوتا ہے۔ یہی احساس اگر رمضان کے بعد بھی زندہ رہے تو انسان کے اعمال میں ایک مستقل سنجیدگی اور ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ ہر قدم پر یہ خیال رکھے گا کہ اس کا ہر عمل کسی نہ کسی درجے میں جوابدہی کا متقاضی ہے۔ اگر یہ کیفیت ہمارے اندر راسخ ہو جائے تو ہماری عبادات میں اخلاص پیدا ہوگا اور ہمارے معاملات، رویّے اور ترجیحات بھی ایک مثبت اور متوازن سمت اختیار کر لیں گی۔

رمضان جس پیغام کے ساتھ رخصت ہوتا ہے، وہ یہی ہے کہ زندگی کو محض وقتی جذبات کے سہارے نہیں بلکہ مستقل شعور اور عملی تسلسل کے ذریعے سنوارا جائے۔ یہ مہینہ ایک ایسی روشنی دے کر جاتا ہے جسے اپنی روزمرہ زندگی کے اندھیروں میں رہنمائی کا چراغ بنانا چاہئے۔ اگر ہم نے اس تربیت کو اپنے کردار، معمولات اور تعلقات میں سمو لیا تو رمضان کی برکتیں محض ایک یاد نہیں بلکہ ہماری زندگی کا حصہ بن جائینگی، اور اگر یہ ساری کیفیات محض ایک موسمی لہر ثابت ہوں، تو یہ نہ صرف ایک روحانی خسارہ ہوگا بلکہ اس عظیم موقع کا ضیاع بھی، جو ہمیں اپنی اصلاح اور ارتقاء کے لئے عطا کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عیدالفطر: انسان سازی کے ہمہ گیر نظام کا عملی مظہر

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم رمضان کے بعد اپنی زندگی کا ایک سنجیدہ محاسبہ کریں: کیا ہماری عبادات میں تسلسل پیدا ہوا؟ کیا اخلاق میں کوئی پختگی آئی؟ کیا ہم میں اپنے رب سے تعلق کا وہی شوق باقی ہے جو رمضان میں تھا؟ اگر ان سوالات کے جواب میں کمی محسوس ہو تو یہی وہ لمحہ ہے جب ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں اور زندگی کو ایک بامقصد سمت میں ڈالیں۔ رمضان کا اصل انعام وہ اندرونی تبدیلی ہے جو انسان کو ایک بہتر، باوقار اور ذمہ دار شخصیت میں ڈھال دیتی ہے اور یہی تبدیلی ہماری آئندہ زندگی کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK