Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئیے! پھر ایک بار ہم رمضان کا سبق تازہ کریں!

Updated: March 20, 2026, 3:46 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

ماہِ رمضان کے تقاضے کیا تھے اور ہماری زندگی میں ان کا کیا اثر ہونا چاہئے؟ یہ وقت ہے کہ اس کا احتساب کیا جائے اور اپنی عملی زندگی کو اس آئینہ میں دیکھ کر سنوارا جائے۔

Gathering at one table and erasing the differences between "Mahmood and Ayaz" and giving everyone equal status should not be just for Ramadan. Photo: INN
ایک دسترخوان پر جمع ہونا اور ’’محمود و ایاز‘‘ کے فرق کو مٹا کر سب کو برابری کا درجہ دینا صرف رمضان کیلئے نہیں ہونا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

ماہِ رمضان ہمیں مجاہدہ کی تربیت دیتا ہے، مجاہدہ سے مراد مشقتوں اور خلاف طبیعت باتوں کو برداشت کرنا ہے،  بھوک،  پیاس  اور  دوسری خواہشات سے اجتناب،  زبان کی حفاظت،  رات میں عام معمول سے زیادہ تراویح کی بیس رکعتوں کی ادائیگی،  وہ بھی طویل قیام و قرأ ت کے ساتھ،  دن بھر کی فاقہ مستی کے بعد کھانا، کھانے کے بعد نماز،  نماز کے بعد کچھ دیر سو کر پھر اُٹھ جانا،  اللہ توفیق دے تو چند رکعات تہجد ورنہ کم سے کم سحری،  موقع بہ موقع قرآن مجید کی تلاوت،  یہ معمولات کا ایسا سلسلہ ہے جو یقیناً انسان کو تھکا دینے والا اور اس کے عام مزاج و مذاق کے خلاف ہے۔ اس سے ہماری تربیت ہوتی ہے، کہ ہم اپنے اندر خلاف طبیعت باتوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں،  بلند مقاصد کے لئے آبلہ پائی کر سکیں، طوفان ہمارے حوصلے پست نہ کرے، آندھیاں ہمارے قدموں کو کم ہمت نہ بنادیں،  نامساعد حالات ہمارے لئے زنجیر پا نہ بن جائیں؛  بلکہ اگر ہمارے سفر کی سمت صحیح ہو تو ہم اس کیلئے ہر طرح کی مشکلات اور ابتلاؤں کو سہنے کیلئے تیار ہوں،  یہ حوصلہ مندی اور آبلہ پائی ہماری شخصی زندگی کیلئے بھی ضروری ہے اور قومی زندگی کے لئے بھی، افراد و اشخاص کیلئے بھی ضروری ہے اور جماعتوں اور تنظیموں کے لئے بھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: خوشخبری ہے اس کے لئے جس کی شفاعت کرنے والے قرآن اور رمضان ہوں گے

رمضان المبارک ہمیں قرآن مجید سے وابستگی کا سبق دیتا ہے۔  اس ماہ میں قرآن نازل ہوا،   تراویح نزول قرآن ہی کی یاد گار ہے،  شب قدر اور اعتکاف کا مقصد بھی نزول قرآن کی مبارک شب کو پانا ہے، عید الفطر اسی نزول قرآن کا جشن عام ہے۔ پس یہ مہینہ قدم قدم پر ہمیں قرآن مجید سے مربوط کرتا ہے۔ قرآن مجید محض ایصال ثواب اور مردوں کے لئے بخشش و مغفرت کی کتاب نہیں؛  بلکہ یہ آئینہ حیات ہے،  جس میں ہم اپنی عملی زندگی کی صورت گری کریں اور اس کے خد و خال درست کریں،  ہم اپنا جائزہ لیں کہ قرآن سے ہمارا تعلق کس قدر کمزور ہو چکا ہے، ہم تلاوتِ قرآن کے ذوق سے محروم، قرآن ہم سے کیا کہتا ہے اور کیا چاہتا ہے  اس کے جاننے کی خواہش سے عاری، عملی زندگی میں قرآن کی پیروی کرنے کے بجائے  ہماری خواہشات اور مفادات ہماری رہبر ہیں۔ قرآن پوری انسانیت کے لئے امانت خداوندی ہے۔ اس کا حق تھا کہ ایک ایک بندۂ خدا تک اس کتاب کو پہنچایا جاتا؛ لیکن ہم نے صدیوں اس ملک میں رہنے کے باوجود اپنے برادرانِ وطن تک ان کی اس امانت کو پہنچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیںکی،  غرض کہ ہم گو کہ قرآن کے حامل ہیں؛ لیکن نہ قاری ٔ قرآن او رنہ عامل قرآن،  نہ عالم قرآن اور نہ مبلغ قرآن۔  اس سے بڑھ کر اس کتاب کے ساتھ کیا نا انصافی ہوگی !

ہمیں چاہئے کہ ہم یہ عہد کریں کہ خود قرآن مجید کی تلاوت کا معمول رکھیں گے،  اپنے بچوں اور متعلقین کو تلاوتِ قرآن کا پابند کریں گے، کوشش کریں گے کہ خاندان میں کوئی نہ کوئی شخص حفظ قرآن مجید کی سعادت حاصل کرے ، ہم اپنی عملی زندگی کو قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر استوار کریں گے اور اپنی خواہشات اور وقتی مفاد پر اللہ کی خوشنودی کو غالب رکھیں گے، قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرینگے، اگر ہم عربی زبان سے واقف نہ ہوں تو قرآن کے تراجم اور تفاسیر کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ اللہ تعالیٰ  اپنی اس کتاب میں ہم سے کیا فرماتا ہے، پھر ہم اس بات کا بھی عزم کریں کہ اپنے اہل تعلق غیر مسلم بھائیوں تک قرآن مجید کے تراجم پہنچائیں  تاکہ دعوت کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکیں  جو اللہ تعالیٰ نے خیراُمت ہونے کی حیثیت سے ہم پر ڈالی ہے۔ 

رمضان المبارک سے ہمیں مواسات اور غم خواری کا سبق ملتا ہے،  جب انسان خود بھوکا رہے،  تو وہ بھوک کی تکلیف کو محسوس کر سکتا ہے اور اپنے ان بھائیوں کے دکھ کو سمجھ سکتا ہے  فاقہ مستی جن کے لئے معمولات کے درجہ میں ہے، اسی لئے آپ ﷺ  نے اس ماہ کو  ’’ شہر المواساۃ‘‘ یعنی غم خواری کا مہینہ قرار دیا ہے اور اس مہینہ کے ختم پر صدقۃ الفطر واجب قرار دیا گیا ہے تاکہ اہل ثروت مسلمان اپنے غریب بھائیوں کو اپنی مسرت و شادمانی میں شریک کر سکیں،  یہ سبق سال بھر یاد رکھنے اور یہ عمل ہر دن دُہرانے کا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے کام آئے،  وہ اس کی مصیبت و پریشانی کو اپنی مصیبت و پریشانی سمجھے،  وہ اس وقت تک اپنی خوشی کو نامکمل سمجھے جب تک کہ اس کا بھائی بھی اس خوشی میں شریک نہ ہو ۔

یہ بھی پڑھئے: الوداع وہ لمحات!

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری عملی زندگی،  اسلامی اخوت کے اس تصور سے دور ہوتی چلی جارہی ہے۔ اہل دولت اپنی دولت کے نشہ میں سرشار ہیں، اُمت کے محتاج اور ضرورت مند لوگوں کا انہیں کوئی خیال نہیں؛ بلکہ ان کی عیش پرستی، غریب مسلمانوں کے لئے پریشانیوں کا موجب ہے۔ شادی بیاہ کی فضول رسمیں اور اس میں ہونے والی فضول خرچیاں اصل میں ہمارے مالدار طبقے ہی کی دین ہیں۔ بیچارے کم آمدنی والے لوگ اس شاہ خرچی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں۔ غریب خاندانوں میں پیدا ہونے والے بہت سے ذہین بچے مجبوراً تعلیم کو چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ بڑھتی ہوئی رشوت ستانیوں کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے۔ یہ رشوت کا بازار قوم کے دولت مند طبقہ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰنے جن لوگوں کو کچھ معاشی فراغت دی ہے،  وہ اپنے نادار اور غریب بھائیوں کا حق محسوس کریں اورمعاشی قوت عطا کرتے ہوئے انہیں  اونچا اُٹھانے کی کوشش کریں ۔

رمضان ہمیں وقت کی پابندی اور اس کے انضباط (نظم) کا بھی سبق دیتا ہے۔ یوں تو اسلام میں تمام عبادتیں وقت سے مربوط ہیں مگر روزہ میں تو بہت زیادہ انضباطِ وقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ رات کے آخری پہر میں بیدار ہونا اور صبح صادق سے عین پہلے سحری کھانا،  اگر اس میں ذرا بھی تاخیر ہو اور صبح طلوع ہونے کے بعد ایک لقمہ بھی حلق سے نیچے چلا گیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا،  پھر غروب آفتاب کے فوراً بعد روزہ افطار کرنا ہے،  اگر پہلے افطار کر لیں، تو روزہ درست نہ ہو اور دیر سے افطار کریں تو کراہت ہے،  روزہ افطار کرنے اور مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد کھانا کھا کر فارغ ہوئے کہ عشاء کا وقت شروع ہوا،  اب نماز عشاء پڑھنا،  پھر اس کے بعد تراویح پڑھنی ہے،  اگر اللہ توفیق دے تو نماز تہجد ادا کرنی ہے، یہ پورا نظام العمل اس قدر مشغول اور مربوط ہے کہ انضباط ِوقت کے بغیر ان کو انجام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ وقت کی حفاظت کا بہت بڑا سبق ہے۔

روزہ ہمیں اس بات کا عادی بناتا ہے کہ ہم اپنی خواہش پر اللہ کی خوشنودی کو غالب کرنا سیکھیں،  بھوک  پیاس انسان کی ایسی خواہش ہے کہ ان کو چند گھنٹے بھی روکنا دشوار ہے،  چہ جائے کہ صبح سے شام تک۔ بظاہر کوئی طاقت روکنے والی نہیں، کوئی زبان ٹوکنے والی نہیں،  اس کے باوجود انسان کھانے پینے سے رُکا رہے،  اس سے بڑھ کر اپنی خواہش کو خدا کی مرضی کے تابع کرنے کی اور کیا مثال ہو سکتی ہے؟

 یہ ایک رسمی عمل نہیں بلکہ تربیتی عمل ہے،  یہ عمل گو کہ ایک ماہ (ماہ رمضان) میں فرض ہے؛ لیکن یہ اپنی روح اور مقصد کے اعتبار سے ایک ماہ میں محدود نہیں؛ بلکہ ضروری ہے کہ یہ کیفیت ہر مسلمان کی زندگی میں سال بھر قائم رہے،  ورنہ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ روزہ دار نے صرف روزہ کی صورت کو پایا ہے،  نہ کہ روزہ کی حقیقت کو،  اس نے روزہ کے قالب کو حاصل کیا ہے نہ کہ اس کی روح کو اور رسولؐ اللہ  کی زبان حق ترجمان کے مطابق اس نے بھوک  پیاس برداشت کی ہے، حقیقی معنوں میں روزہ نہیں رکھا ۔ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۸): اُدھر میزائل گرنے لگے، اِدھر دام

ہم اپنی عملی زندگی میں بار بار اس امتحان سے گزرتے ہیں، کہ ہمیں خدا کی فرماں برداری عزیز ہے یا نفس کی تابع داری، اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہے،  یا سماجی شہرت وناموری۔ نکاح کی تقریبات میں کتنی ہی خلاف شرع باتوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ مردوں اور عورتوں کا اختلاط، فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی،  لڑکے اور اس کے خاندان کی طرف سے مختلف مطالبات،  ولیمہ میں بے جا اصراف۔ عموماً  ان تمام گناہوں کا ارتکاب  سماجی عزت، جھوٹی شہرت اور متعلقین کی خوشنودی کیلئے کیا جاتا ہے، گویا خدا کی ناراضگی کی قیمت پر خلق خدا کی خوشنودی خریدی جاتی ہے۔ روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مومن نے خدا کی خوشنودی کے بدلے اپنی خوشنودی کا سودا کر لیا ہے،  اس لئے اس کو یہ بات قطعاً زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنی مرضی اور اپنے جیسے انسانوں کی مرضی پر چل کر خدا کو ناراض کرے ۔

قرآن نے سود کے حرام ہونے کا اعلان کیا ہے،  رسولؐ اللہ نے نہایت سختی کے ساتھ نہ صرف سود لینے؛ بلکہ سود سے متعلق ہر طرح کے تعاون کو منع فرمایا ہے؛ لیکن آج مسلمان اہل ثروت بے تکلف اپنی رقم بینکوں میں رکھتے اور اس کا سود حاصل کرتے ہیں،  بعض لوگ تو وظیفہ یاب ہونے کے بعد اپنی زندگی کا آخری حصہ اس سود پر گزارتے ہیں، کس قدر افسوسناک بات ہے۔  یہ ایسے محروم القسمت ہیں کہ زندگی بھر محنت کی حلال کمائی کھا کر آخری وقت سود خواری میں گزارتے ہیں۔ جس شخص کا یقین اللہ کی رزاقی پر ہو اور نفس کی خوشنودی پر خدا کی خوشنودی کو غالب رکھنے کی لذت و حلاوت سے آشنا ہو،  وہ بھلا آخر عمر میں سود خوری کو کیسے اختیار کر سکتا ہے ؟

یہ بھی پڑھئے: ہولناک دن کی کیفیات،غفلت کا علاج، ابرہہ کا انجام اور شر سے پناہ کی دُعا سنئے

یہی مواقع ہیں جن میں انسان کی ضبط نفس کی قوت کا امتحان ہوتا ہے، کہ روزہ نے صرف اسے بھوکا  پیاسا رکھا ہے، یا اس میں روحانی اور اخلاقی انقلاب بھی پیدا کیا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK