نوٹ بندی کے خلاف سماعت

Updated: November 29, 2022, 2:54 PM IST | Mumbai

نوٹ بندی پر گفتگو کرنا بظاہر کسی پُرانی خبر سے بحث کرنے جیسا ہے مگر حکومت کے ذریعہ ۲۰۱۶ء میں اُٹھائے گئے اس قدم کے اثرات اتنے شدید تھے کہ چھ سال گزر جانے کے باوجود اِن سے باہر آنا ممکن نہیں ہوسکا ہے،

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر :آئی این این

 نوٹ بندی پر گفتگو کرنا بظاہر کسی پُرانی خبر سے بحث کرنے جیسا ہے مگر حکومت کے ذریعہ ۲۰۱۶ء میں اُٹھائے گئے اس قدم کے اثرات اتنے شدید تھے کہ چھ سال گزر جانے کے باوجود اِن سے باہر آنا ممکن نہیں ہوسکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ اس کے خلاف دائر کردہ عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے تو کئی ایسی باتیں بھی منظر عام پر آرہی ہیں جو خبروں سے اوجھل ہوچکی تھیں۔ مثال کے طور پر اُس وقت بہت سے لوگ پرانے نوٹ تبدیل نہیں کروا سکے تھے۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ معاملہ ختم ہوگیا یا اسے ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر کم از کم اب ذہن سے نکال دینا چاہئے مگر ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ جن لوگوں کے پیسے اب بھی پھنسے ہوئے ہیں وہ عدالت سے فریاد کررہے ہیں کہ اُن کے پیسے دلوانے کا حکم جاری ہو۔ یہ کوئی غیر معمولی رقم نہیں ہے مگر جن لوگوں کی ہے اُن کے لئے تو غیر معمولی ہی ہے ورنہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع نہ کرتے۔ ان لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران ملک کے اٹارنی جنرل وینکٹ رَمانی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس سلسلے میں ریزرو بینک آف انڈیا کو ۷؍ سو عرضیاں ملی ہیںجن میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کی چھوٹی رقمیں بھی اُن کی معاشی حیثیت کے نقطۂ نظر سے بہت بڑی ہیں۔ ایک ۷۸؍ سالہ عرضی گزار نے اپنی عرضی میں لکھا کہ جب نوٹ بندی ہوئی تب وہ بیرونی ملک میں تھا، اُس کے لو َٹ کر آنے تک ریزرو بینک کی جانب سے دی گئی پرانی کرنسی جمع کرنے کی مدت ختم ہوچکی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ اُس کےپاس ایک لاکھ ۷۸؍ ہزار روپئے پرانی کرنسی میں اب بھی موجود ہیں۔ اگر سپریم کورٹ نے مداخلت کرکے اُسے آر بی آئی سے وہ رقم نہیں دِلوائی تو اُس کا اتنا پیسہ ضائع ہوجائیگا۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں ایک لاکھ ۷۸؍ ہزار کی رقم بہت بڑی رقم نہیں معلوم ہوتی مگر کون سی رقم کتنی بڑی ہے اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس کی رقم ہے اور جس کی ہے اُس کی معاشی حالت کیسی ہے۔ 
 اس لئے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا خیرمقدم ہے کہ عدالتی مداخلت کی وجہ سے اِن لوگوں کی رقومات واپس مل سکیں گی جن کا کوئی گناہ نہیں تھا اور اُن کا پیسہ بلاوجہ ضائع ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے وہ بھی پچھلے چھ سال سے۔ جاری سماعت سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ چند ایسے سوالات کے جوابات مل سکیں گے جو اگر نہیں ملے تو نوٹ بندی کا معمہ کبھی حل نہیں ہوسکے گا کہ یہ اقدام کیا تھا، کیا اس کے وہی مقاصد تھے جو بیان کئے گئے یا اس کے پس پشت کچھ اور مقاصد تھے اور ۹۹ء۳۱؍ فیصد رقم اگر بینکوں میں واپس آگئی تو جس بلیک منی کی بات حکومت کررہی تھی وہ کہاں گئی؟  عدالت حکومت سے یہ بھی پوچھ سکے گی کہ اگر وہی مقاصد تھے جو بیان کئے گئے تو ان میں کون سا مقصد پورا ہوا اور کون سا نہیں ہوا۔ اسی دوران عدالت ایک یا زائد ’’عدالتی ثالث‘‘ (ایمیکس کیوری) بھی مقرر کرسکتی ہے جو اِس بات کا پتہ لگا سکتے ہیں کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک کا کتنا معاشی نقصان ہوا، اس میں سے کتنے نقصان کی بھرپائی ہوئی اور کتنا ایسا ہے جس کی چھ سال گزر جانے کے بعد بھی تلافی نہیں ہوئی اور اب اس کا اِمکان بھی نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ نوٹ بندی کا کتنا راز کھل سکے گا مگر اتنا ضرور دیکھ رہے ہیں کہ حکومت اسے ’’پرانی بات‘‘ کہہ کر ٹالنے کیلئے کوشاں ہے کہ گڑھے مردے اُکھاڑنے سے کیا فائدہ ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK