دلدوز بھنڈارہ سانحہ

Updated: January 12, 2021, 9:43 AM IST | Editorial

بھنڈارہ سول اسپتال میں آتشزدگی اور اس کے سبب ۱۰؍ نوزائیدہ بچوں کی موت دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے اِس سے قبل کے اُن واقعاتِ آتشزدگی یا دیگر واقعات کی یاد تازہ کردی جو اسپتالوں میں رونما ہوئے۔

Bhandara Tragedy - Pic : INN
بھنڈارا سانحہ ۔ تصویر : آئی این این

 بھنڈارہ سول اسپتال میں آتشزدگی اور اس کے سبب ۱۰؍ نوزائیدہ بچوں کی موت دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے اِس سے قبل کے اُن واقعاتِ آتشزدگی یا دیگر واقعات کی یاد تازہ کردی جو اسپتالوں میں رونما ہوئے۔ یاد کیجئے، ماضی کے واقعات پر بھی اہل اقتدار و اختیار نے بالکل اُسی انداز میں رنج و غم کا اظہار کیا تھا جیسا کہ ابھی کیا جارہا ہے۔ یہ معمول بن گیا ہے مگر، جہاں تک سبق لینے کا سوال ہے، یہ شاید ہم نے سیکھا ہی نہیں ہے۔ بھنڈارہ سول اسپتال میں جن نوزائیدہ بچوں نے دم توڑا اُن کے والدین اور دیگر اہل خانہ بالخصوص اُن کی ماؤں پر کیا گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ ان ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو ابھی ٹھیک طریقے سے اپنی گود میں کھلایا بھی نہیں تھا۔
  آگ شارٹ سرکٹ کا نتیجہ بتائی گئی ہے۔ اکثر اوقات یہی سبب بتایا جاتا ہے مگر شارٹ سرکٹ سے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اسپتالوں میں بجلی تنصیبات کی ششماہی یا سالانہ جانچ (آڈٹ) کا کوئی ریکارڈ منظر عام پر نہیں آتا کہ آڈٹ کیا گیا یا نہیں، اگر ہاں تو کب کیا گیا، اس میں کیا پایا گیا، اگر اس میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی تو اُنہیں دور کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے اور حکومت سے جس مالی تعاون کی ضرورت تھی وہ ملا یا نہیں۔ ایک معاصر اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’۲۰۱۱ء میں کولکاتا کے اَمری اسپتال میں لگنے والی آگ میں ۸۹؍ مریض فوت ہوگئے تھے تب اس وقت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری جینت بنٹیا نے ریاست مہاراشٹر کے تمام نرسنگ ہومس اور نجی اسپتالوں کے لئے بھی فائر آڈٹ کو لازمی قرار دیتے ہوئے ایک سرکیولر جاری کیا تھا۔ مگر اس سرکیولر کو بنیاد بناکر چھوٹے نرسنگ ہومس ہی پر دباؤ ڈالا گیا۔ کارپوریشن یا ریاستی حکومت کے زیر انتظام جاری و ساری اسپتالوں کو بخش دیا گیا۔‘‘ 
 سابق وزیر توانائی چندرشیکھر باون کلے نے اخبارِ مذکور کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھنڈارہ سول اسپتال میں الیکٹرک تنصیبات خستہ ہوچکی ہیں، وائرنگ اور سوئچ وغیرہ بھی درست حالت میں نہیں ہیں جس کی جانب اسپتال انتظامیہ نے بارہا توجہ دلائی مگر ان تنصیبات کو بدلا نہیں گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے کب توجہ دلائی اور کتنی مرتبہ یاد دہانی کرائی اس کی تفصیل حاصل کی جانی چاہئے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس کیلئے سابقہ حکومت ذمہ دار ہے یا موجودہ ریاستی حکومت جس نے مارچ ۲۰۲۰ء سے اب تک کے وقت کا بڑا حصہ کووڈ۔۱۹؍ کو شکست دینے میں صرف کیا ہے۔ موجودہ ریاستی وزیر وجے وَڈیٹی وار نے اس اعتراف کے ساتھ کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ کا فائر سیفٹی پروپوزل مئی ۲۰ء میں بھیجا گیا تھا جو ریاستی حکومت کے زیر غور اور منظوری کا منتظر ہے ، یہ بھی بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کا خصوصی وارڈ ۱۶۔۲۰۱۵ء میں اُس وقت شروع کردیا گیا تھا جب آگ سے حفاظت کی ضروری شرطیں پوری نہیں ہوئی تھیں۔ظاہر ہے کہ یہ چشم پوشی تھی جس کیلئے اس وقت کے ذمہ داروں سے جواب طلب کیا جانا چاہئے۔
 وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے کا، اسپتال کا دورہ کرکے صورتحال کا بچشم خود جائزہ لینا،  تحقیقات کا حکم دینا، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کے تمام اسپتالوں کے سیفٹی آڈٹ کا اعلان کرنا قابل ستائش ہے مگر ریاستی انتظامیہ کو اتنے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سیفٹی آڈٹ پورا ہوا یا نہیں، اس کی رپورٹ کیا ہے اور کون سے کام ایسے ہیں جو حکومت کو کرنے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK