کنگنا معاملے میں چھپی ہوئی فرقہ واریت افسوسناک

Updated: September 13, 2020, 5:27 AM IST | Arqam Noorulhasan

کنگنا رناوت اور شیوسینا نے اس دوران پی او کے، منی پاکستان ، رام مندر اور بابر کے نام پر مسلمانوںکوبالواسطہ نشانے پر رکھ کرایک دوسرے کو نشانہ بنایا۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، ایک جہاں بھگواحکمراں جماعت اور اس کے ہم نواؤںکی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو دوسری بھگوا ووٹ بینک میں سیندھ لگانا چاہتی ہے

Kangana Ranaut - Pic : INN
کنگنا رناوت ۔ تصویر : آئی این این

کسی چھوٹی بات کو لےکراس پر ایسا مسئلہ کھڑا کردیناکہ بات  آپسی جھگڑے اورہنگامہ تک پہنچ جائے،اسے بات کا بتنگڑ بنانا کہتے ہیں۔یہ صورتحال اکثر وبیشترگھروںمیں پیش آتی ہے اور گھروں سے باہر نکل کر کبھی کبھار محلے میں بھی بات کا بتنگڑبن جایا کرتا ہے لیکن ،اس  کے نتیجے میں پیدا ہونے و الے حالات ایسے نہیں ہوتےکہ یہ قابو سے باہر ہوئیں بلکہ جلد یا بدیرمسئلے کے فریقین کو بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ جو کچھ تھا وہ معمولی  تھا یا کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔بالآخر فریقین کو بھی احساس  ہوجاتا ہےکہ ہوا کچھ نہیں تھا بس بات کا بتنگڑ بنا دیا گیا۔
     اب میڈیا کے غلبے کے اس دور میں بات کا بتنگڑ بننا یا بنانا بہت معمولی بات رہ گئی  ہے۔ اب بات کا بتنگڑ بننے جیسے کسی موضوع کو اٹھا کر اسے اس حد تک کھینچا جاتا ہےکہ معاملہ اختلاف، تعصب  اورکشیدگی تک پہنچ جاتا ہے۔بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے۔شیوسینا کے ساتھ ان کا تنازع  اس وقت شروع ہوا جب انہوں نےممبئی کاموازنہ ’پی او کے‘ (مقبوضہ کشمیر) سے کر تے ہوئے کہا تھا وہ شہر میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔اس پر شیوسینا ترجمان سنجے راوت نے کنگنا کو ممبئی واپس نہ آنےکی ’صلاح ‘دی تھی۔اب کنگنا رناوت  نے ممبئی کو پی او کے کہنے کے علاوہ بالی ووڈ کےمسلم اداکاروں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے غلبے والی انڈسٹری میں انہوں نے مہاراشٹر کے افتخارکو نمایاں کرنے والی فلمیں بنائیں۔ یہ بات ظاہر ہےکہ انہوں نےاپنے تعلق سے شیوسینا کو  اس کےموقف پر غور کرنے کیلئےکہی تھی کیونکہ ایک بھگوا پارٹی ’مسلم‘نام  ہی سے متوجہ اور الرٹ ہوسکتی تھی ۔ بات  شروع ہوئی پی او کے سے۔ پھرمعاملہ پہنچا انڈسٹری  کےمسلم اداکاروں پر۔ پھرپالی ہل پر واقع کنگنا کے غیر قانونی دفتر کا معاملہ سامنے آیا۔ بعدازاں اس کے خلاف بی ایم سی کی کارروائی سرخیوں میں آئی  ۔ اس پر بھی کنگنا  اس وقت مسلم مخالف ذہنیت کی غلام ہی نظر آئیں جب انہوں نے اپنے دفتر کو’رام مندر‘ سے تعبیر کیا اور اسے توڑنے والی  بی ایم سی کو بابر سے ۔
 اب یہاں ٹھہر کر شیوسینا کی طرف آتے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان سنجے راوت نے ممبئی کو’ پی او کے‘ کہے جانے کے جواب میں کنگنا رناوت ہی کو نشانہ بناتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ کیا انہیں احمد آباد ’منی پاکستان‘ نظر نہیں آتا؟ دیکھئےکہ بات کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پہنچتی ہے۔پھر شیوسینا ترجمان یہیں نہیں رُکے۔جب انہوں نے کنگنا کی زبانی یہ سنا کہ ان کے  دفتر پر انہدامی کارروائی کرنے والی بی ایم سی بابر ہےتو’بابر‘ کے نام سے ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی اوراس کے جواب میں انہوںنے وہ بات کہہ ڈالی جس پر وہ ہمیشہ سے فخر کرتے آئے ہیں۔انہوں نے کنگنا کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ شیوسینا نے ہی  بابری مسجد مسمار کی تھی ۔ پھر توجہ دیں کہ بات کہاں سے کہاں پہنچ رہی ہے۔شیوسینا اور کنگنا ایک دوسرے کو نشانہ بنارہے ہیں یاایک دوسرے کےکاندھے کا سہارا لےکرکسی اورکو نشانہ بنا رہےہیں؟ دونوں کامقصد کیا ہے؟دونوں چاہتے کیا ہیں؟  
 کنگنا کابالی  ووڈ کومسلمانوں کے غلبے والی انڈسٹری قرار دینے اورممبئی کو پی او کے کہنے کامقصدہی یہاں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ فضاہموار کرنا تھا۔کنگنا نےجب خود کو ایک  زبردست سیاسی ہنگامہ میں گھرتا ہوا محسوس کیا تو انہوں نے بڑی آسانی سے معاملے کو اس رخ پر موڑ دیا جومسلمان وںکےخلاف متعصبانہ ذہنیت کی طرف جاتا ہے۔انہیں یقین تھاکہ یہاں انہیں رائٹ وِنگ  اور بھگوا نوازوں کی  زبر دست حمایت ملنے والی ہے۔ انہیںمہاراشٹر میںبرسراقتدار جماعت کا بھی خوف نہیں محسوس ہواجس کی اتحادی خود ایک بھگوا پارٹی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنے پیچھے  اس سے بڑے بھگوا بریگیڈ کو   پایاجو ملک گیر سطح پر زعفرانیت کو کنٹرول کررہا ہے۔ کنگنامہاراشٹر کی حکومت سےجس کا سربراہ ٹھاکرے خاندان کا سپوت ہے، لوہا لینے سے پیچھے نہیں ہٹیں کیونکہ انہیں معلوم تھاکہ اس پارٹی کا مرکز میں حکمراں جماعت سے فی الحال چھتیس کا آنکڑہ ہے اور اس  وقت حالات ایسے ہیں کہ جو مرکز کی حکمراں جماعت  اور اس کے نظریے اورموقف کا حامی ہے،وہی وطن پرست ہے، وہی  دیش بھکت  ہے۔اسی کے نام پر لوگ کھڑے ہوں گے اور اسی کے حمایتیوں کو ملک و دیش کا حمایتی سمجھا جائے گا۔
  اُدھر شیوسینا کا معاملہ بھی کنگناسے کچھ مختلف نہیں ہے۔ اس نے سیاسی فائدے کیلئے وہی کچھ کیا جو کنگنا نے کیا۔کنگنا نے بابراور رام مند ر کی بات نکالی توسنجے راوت نےبابری مسجد کی شہادت میں شیوسینا کے کردار کوفخریہ انداز میں بیان کیا۔ کنگنا نے’مقبوضہ کشمیر‘  کے حوالے سے اسی’ غریب‘ فرقے کونشانہ بنایا جس  کے نام پر سنجے راوت نےاحمد آبادکو ’منی پاکستان ‘   قرار دے دیا۔ کنگنا نےذاتی حمایت حاصل کرنے کیلئےبالواسطہ مسلمانوں کو نشانےپر رکھ کر بھگوا کا رڈ کھیلا توشیوسینا نے بھی سیاسی  حمایت کیلئے بالواسطہ مسلمانوں کو نشانے پررکھ کربھگوا تیر ہی چلائے۔ پاکستان اور کشمیر کا معاملہ بالکل  الگ ہے   ۔ ملک کے باقی حصوں میں بسنے والے مسلمانوں کا ان  معاملات سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہےلیکن مذکورہ دونوں معاملوں پرپورے ملک کے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مذموم روایت  ملک میں اب بھی جاری  ہے۔ کنگنا رناوت اور شیوسینا کے اس پورے باب میں یہی بات سامنے آئی ہے۔یہاں صرف ایک بات کا بتنگڑنہیں بنایا گیابلکہ بات نکال کر اسےتعصب  اور فرقہ واریت کی حد تک کھینچا گیا۔ تاریخ کو کریدا گیا۔ایک ایسے معاملے کو جس پر ملک کی سب سے بڑی عدالت اپنا فیصلہ سنا چکی ہے، غیر ضروری طورپربحث میں لا یاگیا۔ اگر سادھوسنت اعتراض کرنا چاہیںتو کنگنا رناوت کے اپنے دفتر کورام مندر سے تعبیرکرنے پر شدید اعتراض کرسکتے ہیں بلکہ دائیں بازوکے انتہاپسند بھی اس پرایک نیا بکھیڑا کھڑا کرسکتے ہیں لیکن دیکھا اور محسوس کیاجارہا ہےمعاملہ کس رخ پر چل رہا ہےاور اسے کس رخ پر لے جانے کی کوشش کی جارہی  ہے۔جب تک معاملے میں بالواسطہ طورپر مسلمان نشانے پر ہے ،کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔ کنگنا اور شیوسینا کے معاملے میں بھی اب تک بات دونوں کے ارد گرد ہی گھوم رہی ہے اور دونوں بھی لفظ مسلم کو نشانے پر رکھ کر بات کو اپنے ارد گرد رکھنے کی ہی پابندی کررہے ہیں۔اس سے دونوں کو بظاہر کوئی نقصان نہیں ہورہا ہے۔ 
 یہ معاملہ ابھی کچھ دنوں میں ختم ہوجائے گا اوراس پر اُٹھنے والی آوازیں خاموش ہوجائیں گی لیکن اس بات کی ضمانت شاید کوئی نہیں دےسکتا کہ آئندہ اسی طرح کا کوئی معاملہ اٹھے جس میں دوفریق ایک دوسرے پرلفظی حملہ کریں اورکشمیر، پاکستان کے نام پرملک کے مسلمانوں کو نشانے پر نہ رکھا جائے۔ یہ صورتحال ملک کے سیکولر ڈھانچے کیلئے سنگین حد تک نقصان دہ  ہے۔کنگنا رناوت  اور شیوسینا کا یہ ایپی سوڈ ایسا ہےکہ ا س میںدر اصل دونوں نے ایک فرقے کے خلاف اپنی بھڑاس نکالی ہے وہ بھی صرف کسی کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اور کسی مفاد کی خاطر۔  اس  معاملے کے سرد خانے میں جانے کےبعد بھی اس کے ذریعے بھڑکائے گئے شرارے ہوا میںاڑتے رہیں گے۔ ملک کی فضا انہی شراروں سےتوجلائی جاتی ہے، فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے پردوں کوانہی شراروں سےتو چھلنی کیاجاتا ہے۔کبھی مفاد پرست سیاستدانوں کے ذریعے ،کبھی سنکی فنکاروںکے ذریعے اور کبھی بکاؤجرنلسٹوں کے ذریعے۔اس پرسنجیدگی سے غور کرنے کا یہی وقت ہےاور یہ وقت تیزی سے نکلا جارہا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK