حجاب کیس : اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

Updated: September 29, 2022, 1:57 PM IST | Khalid Sheikh | Mumbai

سینئر وکیل دشنیت دوبے نے حجاب کو مسلم لڑکیوں اور خواتین کی مذہبی اور تہذیبی شناخت بتایا جس کے پہننے سے دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے نہ امن وامان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے نہ ہی ملک کی وحدت وسالمیت پر کوئی اثر پڑتا ہے ۔ اس لئے حجاب پرپابندی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 کرناٹک حکومت کی جانب سے یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے پر لگائی گئی پابندی اوراس کے حق میں دیئے گئے ریاستی ہائی کورٹ کے فیصلے کو جب مسلم طالبات نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو فیصلہ جوبھی ہو، ان طالبات کے دفاعی وکیلوں کی ٹیم نے پیروی کا حق ادا کردیا ہے۔ ان کے دلائل سے نہ صرف ریاستی حکومت کے پیر وں تلے زمین کھسکتی نظر آئی بلکہ سماعت کے آخری دنوں میں خود سپریم کورٹ اُن سے متاثر نظرآیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کی بنیاد اس پر تھی کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں۔ دفاعی وکیلوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کے ایسے بخئے ادھیڑے کہ سپریم کورٹ کو بھی ماننا پڑا کہ ہائی کورٹ کو حجاب کو مذہبی امور سے جوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ پہلی مثبت تبدیلی تھی جو سپریم کورٹ کے رویے میں نظر آئی ورنہ سماعت کے پہلے دن دونفری بنچ نے دفاعی وکلاء سے جو سوال کیا وہ چونکانے والا اور ہوا کا رخ بتانے والا تھا۔ بنچ کا سوال تھا آپ کو اپنے مذہب اوراس کے طورطریقوں پر عمل کرنے کا پورا حق ہے۔ مانا کہ حجاب بھی ان میں سے ایک ہے لیکن کیا آپ اسے ایک ایسے اسکول میں استعمال کرسکتے ہیں جہاں یونیفارم رائج ہے ؟‘ جب ایک وکیل نے حجاب کے ساتھ سکھوں کی پگڑی کا ذکر کیا تو بنچ نے اسے ٹوک دیا کہ حجاب کا موازنہ پگڑی سے نہ کریں کیونکہ اسے آئینی وقانونی تحفظ حاصل ہے۔ یہ  دونو ں بیانات کرناٹک حکومت کے لئے امید افزا تھیں اور  اس بات کا اشاریہ کہ بنچ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے ۔ لیکن جب ہرگزرتے دن کے سا تھ  دفاعی وکلاء کے ٹھوس اور مضبوط دلائل سے عدالت بھی متاثر نظر آنے لگی تو ریاستی حکومت کو پینترا بدلنا پڑا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کے ذر یعے اس نے سپریم کورٹ میں کہلوایا کہ ۲۰۲۱ء تک مسلم طالبات پابندی کے ساتھ حجاب کے بغیر یونیفارم میں آتی تھیں لیکن جنوری ۲۰۲۲ء میں پاپولر فرنٹ ا ٓف انڈیا (پی ایف آئی ) کے سوشل میڈیا پر’’حجاب پہنو ‘‘مہم کے ز یر اثر جب وہ حجاب پر اصرار کرنے لگیں تو حکومت نے ۵؍ فروری کو ایک سرکلر کے ذریعے اس پر پابندی لگادی اور مقصد پِری یونیورسٹی سرکاری کالجوں میں ڈسپلن اور یونیفارم میں یکسانیت اور مساوات بتایا۔ اس کا آغاز اڈپی کے کالج سے ہوا، جہاں باحجات طالبات کو کیمپس میں داخل ہونے اور امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ پابندیاں کرناٹک کے دوسرے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بھی نافذ کردی گئیں۔ جب ان کے خلاف طالبات نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو حالات کی نزاکت اور تعلیمی نقصان کے پیش نظر عدالت کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے فیصلے کو نئے تعلیمی سال تک کے لئے موخرکردیتی اورامتحانات کے بعد ہونے والی تعطیلات میں باہمی گفت وشنید کے ذریعے ایسا حل نکالتی جو دونوں فریق کے لئے قابل قبول ہوتا۔ اس سے طالبات کی تعلیم کا نقصان ہوتا نہ ایک سال ضائع ہوتا۔ یہ اس لئے بھی ضرور ی تھا کہ عدالت کا کام مذہب میں مداخلت یا اصلاح نہیں، آئین وقانون کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔ ایسا نہ کرکے عدالت نے واضح کردیا کہ اس کی وفاداری کس کے ساتھ ہے ۔ ستم بالائے ستم اس کا یہ تبصرہ تھا کہ قرآن حکیم میں حجاب کی حیثیت سفارشی ہے جسے لازمی قرارنہیں دیاجاسکتا۔سالیسٹر جنرل نے ۲۰؍ ستمبر کو سپریم کورٹ میں انہی باتوں کو دہرایا اور کہا کہ قرآن میں حجاب کا ذکر ہونے سے اس کی حیثیت لازمی نہیں ہوجاتی ہے۔ ان کا طالبات کے احتجاج کو پی ایف آئی سے جوڑنا اوراسے وسیع تر سازش کا حصہ بتانے کا مقصد معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا اور لوگوں اور عدالت کو گمراہ کرنا تھا۔ یہاں کئی باتیں قابل ذکر ہیں ۔ طالبات نے کرناٹک حکومت اور سالیسٹر جنرل کے اس بیان کو غلط بتایا کہ ۲۰۲۱ء تک وہ حجاب کے بغیر یونیفارم میں آتی تھیں اور دعویٰ کیا کہ فروری کے سرکلر سے پہلے تک حجاب پہننے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ پی ایف آئی کے تعلق سے دفاعی وکلاء نے خلاصہ کیا کہ اگر اس تنظیم کی وجہ سے لڑکیاں احتجاج کررہی تھیں تو سرکلر میں اس کا ذکر کیوں نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ حکومت پی ایف آئی کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے اس لئے  احتجاج پر اکسانے کے لئے اسے ذمہ دار ٹھہرانا  غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سینئر وکیل دشنیت دوبے نے حجاب کو مسلم لڑکیوں اور خواتین کی مذہبی اور تہذیبی شناخت بتایا جس کے پہننے سے دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے  نہ امن وامان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے نہ ہی ملک کی وحدت وسالمیت پر کوئی اثر پڑتا ہے ۔ اس لئے حجاب پرپابندی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے  جسے ختم کر دینا چاہئے۔ انہوں نے اسے ہندوتوا وادیوں کی شرانگیزی قراردیتے ہوئے کہا کہ حجاب ایک بہانہ ہے، اصل مقصد مسلمانوں کو ان کی اوقات بتانا ہے کہ ہندوستان میں رہنا ہے تو انہیں اپنے مذہب ، عقائد اور ضمیر کی آزادی کے ساتھ اسی حد تک عمل کرنے کی آزادی ہوگی جس کی اجازت ہندو توا وادی دیں گے۔ ایک دوسرے سینئر وکیل راجیو دھون نے کہا کہ مذہب سے قطع نظر اگر کرناٹک ہائی کورٹ صرف اس بات کو مدنظر رکھتا کہ حجاب مسلم معاشرے کا اٹوٹ حصہ ہے اورصدیوں سے رائج ہے تواسے اس کے خلاف فیصلہ دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے ایک چبھتا سوال یہ کیا کہ ڈسپلن کے نام پر یونیفارم اورڈریس کوڈ کا سختی سے نفاذ زیادہ اہم ہے یا تعلیمی لحاظ سے پسماندہ اقلیتی فرقے کی خواتین کو دیا گیا حقِ تعلیم یا مذہب کی بنیاد پر ان خواتین کے ساتھ کیاجانے والا امتیازی سلوک ۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ ان امور کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلہ سنائے اور حجاب پر لگی پابندی کو ہٹائے۔یہ دفاعی وکلاء کے پرزور دلائل کا ہی اثر تھا کہ ۲۱؍ ستمبر کو جب کرناٹک حکومت اور کچھ ٹیچروں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں میں سے ایک نے کلاس روم سے تمام مذہبی علامتیں ہٹانے کی بات کہی تو دونفری بنچ کے جسٹس سدھانشوڈھلیا نے سیکولرزم ،کثرت میں وحدت ، رواداری اور کثیرالمشربی کا ایسا درس دیا جو سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے لیکن خطرہ اب بھی برقر ار ہے۔ اگر عدالت حجاب کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو شاہ بانو کیس کی طرح حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کے بل پر اسے رد کرسکتی ہے ۔ اگر فیصلہ حجاب کے خلاف جاتا ہے تو حکومت مسلمانوں کو کسی نئے تنازع میں الجھا دے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK