حجاب، امتحان اور تعلیمی مسائل

Updated: April 08, 2022, 9:59 AM IST | Shamim Tariq | Mumbai

راقم الحروف حجاب کا حامی ہے۔ اس کے نزدیک حجاب پہننے سے مذہبی احکام کی پاسداری کے ساتھ طالبات کی زینت اور تحفظ کی بھی سبیل ہوتی ہے مگر اس کی سوچ یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی صورت نکل سکتی تو اچھا تھا کہ طالبات کو امتحانات نہ چھوڑنے پڑتے۔ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ حجاب کے مسئلہ کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

شوشے چھوڑنا اور سنسنی پیدا کرنا بعض لوگوں کی طبیعتوں کا خاصہ ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ طبیعتوں کے اس خاصے کا اظہار کب سے کیا جارہا ہے مگر یہ تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ ہماری جمہوریت میں شوشہ چھوڑنا جب سے انتخابی جیت کا ایک ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے زیادہ شوشے چھوڑے جارہے ہیں۔ ’’ہم پانچ ہمارے پچیس‘‘ پڑوسی ملک سے وفاداری، اذان سے نیند و سکون میں خلل پڑنا، حلال گوشت کا بائیکاٹ کرنا، حجاب پہننے سے تعلیمی اداروں کے ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی ہونا ایسے ہی شوشے ہیں جو بھارتی معاشرے میں خلفشار کا باعث بنتے ہیں۔ پہلے مذکورہ شوشوں کیساتھ ’مندر وہیں بنائیں گے‘، ’حج سبسڈی ختم ہو‘، کے نعرے بھی لگائے جاتے تھے۔ اب عدالت کے ان دو فیصلوں کی بھی مثالیں دی جاتی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مسجد اور حجاب اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں۔ ان تمام مسائل سے متعلق حتمی رائے تو قانون اور قانونِ شریعت کو سمجھنے اور ان کی تشریح کرنے والے دیں گے مگر یہ تو کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ بھارتی معاشرے میں ان بنیادوں پر جس قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی یا صف آرائی پیدا کی جارہی ہے وہ کسی بھی معاشرے کیلئے صحتمند نہیں ہے۔  اس وقت جو سب سے تکلیف دہ مسئلہ ہے وہ لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے۔ عام خواندگی یا اعلیٰ تعلیم میں مسلمان لڑکیوں کا تناسب ہے ہی کتنا؟ اور اب اسکول جانے والی لڑکیاں بھی اسکولوں سے اپنا رشتہ منقطع کررہی ہیں۔ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمز (ممبئی، ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۲ء) کے مطابق کرناٹک کے اوڈوپی ضلع میں ۴۰؍ طالبات نے محض اس لئے امتحان نہیں دیا کہ انہیں حجاب پہن کر امتحان گاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان ۴۰؍ طالبات میں کندا پور کی ۲۴، بندور کی ۱۴؍ اور اوڈوپی سرکاری کنیا پی یو کالج کی دو طالبات شامل ہیں۔ یہ تمام طالبات قانونی لڑائی میں بھی شامل تھیں۔ آر این شیٹی پی یو کالج کی ۲۸؍ طالبات میں سے ۱۳؍ نے امتحان میں شرکت کی۔ اسی طرح اوڈوپی کے بھنڈارکر کالج کی پانچ میں سے چار طالبات نے امتحان میں شرکت کی حالانکہ یہ تمام حجاب پہن کر کالج پہنچی تھیں۔ مزید دو شہروں اور کالجوں میں بھی ایسا ہی ہوا کہ بعض طالبات نے امتحان میں شرکت کی بعض نے شرکت نہیں کی۔ یہ تو ہوا مسئلہ کا ایک رخ دوسرا رخ یہ ہے کہ ریاست کرناٹک کے شعبۂ تعلیم نے امتحان گاہ میں نگرانی کرنے والے دو اصحاب سمیت ۷؍ اساتذہ کو معطل کردیا ہے کہ انہوں نے حجاب پہنے ہوئے طالبات کو امتحان گاہ میں داخل ہونے اور امتحان کے سوالنامے حل کرنے کی اجازت دیدی تھی۔ کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے پہلے ہی کہا تھا کہ دسویں بورڈ کے امتحان میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے ان تعلیمی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی یا ان کی منظوری ختم کر دینے کی بھی دھمکی دی تھی جن کی طالبات کو حجاب اتارنے پر مجبور نہ کرنے کے شواہد پائے جائیں گے۔ مگر اب وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے خبر ہے کہ ۳؍ نگراں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ تعداد بڑھ کر سات ہوجاتی ہے تو اس وجہ کی حجاب نہیں بلکہ سرکاری ضابطے کی خلاف ورزی ہوگی۔ مندرجہ بالا واقعات یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ کرناٹک میں جہاں ایسی مسلم طالبات بھی ہیں جنہیں حجاب سے زیادہ امتحان عزیز ہے یا وہ حجاب پہنتی ہی نہیں وہیں اساتذہ میں ایسے بھی ہیں جو حجاب پہن کر امتحان دلانے کی گنجائش نکال لینے پر قادر ہیں۔ راقم الحروف حجاب کا حامی ہے۔ اس کے نزدیک حجاب پہننے سے مذہبی احکام کی پاسداری کے ساتھ طالبات کی زینت اور تحفظ کی بھی سبیل ہوتی ہے مگر اس کی سوچ یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی صورت نکل سکتی تو اچھا تھا کہ طالبات کو امتحانات نہ چھوڑنے پڑتے۔ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ حجاب کے مسئلہ کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔ محکمۂ تعلیم میں پہلے ہی کئی مسائل ہیں۔ گزشتہ دنوں راقم الحروف نے لکھنؤ کے بیشتر اخبارات کی سرخی یہ دیکھی کہ کسی مضمون کا پرچہ ظاہر ہوجانے کے بعد سبب ۳۴؍ اضلاع کے امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ اس معاملے میں جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان میں ایک صحافی بھی ہے۔ مہاراشٹر میں فرضی ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرکے کئی سو اساتذہ نے ملازمت حاصل کی ہے۔ ۳۳۰؍ سرٹیفکیٹ تو صرف ممبئی کے اساتذہ کے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایسے اساتذہ جنہوں نے اہلیتی امتحان پاس کئے بغیر رشوت دے کر سرٹیفکیٹ حاصل کی ہیں، برطرف کئے جاتے ہیں تو ان کا مستقبل کیا ہوگا اور اگر برطرف نہیں کئے گئے تو وہ بچوں کو پڑھائیں گے کیا؟ یہاں رواں تعلیمی سال کے لئے جو نئے قواعد بنائے گئے ہیں ان سے اساتذہ میں بے چینی ہے۔ اردو ہیڈ ماسٹرس اسوسی ایشن نے اس معاملے میں آواز بھی اٹھائی ہے مگر ایسی صورت ابھی تک نہیں نکلی ہے جس سے اساتذہ اور طلبہ کی پریشانیاں دور ہوں۔ کورونا کے دوران جو خاندان ممبئی سے باہر گئے ان میں سے کئی خاندان ابھی تک نہیں لوٹے ہیں۔ ایسے خاندان جن کے بچے اردو ذریعۂ تعلیم سے پڑھ رہے تھے زیادہ تر ممبئی سے باہر ہیں جس کے اثرات اردو میڈیم اسکولوں کے مستقبل پر پڑے گا۔ مختصر یہ کہ تعلیم چونکہ ریاستی معاملہ ہے اس لئے ہر ریاست میں تعلیم کے محکمے میں الگ قسم کی پریشانی لاحق ہے۔ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ دوسری ریاستوں میں بھی وہی تجربہ کیا جائے جو کیجریوال نے دہلی میں کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی اقدام کیا جاتا اسکول میں حجاب کا مسئلہ اٹھ گیا یا پیدا کردیا گیا۔ ایک مضمون کا پرچہ امتحان سے پہلے ظاہر ہوجانا، کورونا کے سبب کافی بچوں کا اسکول چھوڑ دینا یا شہر سے دور ہونا اور اساتذہ پر ایسی ذمہ داریاں ڈالنا جن کے لئے وہ راضی نہیں ہیں یا فرضی سرٹیفکیٹ حاصل کرکے ملازمت حاصل کرنا، دوسرے لفظوں میں بچوں کا مستقبل تباہ کرنا زیادہ سنگین مسئلہ ہے یا حجاب پہن کر اسکول آنا؟ زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاسکتا تھا کہ طالبات کی شناخت ضروری ہے۔ اساتذہ اپنی طالبات کے چہرے دیکھ لیں تاکہ کسی طالبہ کے بدلے کوئی دوسری طالبہ یا کوئی اور حجاب کا فائدہ اٹھا کر امتحان میں نہ شریک ہوجائے۔ مگر کرناٹک میں اسکول کیمپس میں اسکول کی عمارت یا کلاس روم سے باہر ہی جس طرح ایک گروہ نے ہنگامہ کیا اور پھر مسلسل جو کچھ ہورہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسے مسائل پیدا کئے جارہے ہیں کہ حجاب لگانے والی طالبات اسکول سے باہر رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK