سلامتی کونسل کی رُکنیت کا اعزاز

Updated: July 01, 2020, 9:36 AM IST | Editorial

گزشتہ روز اختتام کو پہنچنے والا مہینہ (جون) اس اعتبار سے یاد رکھنے کے قابل ہوگا کہ اس ماہ میں اہل وطن کو، جو کووڈ۔۱۹؍ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت آزمائش سے گزر رہے ہیں، ایک اہم خوش خبری ملی

United Nation Security Council - Pic : INN
اقوام متحدہ سلامتی کونسل ۔ تصویر : آئی این این

گزشتہ روز اختتام کو پہنچنے والا مہینہ (جون) اس اعتبار سے یاد رکھنے کے قابل ہوگا کہ اس ماہ میں اہل وطن کو، جو کووڈ۔۱۹؍ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت آزمائش سے گزر رہے ہیں، ایک اہم خوش خبری ملی۔ وہ یہ کہ وطن عزیز کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رُکن کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ اس لئے بھی قابل ذکر اعزاز ہے کہ اس انتخاب میں۱۹۲؍ میں سے ہندوستان کو ۱۸۴؍ ووٹ ملے۔ ظاہر ہے کہ یہ بڑی بات ہوئی گوکہ ہندوستان کی تاریخ میں یہ خوشگوار لمحہ پہلی مرتبہ نہیں آیا۔ 
 اس سے قبل ۱۹۵۰ء سے ۲۰۱۲ء تک ہندوستان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا  ۷؍ مرتبہ رُکن رہ چکا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس بار یہ اعزاز این ڈی اے کے دورِ حکومت میں حاصل ہوا ہے۔ یہاں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور ۱۰؍ غیر مستقل اراکین ہوتے ہیں۔ غیر مستقل اراکین کا انتخاب دو سال کیلئے ہوتا ہے اور مختلف خطوں سے ہر سال ۵؍ اراکین منتخب کئے جاتے ہیں۔ ہمارا انتخاب سال ۲۲۔۲۰۲۱ء کیلئے ہوا ہے۔
 سلامتی کونسل کا رُکن بن جانے کے بعد جہا ںعالمی سطح پر ہمارا قد اور مرتبہ بلند ہوگا اور کچھ مراعات حاصل ہوں گی وہیں ہماری ذمہ داریوںمیں بھی اضافہ ہوگا۔ قد اور مرتبہ اسلئے بلند ہوگا کہ اقوام متحدہ سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے اور اس کی سلامتی کونسل ایک باوقار ذیلی ادارہ کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ اس سے وابستگی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اب ہندوستان کو جو مراعات حاصل ہوں گی اُن میں سے ایک یہ ہے کہ مالی تعاون ملنا آسان ہوجائیگا بالخصوص اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوںمثلاً عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے۔ دوسرا یہ کہ سونامی، زلزلہ، سیلاب یا قحط کی صورت میں (خدانخواستہ) مالی اور تکنیکی تعاون ملنا آسان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح عالمی ادارے کی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کا خواتین کی صحت، ایچ آئی وی اور ملیریا وغیرہ کے اُمور میں طبی تعاون حاصل رہے گا جو رُکن ممالک کے لئے خاص ہوتا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہوتی ہے کہ ملک کی خود مختاری کو اس اعتبار سے تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ کوئی بھی ملک سلامتی کونسل کے رُکن پر حملہ نہیں کرسکتا۔ 
 مگر اس کے ساتھ ہی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سلامتی کونسل اس نام ہی سے ظاہر ہے کہ یہ عالمی سلامتی کا ادارہ ہے جس کے اُصول اور ضابطے، دُنیا کے اکثریتی ملکوں کی تائید ، حمایت اور اتفاق رائے سے طے کئے گئے ہیں جن پر دیگر ملکوں سے عمل کروانے کیلئے رُکن ملکوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ خود بلکہ دوسروں سے پہلے اُنہیں عمل میں لائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل جن مقاصد کے تحت قائم کئے گئے تھے، وہ مقاصد پورے نہیں ہوئے۔ اس کا ثبوت اسرائیل سے ملتا ہے جس کے خلاف سیکڑوں قراردادیں منظور کی گئیں مگرنہ تو اس ملک پر کوئی اثر ہوا نہ ہی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکے۔ فلسطین کے خلاف اسرائیل کی ہٹ دھرمی، دھاندلی اور جارحیت آج بھی جاری ہے۔ حقوق انسانی کی بدترین پامالی بھی آئے دن کا قصہ ہے مگر گزشتہ ۷۰۔۷۲؍ سال میں اس کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی۔ مذمتی قراردادیں ضرور پاس کی گئیں مگر تل ابیب کے ارباب اقتدار اُنہیں تو شاید پڑھتے بھی نہیں ہوں گے۔ 
 اس سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی حیثیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ ادارے جتنے عالمی ہیں اُتنے ہی علامتی بھی ہیں مگر چونکہ یہ ایک بڑا پلیٹ فارم ہے اس لئے اس کی اہمیت اور مرکزیت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ چنانچہ رُکن ملک کی حیثیت سے ہمیں اپنے ملک میں امن و سکون کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہر ممکن طریقے سے قائم رکھنی ہوگی، مساوات کو ہر شعبہ ٔ حیات میں لازم کرنا ہوگا اور کثرت میں وحدت کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے اپنی شناخت کو مزید مستحکم کرنا ہوگا تاکہ دُنیا ہماری ستائش کرے، ہم پر اُنگلی نہ اُٹھائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK