راج ٹھاکرے کا نیا سیاسی پینترہ کتنا کارگر ثابت ہوگا؟

Updated: February 09, 2020, 2:45 PM IST | Jamal Rizvi

ایم این ایس سربراہ کے سیاسی رویے میں یہ تبدیلی دراصل آئندہ ہونے والے بی ایم سی الیکشن کے سبب پیدا ہوئی ہے۔ ممکنہ طور پر اس الیکشن میں ان کی پارٹی بی جے پی کے ساتھ مل کر چناؤ لڑے گی ۔ اگر اس امکان کو صحیح مان لیا جائے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ انھوں نے نئی پارٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی علاقائیت کی سیاست کو جو ایک نئی جہت دی تھی، اس کے مقابلے ہندوتوا سے ان کا یہ لگاؤ انھیں کس حد تک فائدہ پہنچائے گا؟

راج ٹھاکرے کا نیا سیاسی پینترہ کتنا کارگر ثابت ہوگا؟
ایم این ایس ۔ تصویر : آئی این این

سیاست میں حصول اقتدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کے بعد اب اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی کہ دو مختلف نظریات کی حامل سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتحاد کیوں کر ممکن ہے ؟ ہندوستان میں علاقائی سیاسی پارٹیوں کی عوامی مقبولیت کے بعد جس طرز سیاست کا چلن عام ہوا ہے اس میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت سازی کے مرحلے میں مختلف سیاسی نظریات کی حامل دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان بھی اتحاد ہو جاتا ہے۔ مہاراشٹر کی موجودہ ریاستی حکومت کو اس طرز سیاست کی تازہ ترین مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ بی جے پی کے تحکمانہ رویے سے اکتا کر شیو سینا نے کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر ریاست میں حکومت تو بنا لی لیکن وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے کو اب بھی اکثر اس معاملے پر صفائی دینی پڑتی ہے کہ کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے باوجود ان کی پارٹی نے ہندوتوا کے ایجنڈ ے سے مکمل طور پر کنارہ کشی نہیں اختیار کی ہے۔
  ریاست میں حکومت سازی کے معاملے پر بی جے پی کی ضد نے اگر ایک طرف شیو سینا سے اس کے تقریباً تیس برس کے اتحاد کو ختم کر دیا تو وہیں دوسری جانب مہاراشٹر کی سیاست میں نئے پیچ و خم پیدا ہونے کے امکان کو تقویت عطا کی تھی ۔ صوبائی سطح کی سیاست میں اس نئے پیچ و خم کی واضح تصویر گزشتہ ۲۳؍ جنوری کو نظر آئی جبکہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے چیف راج ٹھاکرے نے اپنی پارٹی کے جھنڈے کی تبدیلی کے ساتھ ہی اپنے سیاسی نظریات میں بھی بعض ایسی تبدیلیوں کا اعلان کیا جو ایم این ایس کے چیف کی حیثیت سے ان کے ۱۴؍ سالہ سیاسی کریئر کو نئی سمت کی طرف موڑنے کے مترادف ہیں۔
 شیو سینا کے آنجہانی چیف بال ٹھاکرے کے ذریعہ پارٹی کی باگ ڈور اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے کو دیئے جانے کے بعد ہی سے راج ٹھاکرے کے اندر وہ اضطراب پیدا ہو گیا تھا جو بالآخر ۲۰۰۶ء میں ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل کا باعث بنا۔ شیو سینا کی طرز ہی پر راج ٹھاکرے نے بھی اپنی پارٹی کا نام مہاراشٹر نو نرمان سینا رکھا اور علاقائی مسائل اور موضوعات پر مبنی سیاست کو ترجیح دیتے ہوئے’ مراٹھی مانوس ‘ کے مفاد پر خصوصی توجہ دی ۔شیو سینا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس پارٹی نے بھی اسی موضوع کی بنیاد پر ریاست گیر سطح پر عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کی تھی لیکن جس وقت ایم این ایس کی تشکیل عمل میں آئی اس وقت شیو سینا کے سیاسی ایجنڈے میں علاقائیت کے ساتھ ساتھ ہندوتوا کو بھی نمایاں حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔
  اس ضمن میں یہ کہنابھی کچھ غلط نہ ہوگا کہ پارٹی کے سیاسی اثر میں مزید اضافے کی خاطر شیو سینا نے بعض اوقات علاقائیت کے مقابلے ہندوتوا کے موضوع کو ترجیح دی ۔ بال ٹھاکرے نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے ریاست میں پارٹی کا جو دبدبہ بنایا اس میں اس دو موضوعات کو بہت اہم حیثیت حاصل تھی۔ بال ٹھاکرے کی موت کے بعد ادھو ٹھاکرے نے پارٹی ایجنڈے میں ہندوتوا کے موضوع کو سب سے اوپر رکھا لیکن اس موضوع پر ملک گیر سیاست میں اپنی منفرد شناخت بنانے والی بی جے پی کے مقابلے انھیں کچھ ایسا خاص فائدہ نہیں ہوا جو ان کی پارٹی کے سیاسی مرتبہ کو اونچا کرنے میں معاون رہا ہو۔اس کے برعکس صورتحال یہ رہی کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر ریاست میں حکومت بنانے کے بعد اکثر معاملات میں اسے مفاہمتی رویہ اختیار کرنا پڑا۔بی جے پی سے اتحاد ختم کرنے سے قبل اگر چہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے طور پر بارہا یہ کوشش کی کہ انھیں ہندوتوا کی سیاست میں ایک نمایاں اور اہم درجہ حاصل ہو جائے لیکن بی جے پی کے سامنے ان کی یہ کوشش بہت زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔ادھو ٹھاکرے نے اس کوشش کے تحت ہی ریاست اور مرکزکی بی جے پی حکومت سے بعض معاملات میں شیدید اختلاف کے باوجود رام مندر کی تعمیرکے موضوع کو ترک نہیں کیا اور پارٹی کے اخبار ’سامنا‘ میں اس موضوع کی حمایت میں وقتاً فوقتاً لکھتے رہے ۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال نومبر میں ان کا ایودھیا جانا بھی اسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ ان تمام کوششوں کے باوجود وہ ہندوتوا کی سیاست میں بی جے پی کے متوازی مقام حاصل نہ کر سکے۔ مہاراشٹر کی موجودہ ریاستی حکومت جن پارٹیوں کے اتحاد سے قائم ہوئی ہے، اس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوتوا اور سیکولر ازم کے مابین آویزش اور آمیزش کی سیاسی کشمکش کے ساتھ اقتدار کی گاڑی چل رہی ہے۔
 ریاست میں حکومت سازی کے معاملے پر شیو سینا سے اتحادختم ہونے کے بعد اب بی جے پی نے ایم این ایس کو سیاست کی اسی راہ پر لگا دیا ہے جس پر چلتے ہوئے شیو سینا کو اس نظریاتی الجھن سے دوچار ہونا پڑا تھا جو ہندوتوا اور علاقائیت کی سیاست میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے یا دونوں کو متوازی طور پر ساتھ لے کر آگے بڑھنے کے سبب پیدا ہوئی تھی۔ ۲۳؍جنوری سے کچھ ہفتہ قبل جب مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے راج ٹھاکرے سے طویل ملاقات کی تھی اسی وقت یہ قیاس آرائی شروع ہو گئی تھی کہ ایسا لگتا ہے کہ راج ٹھاکرے سیاست میں یو ٹرن لینے والے ہیں۔اس وقت ایسی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا تھا کہ فرنویس سے ان کی ملاقات ایک رسمی ملاقات تھی جس میں سیاست کا کوئی دخل نہیں تھا۔حالانکہ ۲۳؍جنوری کو پارٹی اراکین سے ان کے خطاب نے خود ان کی اس تردید کی تردید کر دی ۔
 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ راج ٹھاکرے کا یہ نیا سیاسی داؤ ان کی پارٹی کیلئے کتنا کارگر اور سود مند ثابت ہوگا؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کے سیاسی رویے میں یہ تبدیلی دراصل آئندہ ہونے والے بی ایم سی الیکشن کے سبب پیدا ہوئی ہے ۔ممکنہ طور پر اس الیکشن میں ان کی پارٹی بی جے پی کے ساتھ مل چناؤ لڑے گی ۔ اگر اس امکان کو صحیح مان لیا جائے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ انھوں نے نئی پارٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی علاقائیت کی سیاست کو جو ایک نئی جہت دی تھی، اس کے مقابلے ہندوتوا سے ان کا یہ لگاؤ انھیں کس حد تک فائدہ پہنچائے گا؟ اس سوال پر غور کرتے ہوئے اگر شیو سینا اور بی جے پی کے اتحاد کو سامنے رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ راج ٹھاکرے کا یہ سیاسی داؤ ان کی پارٹی کے بجائے بی جے پی کیلئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے ۔اس کا امکان اسلئے بھی ہے کہ ابھی کچھ ماہ قبل ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں انھوں نے ریاست گیر سطح پر بی جے پی کے خلاف جو مورچہ کھولا تھا، اس کی یاد ابھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ہے۔
 پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کی شکست کیلئے انھوں نے جس اہتمام کے ساتھ ریلیاں کی تھیں، ان سے یہ ظاہرہوتا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں اس پارٹی کی پالیسیوں اور منصوبوں کی حمایت نہیں کریں گے۔بی جے پی کے ذریعہ ملک میں این آر سی کے نفاد کی تشہیر کے اتبدائی دنوں میں خود انھوں نے اس منصوبے کو ہندوستان کے تکثیری سماج کیلئے نقصان دہ قرار دیا تھا۔اس کے علاوہ تعلیم،  روزگار، صحت اور ملک میں بڑھتی مہنگائی اور بدعنوانی کے موضوعات پر انھوں نے کسی حد تک بی جے پی کا ناطقہ بند کر دیا تھالیکن سیاست اور موجودہ دور کی ہوس اقتدار کی سیاست میں کب کوئی مخالف حامی بن جائے اور کب کوئی حلیف حریف کی شکل اختیار کر لے، کہا نہیں جا سکتا؟راج ٹھاکرے کے سیاسی یو ٹرن کو بھی سیاست کے اسی عجیب و غریب کھیل کے طور پر دیکھنا چاہئے۔
 شیو سینا کے ذریعہ علاقائیت کی سیاست کے بجائے ہندوتوا کی سیاست کو ترجیح دینے کی حکمت عملی اختیار کرنے کے بعد صوبائی سیاست میں علاقائیت کے موضوع کو بنیاد بنا کر اپنا سیاسی دبدبہ قائم کرنے کا ایک اچھا موقع راج ٹھاکرے کے پاس تھالیکن ریاست میں نئے سیاسی اتحاد کے وجود میں آنے کے بعد بی جے پی نے بڑی چالاکی سے راج ٹھاکرے کو اپنے اس دام میں گرفتار کر لیا ہے جس میں الجھ کر شیو سینا نے ریاستی سطح کی سیاست میں ’بڑا بھائی‘ ہونے کا مرتبہ کھودیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا راج ٹھاکرے ہندوتوا کی سیاست کے ذریعہ ریاستی عوام میں اپنی پارٹی کی مقبولیت کو اس سطح تک لے جا سکتے ہیں جوایم این ایس کو ہندوتوا کی سیاست کرنے والی ایسی پارٹی کا درجہ عطا کرسکے جو اُن کی سیاسی توقعات اور خواہشات کی تسکین کا سامان فراہم کر سکے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK