Updated: July 05, 2026, 11:51 AM IST
| Mumbai
حقیقت یہ ہے کہ ذمہ دار والدین ہی سوچ پاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کن کارآمد مشاغل میں مصروف رکھیں۔ وہ نہ صرف یہ سجھاتے ہیں کہ اُنہیں کیا کرنا چاہئے بلکہ اپنے کاموں میں سے وقت نکال کر وقفے وقفے سے اُن کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتے ہیں تاکہ علم رہے کہ وہ وہی کررہے ہیں جس کی اُنہیں تلقین کی گئی ہے۔
بارش تیز ہو تو اسکولوں کو چھٹی دے دی جاتی ہے۔ یا تو وقت سے پہلے طلبہ کو گھر جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے یا ایک دن پہلے اعلان کردیا جاتا ہے کہ کل اسکول بند رہے گا۔ اس کے نتیجے میں بچے یا تو جلدی گھر آجاتے ہیں یا گھر ہی پر رہتے ہیں۔ والدین سے یہ اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنا کام کاج چھوڑ کر گھر میں اسکول کی سرگرمیاں جاری کردیں، بچے کتاب کاپی لے کر بیٹھیں اور والدین اُنہیں پڑھائیں۔ ایسا ہو سکتا ہے مگر ہوتا نہیں ہے۔ جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ والدین اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں اور عموماً بچے خود طے کرتے ہیں کہ اُنہیں کیا کرنا ہے۔ زیادہ تر کو بہترین شغل کے طور پر موبائل دکھائی دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ذمہ دار والدین ہی سوچ پاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کن کارآمد مشاغل میں مصروف رکھیں۔ وہ نہ صرف یہ سجھاتے ہیں کہ اُنہیں کیا کرنا چاہئے بلکہ اپنے کاموں میں سے وقت نکال کر وقفے وقفے سے اُن کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتے ہیں تاکہ علم رہے کہ وہ وہی کررہے ہیں جس کی اُنہیں تلقین کی گئی ہے۔ اُمورِ اطفال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچے جتنا زیادہ والدین کے ساتھ رہیں اور والدین جتنا زیادہ اُنہیں تعمیری کاموں میں مصروف رکھیں، اُن کی ذہنی و نفسیاتی صحت کیلئے اُتنا اچھا ہے۔ اس سے والدین اور بچوں کا رشتہ بھی پہلو دار ہوتا ہے اور تقویت پاتا ہے۔ ایسا ہو تو اس بات کا زیادہ امکان رہتا ہے کہ پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد وہ والدین سے نہ تو تغافل کرینگے نہ ہی اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ نے کی غلطی۔ بچوں کے طرز عمل کا شکوہ کرنے والے والدین کو ماضی میں جھانک کر اپنے طرز عمل کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا اُنہوں نے بچوں کی اُتنی فکر کی تھی جتنی کی جانی چاہئے تھی اور اُن کی تربیت پرویسی توجہ دی تھی جیسی دینی چاہئے تھی؟
تسلیم کہ زمانہ بدلا ہے مگر زمانہ کب نہیں بدلا۔ فرق اتنا ہے کہ اس کے بدلنے کی رفتار تیز ہوگئی۔ تو کیا تربیت اتنی ناقص تھی کہ زمانے کی رفتار کے سامنے ہانپنے لگی؟ ہر معاملے میں زمانے کو دوش دینا عادت بن گئی ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔ زمانے کو دوش دینے والے والدین گویا یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اُن کی تربیت کمزور تھی۔ بہرکیف، جن کا وقت گزر گیا، گزر گیا، مگر اس وقت جن والدینکے بچے چھوٹے ہیں وہ اپنے اندر تربیت کی فکر پیدا کریں اور یاد رکھیں کہ تربیت کے بغیر تعلیم ایسی ہے جیسے سم کے بغیر موبائل۔ آپ بازار سے مہنگے سے مہنگا موبائل خریدتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے بچوں کو مہنگی سے مہنگی تعلیم دلواتے ہیں، مگر، جس طرح سم کارڈ کے بغیر موبائل بیکار ہے اسی طرح تربیت کے بغیر تعلیم ادھوری ہے۔
بچوں کی تربیت کیلئے روزانہ تھوڑی دیر، ہفتہ واری یا اتفاقی چھٹی کے دن چند گھنٹے اور موسم گرما جیسی طویل چھٹیوں میں چند سے زیادہ گھنٹے صرف کرنا اشد ضروری ہے۔ اگر بچوں کو عمدہ تربیت سے آراستہ کیا گیا تو وہ اس مسابقتی دور میں نکھری نکھری شخصیت لے کر میدانِ عمل میں پہنچیں گے اور یقینی کامیابی سے ہمکنار ہونگے۔ آپ دیکھئے کہ دیگر معاشروں میں لفظ Upbringingزیادہ سنائی دینے لگا ہے۔ اس کا معنی ہے کہ وہاں تربیت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ پھر ہم کیوں غافل رہیں ؟