Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’شہری انتظامیہ کی لاپروائیوں کے سبب ہر سال بارش میں شہری خطرات کیوں مول لیں‘‘

Updated: July 02, 2026, 11:35 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کھلےمین ہول کو بند کرنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو نظر انداز کرنے پر بی ایم سی پر برہمی کا اظہار کیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہر سال موسم باراں میں خراب سڑکوں اور کھلے مین ہول  سے شہریوں کے جانی و مالی نقصان کے خلاف توہین عدالت کے تحت داخل کردہ عرضداشت اور اس معاملہ میں بی ایم سی اور متعلقہ محکموں کی بے حسی پر ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے  شنوائی کا فیصلہ کیا تھا ۔ تاہم امسال بھی شہر میں کئی مقامات پر مین ہول   کھلے ہونے کی موصولہ اطلاع پر کورٹ نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ شہری ہر سال موسم باراں میں مین ہول   کھلے ہونے یا سڑک کے گڑھوں کے مسائل کے سبب تکالیف کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جان و مال کا نقصان   برداشت کرسکتے ہیں  اس لئے ان مسائل کا خاتمہ   لازمی ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں اب بھی لاکھوں گاڑی مالکان نے ایچ ایس آر پی نمبر پلیٹ نہیں لگائی

اس معاملہ میں ہونے والی سماعت کے دوران شہر اور مضافات اور اطراف میں موسم باراں کی آمد کے باوجود اب بھی کئی مین ہول   کھلے ہونے یا ان میں جالیاں نہ لگائے جانے کے علاوہ سڑکوں پرگڑھوں کی نشاندہی کی گئی ۔ اس پر بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمال کاتھا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آخر کب تک شہری بی ایم سی اور دیگر متعلقہ محکموں کی لاپروائیوں کے سبب اپنا جانی و مالی نقصان برداشت کریں گے۔ اب کھلے  مین ہول یا شہر میں گڑھوں کے سبب حادثات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔اب صرف اور صرف اس مسئلہ کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔‘‘ بی ایم سی کے جھوٹے دعوؤں اورمین ہول پر ڈھکن اور جالیاں لگائے جانے میں سنجیدگی نہ برتنے پر کورٹ نے کہا کہ ’’گزشتہ دو دہائیوں سے صرف یقین دہانی کرائی جارہی ہے ، اس کا مستقل حل نہیں نکالا جارہا ہے ۔‘‘

دوران سماعت ایک بار پھر ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن میںکھلے   مین ہول اور مانسون کی آمد کے باوجود شہر اور اطراف میں گڑھوں کی نشاندہی کی گئی ساتھ ہی سڑکوں کی دیکھ ریکھ کے ذمہ دار شہری اداروں، سرکاری ایجنسیوں اور ٹھیکیداروں کی مسلسل ناکامی کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں ۔عرضداشت گزار کے وکیل روجو ٹھاکر نے عدالت کو بتایا کہ’’ اگرچہ ہائی کورٹ نے ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے تمام شہری انتظامیہ کو خراب  اور مین ہول کے مسروقہ ڈھکن۱۲؍ گھنٹوں کے اندر تبدیل کرنے اوران پر  جالیاںلگانے کی ہدایت دی تھی، اس کے باوجود آج بھی ۳؍ ہزار سے زائد مین ہول بغیر ڈھکن یا   جالی کے  موجود ہیں ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جولائی کے پہلے ہی دن ممبئی میں موسلا دھار بارش، معمولات زندگی متاثر

  وکیل نےممبئی اور تھانے میں سڑکوں پرگڑھوں اوراس میں گرنے کے سبب ایک شخص کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے اہل خانہ کو اب تک ۶؍ لاکھ معاوضہ نہ دیئے جانے کی بھی اطلاع دی تھی ۔ اس پر شہری انتظامیہ نے مین ہول کے ڈھکن اور جالیاں لگانے کے ساتھ شہریوں کی حفاظت کے ہر ممکن اقدامات کی کوشش  کا حوالہ دیا تھا ۔ تاہم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بی ایم سی   یا تھانے کمشنر کے پاس سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کو معاوضہ دینے کا بھی وقت نہیں ہے تو پھر کس طرح شہریوں کی حفاظت کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔‘‘ کورٹ نے ایک ہفتہ کے درمیان متاثرین کو معاوضہ دینے کا حکم دیا اور مین ہول اور جالیاں نہ لگائے جانے پر کتنے ٹھیکیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ،اس  کی تفصیلات فراہم کرنے اور انہیں بند کرنے سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت   ۶؍ جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK