ترتیب واہتمام، ترتیب تدوین کا سلسلہ ،ادب کیلئے کتنا فائدہ مند؟

Updated: March 19, 2020, 3:43 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

’ترتیب و انتخاب‘ کو ادب میں شرف قبولیت بخشا جارہا ہے یا اسےمعیوب سمجھاجاتا ہے، یہ جاننے کیلئے ادباء و شعراء سے کی گئی گفتگو کے اقتباسات پیش ہیں

Book Shop - Pic : INN
کتابیں ۔ تصویر : آئی این این

 ادب کی تخلیق ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے ۔ ہر چند کہ اس میںکبھی جمود بھی آتا ہے اور یہ انحطاط کا شکار بھی ہو جاتا ہے لیکن تخلیق کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس طرح سے ادب  نئے تغیرات سے آشنا ہو تا رہتا ہے۔ ادب کی تغیر پذیری اور اس کے نئے زمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت ہمیشہ برقرار رہی ہے لیکن موجودہ دور میں یہ  عام مشاہدہ ہو گیا ہے کہ تن آسانی ، سستی شہرت اور بغیر محنت کے ملنے والے نام و نمود کی خواہش میں ادب کو بھی تختہ مشق بنالیا گیا ہے۔ پہلے ادب کی تخلیق کو طرۂ امتیاز سمجھا جاتا تھا ۔ تھوڑے تھوڑے عرصے میں مختلف اصناف کی کچھ بہترین کتابیں منظر عام پر آجاتی تھیں لیکن اب تخلیقات سے زیادہ ترتیب و انتخاب ، ترتیب و تدوین اور اہتمام و ترتیب کا سلسلہ چل نکلا ہے۔  یہ روش ہر چند کہ غلط نہیں ہے بلکہ کچھ معاملات میں اس کی  اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن تخلیق کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ۔ مگر ہمارے اہل ادب تخلیق پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے اب اس پر طریقے پر زیادہ دھیان دے رہے ہیںجو ادب کی صحت کے لئے سم قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے اپنے ادباء سے گفتگو کی اور جاننا چاہا کہ وہ ترتیب و انتخاب کو معیوب سمجھتے ہیں یا پھر ان کی نظر میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔پیش ہے گفتگو کے اقتباسات:
 سینئر ادیب و شاعر اور معروف ادبی مجلہ اسباق کے مدیر نذیر فتح پوری نے کہا کہ’’ تریب و انتخاب کا سلسلہ بھی ادب کا ہی حصہ ہے۔ ہر چند کہ اسے تخلیق نہیں کہا جاسکتا اور کچھ افراد کی تن آسانیوںکی وجہ سے یہ طریقہ بدنام ہو رہا ہے لیکن اس کی ادب میں ضرورت بہر حال موجود ہے۔‘‘ نذیر فتح پوری کے مطابق  ہماری  نئی نسل جو پی ایچ ڈی مکمل کرنے یا مقالات تحریر کرنے کا کام کررہی ہے اسےکتاب کی اشاعت کی ضرورت ہو تی ہے اور  تریب واہتمام والے سلسلےمیں کوئی چیز نئی تخلیق نہیں کرنی پڑتی ہے بلکہ پہلے سےموجود چیزوں میں سے انتخاب کرکے انہیں نئی صورت میں پیش کرنا ہو تا ہے اس لئے وہ اس جانب زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ نظیر صاحب کے مطابق بہر حال اس رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہئےبلکہ نئی نسل کو یہ سمجھایا جانا چاہئے کہ ادب کی اصل خدمت تخلیق میں ہے اس طرح کے شارٹ کٹ  طریقوں میں نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کا سلسلہ ایسے معاملات  میں کام آجاتا ہے جہاں پرکسی ادیب یا شاعر کی تخلیقات پر یا ان کے کسی پہلو پر اہل ادب کی نظر نہ پڑی ہو ۔ اس طریقے سے انتخاب شائع کرکے سامنے لایا جائے تو وہ گرانقدر اضافہ ہو گا لیکن ایسا نہ کیا جائے تومحض ترتیب و انتخاب کی تفسیر بن کر رہ جائے گا۔
 ممتاز شاعر و ادیب جاوید ندیم نے کہا کہ’’ترتیب و انتخاب کا سلسلہ تخلیقی عمل تو نہیں ہے لیکن ضروری ہے کیوں کہ جب تک کسی شاعر ، افسانہ نگار یا  ادیب کی تخلیقات کے مختلف گوشے ایک کتاب میں جمع نہ کئے جائیں تب تک عام طور پر یہی ہو تا آیا ہے کہ اس ادیب و شاعر کو نظر اندازکیا جاتا رہا ہے۔‘‘ جاوید ندیم  کے مطابق تریب و انتخاب میں اس  صنف پر مختلف آراء بھی شامل کی جاتی ہیں جس سے اس صنف کو دیکھنے کا نظریہ پیدا ہو تا ہے اور انتخاب کی اہمیت بھی واضح ہو تی ہے۔ اس سے تخلیق کا حسن نکھرتا ہے اور کئی اہم گوشے واضح ہوتے ہیں اس لئے اسے سرے سے رد کردینا مناسب نہیں ہے بلکہ محدود تعداد میں اس کی اجازت و قبولیت ہونی چاہئے۔ جاوید ندیم نے یہ بات بھی واضح کی کہ ماضی میں متعدد ادباءو شعراء کا اسی طرح انتخاب شائع ہوا جسے قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ مگر انہوںنے اس بات پر بہر حال اعتراض کیا کہ ترتیب و انتخاب کا کام واقعی ایمانداری سےہونا چاہئےورنہ اس سے ادب میں کوئی قابل قدر اضافہ نہیںہو تا ہے بلکہ یہ چاپلوسی کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
 معروف ادبی مجلہ تریاق کے مدیر میر صاحب حسن نے ترتیب و انتخاب  کے سلسلے کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ماضی میں بھلے ہی یہ طریقہ ادب میں اہم اضافہ کا سبب بنتا تھا لیکن فی الوقت یہ چاپلوسی اور خوشامد کا طریقہ بن گیا ہے۔ ساتھ ہی ادب پر شب خون مارنے والوں اور’ادب خوری‘ کرنے والوں کے لئے چور دروازے سے ادب میں داخلہ کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لئے ادبی تخلیق ہی مقدم ہے۔ اسے سمجھنے اور جاننے کے لئے جتنی بھی کوششیں کی جائیں وہ بھی مقدم ہیں لیکن تخلیق نہ کرکے بھی تخلیق کار بننے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی بہر حال نہیں کی جاسکتی۔ میر صاحب حسن کے مطابق ما ضی میں ترتیب و انتخاب  کے ذریعے بہت اچھا انتخاب بھی سامنے آیا ہے جس کےذریعے ہمیں نئی سمتوں میں سوچنے کا موقع ملا ہے لیکن اب جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ محض خوشامد ہے جس کی ہم کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے ہیں۔
 نئی نسل کے ممتاز افسانہ نگار طاہر انجم صدیقی کے مطابق ’’ترتیب و انتخاب کا سلسلہ ادب میں اضافہ تو نہیں کہا جاسکتا لیکن اسے ادبی صنف کو سمجھنے میں معاون ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر ہمارے لئے تخلیق بہر حال مقدم ہونی چاہئے کیوں کہ تمام انتخاب ، مضامین یا نئے زاوئیے تخلیق کو بنیاد بناکر ہی لکھے جاتے ہیں اس لئے تخلیق ہمیشہ باقی رہتی ہے جبکہ ترتیب و انتخاب کا مرحلہ بہت  بعدمیں آتا ہے۔‘‘ طاہر انجم کے مطابق ترتیب و تدوین یا ترتیب و انتخاب اس وقت تک قابل قبول ہوسکتے ہیں جب تک یہ کسی تخلیق کو سمجھنے میں معاونت کریں۔ اگر ان کا مقصد ادبی معاونت نہیں ہے تو یہ محض کتابوں کی تعداد میں اضافہ ہےجس کی ادب میںکوئی اہمیت نہیں ہے اور ایسی چیزوں کو اہمیت بھی نہیں دی جانی چاہئے۔
 معروف ڈراما نگار و معلم رفیق گلاب نے ترتیب و اہتمام  کے سلسلے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’’ میں ہمیشہ تخلیق کے حامیوں میں ملوںگا کیوں کہ تخلیق ہی  ادب کی بنیاد ہے۔ اگر تخلیق نہ ہو گی تو ترتیب و انتخاب کس پر کیا جائے گا ۔ گوشے یا نمبرس کن کے نکالے جائیں گے ۔اس لئے تخلیق کو اہمیت دی جانی ضروری ہے۔‘‘ رفیق گلاب کے مطابق  ادب کے فروغ کے لئے تخلیق  ضروری ہے کیوں کہ ترتیب و  انتخاب کو پڑھنے کے بعد بھی قاری کی بنیادی ضرورت وہ تخلیق ہی ہو گی جس کے بارے میں اس نے پڑھا ہے۔ رفیق گلاب نےمعروف شاعر حامد اقبال صدیقی کی جانب سےچلائے جارہےتخلیق کار کی تلاش کے سلسلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب کو تخلیق کاروں کی ضرورت ہے ترتیب و انتخاب کرنے والے یا اس طریقےسے ادب میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کرنے والوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK