کسان کب تک مرتا رہے گا؟

Updated: September 22, 2022, 2:06 PM IST | Mumbai

ملک کا کسان گزشتہ تین دہائیوں سے خود کشی کررہا ہے۔ نہ تو سابقہ حکومت نے اس کیلئے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل بنایا جو اُسے راحت پہنچا سکے نہ ہی گزشتہ آٹھ سال میں این ڈی اے کی موجودہ حکومت اُس کیلئے کچھ کرسکی۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 ملک کا کسان گزشتہ تین دہائیوں سے خود کشی کررہا ہے۔ نہ تو سابقہ حکومت نے اس کیلئے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل بنایا جو اُسے راحت پہنچا سکے نہ ہی گزشتہ آٹھ سال میں این ڈی اے کی موجودہ حکومت اُس کیلئے کچھ کرسکی۔ آخر الذکر کی قائد جماعت نے ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کے وقت بلند بانگ دعوے کئے تھے اور ایسے خواب دکھائے تھے کہ محسوس ہوتا تھا سب سے پہلے کسانوں کے اچھے دن آئینگے اور اُنہیں اُن تمام مسائل سے نجات مل جائیگی جن کے سبب زندگی مشکل اور موت آسان ہوگئی ہے مگر اُن دعوؤں اور خوابوں کا پورا ہونا تو دور کی بات، اُن کی پریشانی اس حد تک بڑھ گئی کہ وہ سڑکوں پر آگئے۔  ویسے تو ملک بھر میں کسانوں کی زندگی اجیرن ہے مگر سب سے زیادہ متاثر مہاراشٹر کے کسان اور مہاراشٹر میں سب سے زیادہ متاثر مراٹھواڑہ اور ودربھ کے کسان ہیں۔ گزشتہ دنوں پونے کا ایک کسان خود کشی پر مجبور ہوا۔ ہوسکتا ہے یہ اتفاق ہو مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا منصوبہ یہی رہا ہو کہ وزیر اعظم کی سالگرہ کے دن خود کشی کرے۔ وہ اپنے پیچھے ایک تحریر چھوڑ گیا جس میں لکھا تھا کہ کسانوں کو ’’اقل ترین قیمت ِ تعاون‘‘ (منیمم سپورٹ پرائس) دی جائے۔ اس ستم ظریفی کو ملاحظہ کیجئے کہ مرنے والا اقل ترین قیمت کا مطالبہ اس دردناک حقیقت سے واقفیت کے باوجود کررہا ہے کہ اُس کا مطالبہ پورا ہوا بھی تو متوقع راحت پانے کیلئے وہ اِس دُنیا میں نہیں رہے گا۔ یہ جذبہ دردِ مشترک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مرنے والا بہتر دن کی تمنا میں مزید جینے کا حوصلہ نہیں کرپارہا تھا اس لئے جاتے جاتے دیگر کسانوں کیلئے اپنی سی کوشش کرگیا تاکہ وہ خود کشی جیسے انتہائی قدم پر مجبور نہ ہوں۔ کیا اُس کا سوسائڈ نوٹ وزیر اعظم تک پہنچا؟ کیا اس کی خبر پہنچی؟ سوسائڈ نوٹ نہ پہنچا ہو تب بھی خبر تو پہنچ چکی ہوگی مگر کئی دن گزر جانے کے باوجود مرکزی یا ریاستی حکومت نے کسانوں کے حق میں کوئی یقین دہانی نہیں کی ہے۔ کیا کسانوں کے مسائل و مصائب سیاسی جماعتوں بالخصوص حکومت ِ وقت کو فکرمند نہیں کرتے؟  ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ کیا حکومت کا فکرمند نہ ہونا منصوبہ بند ہے کہ کسان تنگ آکر روایتی طریقۂ زراعت کو ترک کردے اور نامیاتی طریقۂ زراعت اپنا لے؟ ہم نہیں جانتے مگر اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ نامیاتی طریقۂ زراعت اتنا آسان نہیں ہے۔ جن ملکوں نے اسے اپنایا اُن کی غذائی ضرورتیں اتنی نہیں ہیں جتنی کہ ہمارے ملک کی ہیں۔ یہ ایک بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نامیاتی طریقۂ زراعت مہنگا ہے اور غریب کسان اس کی طاقت نہیں رکھتا۔اگر ہمارا شبہ درست ہے اور حکومت نامیاتی طریقۂ زراعت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اس کیلئے دس پندرہ سال کا وقت طے کرنا چاہئے تاکہ ایک طریقے سے دوسرے طریقے پر جانا آسان ہو اور اس دوران حکومت کی پشت پناہی کسانوں کو حاصل رہے، اُن کا قرض ادا ہوجائے اور وہ اپنی فصلوں کی مکمل فروخت نیز قیمت ِ فروخت کے تعلق سے مطمئن رہیں۔ اس سے پہلے نامیاتی طریقے پر اصرار کسانوں پر زیادتی ہوگی۔ کسانوں کی مشکلات کا ایک سبب قرض ادا نہ ہونا ہے جس کے اپنے اسباب ہیں۔ ان میں کوئی سبب ایسا نہیں جس سے ارباب اقتدار واقف نہ ہوں۔ مسائل کو سمجھنے کیلئے کمیٹیاں بن چکی ہیں ، ان کی سفارشات سامنے ہیں۔ اب کسی نئی کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے، پرانی کمیٹیوں کی سفارشات کو سامنے رکھ کر اُن پر غوروخوض کیا جائے اور اُن کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے تو خود کشی کی وارداتوں کو روکا جاسکتا ہے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK