آسام میں جو تجربہ ناکام ہوگیا، اسے بہ اندازِ دیگر پورے ملک میں نافذ کیا جارہا ہے۔ اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ آسام میں کیا ہوا تھا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 5:32 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
آسام میں جو تجربہ ناکام ہوگیا، اسے بہ اندازِ دیگر پورے ملک میں نافذ کیا جارہا ہے۔ اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ آسام میں کیا ہوا تھا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔
جن ملکوں میں نراج ہو یعنی قانون کی بالادستی ختم ہوچکی ہو، اُن کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہاں من مانی اور دھاندلی کے خلاف کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ قرون وسطیٰ کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا ہمارے یہاں کئی جگہوں پر ہوتا رہا ہے۔ سفاکی کو طریقۂ عمل سمجھا جاتا ہے جس کے سبب لاکھوں لوگوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایس آئی آر کے فارم پورے ملک میں تقسیم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک صفحے کا فارم ہے۔ اس کا سرسری جائزہ لیجئے تو آپ بھی یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ اس سے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعہ کیا مقصد حاصل کرنا ہے یعنی اس میں ہمیں کیا کرنا ہے۔
حکومت اور عدلیہ کا خیال ہے کہ ایس آئی آر مناسب بھی ہے اور ضروری بھی۔ اس سے قبل بھی ایسا ہوچکا ہے۔ ۱۹۹۸ء میں آسام کے گورنر ایس کے سنہا نے، جو ایک سبکدوش فوجی تھے، اُس وقت کے صدر جمہوریہ کے آر نارائنن کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا جس میں درج تھا کہ ’’مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش سے ترک وطن کرکے غیر قانونی طور پر آنے والوں کے سبب آسام کا آبادیاتی ڈھانچہ بُری طرح متاثر ہے۔ نہ صرف یہ کہ آسامی عوام کی شناخت کو بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرہ ہے۔ مرکز اور ریاست میں یکے بعد دیگرے کئی حکومتیں بنیں مگر اس مسئلہ کا حل نہیں نکالا جاسکا۔ ‘‘
مذکورہ مکتوب میں ایس کے سنہا نے صدر جمہوریہ سے التجا کی تھی کہ اگر اس خطرہ سے ترجیحی بنیاد پر نمٹا نہیں گیا، جو کئی دہائیوں سے تسلسل کےساتھ بڑھ رہا ہے تو بنگلہ دیشی تارکین وطن کی آبادی آسام کے لوگوں کی آبادی سے سوا ہوجائیگی اور پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک کا یہ شمالی مشرقی حصہ ہندوستان سے الگ ہونے کی بات کرے۔ اس سے نہایت خطرناک معاشی اور اسٹراٹیجک صورتحال پیدا ہوگی۔ اپنے مکتوب میں سنہا نے اس اعتراف کے ساتھ کہ اُن کے سامنے کوئی ڈیٹا نہیں ہے، یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس بدقسمتی سے مردم شماری کی کوئی رپورٹ نہیں ہے جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ سرحد پار سے آنے کے رجحان کی وضاحت ہو اس لئے ہمیں اندازے کی بنیاد پراس رجحان کو سمجھنا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ اُس وقت کے گورنر ایس کے سنہا کے پاس اپنے دعوے کی کوئی دلیل نہیں تھی پھر بھی انہوں نے اس مسئلہ سے صدر جمہوریہ کو آگاہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔
۲۰۰۵ء میں سبرانند سونووال نے، جو بعد میں آسام کی بی جے پی حکومت کے وزیر اعلیٰ بنے، سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاکہ جن لوگوں پر غیر ملکی ہونے کا شبہ ہے اُن کے خلاف قوانین کو زیادہ سخت بنایا جائے۔ سپریم کورٹ نے سبرانند سونووال کو سننے کے بعد ایس کے سنہا کے اُس مکتوب کو پیش نظر رکھا جو اندازے کی بنیاد پر یعنی کسی ڈیٹا کے بغیر لکھا گیا تھا اور یہ مانا کہ آسام کو ’’بیرونی جارحیت‘‘ کا سامنا ہے جو ملک کی سالمیت کیلئے باعث ِپریشانی بن سکتا ہے۔
عدالت کا یہ نتیجہ نکالنا اس بات کا غماز تھا کہ ملک کے مسلمانوں کے تعلق سے متعصبانہ طرز فکر کے حامل افراد سے عدلیہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ بعد ازاں عدلیہ نے (شہریت کے) شواہد فراہم کرنے کی ذمہ داری آسام کے شہریوں ہی پر ڈال دی جس کے بارے میں اس کالم میں پہلے بھی لکھا جاچکا اور قارئین کو بتایا جاچکا ہے کہ کس طرح ثبوت پیش کرنا شہریوں کا فرض بن چکا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ حکومت کسی غلطی، خطا، قصور اور غیر قانونی عمل کے خلاف ثبوت پیش کرے اور ثبوت کی بنیاد پر خاطی کو عدالت سے سزا دِلوائے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’کوئی شہری تب تک بے گناہ ہے جب تک اس کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوجاتا۔ ‘‘ مگر آسام میں یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری شہریوں کے سر ڈالی گئی کہ وہ آسامی ہونے اور غیر ملکی نہ ہونے کے دستاویزی شواہد دیں (اور جو لوگ ۱۹۷۱ء کے بعد پیدا ہوئے اُنہیں یہ ثابت کرنا تھا کہ اُن کے والدین اور دادا دادی غیر ملکی نہیں تھے)۔ اس طرح (حکومت اور عدلیہ کی نگاہ میں بھی) جب تک وہ خود کو بے گناہ ثابت نہ کریں تب تک خاطی تھے۔
ایسے ملک میں جہاں اکثریت غریب اور ناخواندہ افراد کی ہو، جہاں دستاویزات کا نظام کمزور ہو، ایسی ریاست میں جہاں سیلاب خلافِ معمول واقعہ نہ ہو اور املاک کا مکمل نقصان عام ہو، وہاں اتنے اہم معاملے میں شہریوں ہی سے ثبوت کی فراہمی کا تقاضا سراسر ظلم تھا۔ اس ضمن میں حکومت نے کوئی تحفظاتی انتظام بھی نہیں کیا گیا تھا۔
غیر ملکیوں سے متعلق ٹریبونلز (فارینرس ٹریبونل) کو یہ طے کرنا تھا کہ کسی شخص کو رہا کیا جائے یا جیل بھیجا جائے۔ ان ٹریبونلس میں ایسے افراد مامور کئے گئے جنہیں صرف چار دن کی تربیت دی گئی تھی۔ یہ وکلاء اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین تھے جن کی تقرری دو سالہ معاہدوں کی بنیاد پر کی گئی۔ انہی لوگوں کے سامنے متاثرہ افراد کو اپنا مقدمہ پیش کرنا پڑتا تھا۔ بی جے پی کی زیر قیادت آسام حکومت نے ٹربیونل کے عملے پر یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ ان سے کیا توقع رکھتی ہے؛ اس کا اظہار اس اقدام سے ہوا کہ حکومت نے ٹریبونل کے عملے کے ایسے لوگوں کا معاہدہ رینیو نہیں کیاجن کی جانب سے لوگو ں کو ’’غیر ملکی‘‘ قرار دینے کی شرح کم تھی۔ اس بات کا انکشاف ایک حلف نامے سے ہوا جو حکومت نے خود گوہاٹی ہائی کورٹ میں جمع کرایا تھا؛ یہ حلف نامہ اس وقت جمع کرایا گیا جب ٹربیونل کے کچھ افراد نے عدالت سے رجوع کرتے وقت یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے۔ حکومت نے فارغ کئے گئے لوگوں کو غلط قرار دیتےہوئے دعویٰ کیا کہ ٹربیونل کے تمام ارکان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ۲۰۱۷ء میں حکومت نے ایک نوٹ جمع کرایا جس میں متعلقہ افراد کے ناموں کے ساتھ ساتھ ایسا کالم بھی تھا جس میں غیر ملکی قرار دیے جانے والوں کا تناسب درج تھا۔ جن لوگوں نے ۱۰؍ فیصد سے کم شہریوں کو غیر ملکی بتایا تھا ان کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دے کر انہیں برخاست کردیا گیا۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ اُس وقت ٹریبونل بھیجے گئے شہریوں کی تعداد ۱۹؍ لاکھ تھی جن میں اکثریت ہندوؤں کی تھی مسلمانوں کی نہیں جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ’’گھس پیٹھئے‘‘ کا الزام بے بنیاد ہے۔ آسام میں یہ تجربہ فیل ہوجانے کے بعد اب اسے پورے ملک میں نافذ کیا جارہا ہے یہ الگ بات کہ اب اس کا نام ایس آئی آر ہے۔