شادی، طلاق، وراثت ، گود لینےاور خاندانی معاملات تمام شہریوں کیلئے یکساں قانون ، قبائلیوں کو مستثنیٰ رکھاگیا۔
ہیمنت بسوا شرما نے یو سی سی کی منظوری کو تاریخی مرحلہ قرار دیا ہے-تصویر:آئی این این
آسام اسمبلی نےاپوزیشن کی شدید مخالفت کے درمیان ’یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) آسام بل۲۶ء‘ منظور کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آسام شمال مشرق کی پہلی اور ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے، جہاں یونیفارم سول کوڈ پاس ہوا ہے۔گورنر کے دستخط کے بعدیہ نافذ ہو جائے گا۔اس کے تحت اب شادی، طلاق، وراثت ،خاندانی امور اور گود لینے کے معاملات سے متعلق قوانین تمام شہریوں کیلئے یکساں ہوں گے۔ یعنی مختلف مذاہب کیلئے الگ الگ پرسنل لاء کی جگہ ایک مشترکہ قانون نافذ ہوگا۔
بہرحال ملک کے اکثریتی فرقہ کیلئے موجود عائلی قوانین کو ہی کم وبیش یو سی سی کی شکل دے دی گئی ہے۔اس کے تحت کثرت ازدواج ممنوع ہے جبکہ لیو اِن ریلیشن کیلئے رجسٹریشن لازمی ہوگا۔اس کے ساتھ ہی لڑکیوں کا ورارث میں برابر کا حصہ ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد تمام شہریوں کو یکساں حقوق دینا اور قانونی نظام کو آسان بنانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اور بعض تنظیموں نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مذہبی اور ثقافتی روایات متاثر ہو سکتی ہیں۔ آسام سے پہلے اتراکھنڈ اور گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پاس ہوچکاہے۔ گو وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی سے ’یونیفارم سول کوڈ کی منظوری کو کو ریاست کیلئے تاریخی قدم قرار دیا ہے۔
ایندھن کا بحران ، ایئر انڈیا نے اپنی ۸۰۰؍ پروازیں کم کردیں
ٹاٹا گروپ کی ایئرلائن ’ایئر انڈیا ‘ ہر ہفتے تقریباً۸۰۰؍ گھریلو پروازوں میں کمی کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی جون سے اگست۲۶ء کے درمیان نافذ رہے گی۔ کمپنی نے یہ فیصلہ جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کیاہے۔ دوسری جانب ایک نیوز رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیگو بھی اپنی گھریلو پروازوں میں۵؍ سے ۷؍ فیصد تک کمی کر سکتی ہے۔ ایئر انڈیا اس وقت ہر ہفتے تقریباً۴۴۰۰؍ پروازیں چلا رہی ہے، جن میں تقریباً۳۶۰۰؍ گھریلو اور۸۰۰؍ بین الاقوامی ہیں۔ کمپنی نے گھریلو پروازوں میں۲۲؍فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور آپریٹنگ حالات پر گہری نظر رکھے گی۔ جیسے ہی حالات نارمل اور مستحکم ہوں گے، پروازوں کی تعداد دوبارہ بحال کرنے پر غور کیا جائے گا۔پروازوں میں کمی کی سب سے بڑی وجہ۲۸؍ فروری کو ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے، جس کی وجہ سے طیاروں کے ایندھن ’’جیٹ فیول ‘‘کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔