آسام کے ضلع گولپارہ کے ایک اسکول میں جماعت ۹؍ کے پانچ مسلم طلبہ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے لنچ کے ڈبوں میں گائے کا گوشت (بیف) لایا اور مبینہ طور پر دو ہندو ہم جماعتوں کو اسے کھانے پر مجبور کیا۔
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 6:02 PM IST | Dispur
آسام کے ضلع گولپارہ کے ایک اسکول میں جماعت ۹؍ کے پانچ مسلم طلبہ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے لنچ کے ڈبوں میں گائے کا گوشت (بیف) لایا اور مبینہ طور پر دو ہندو ہم جماعتوں کو اسے کھانے پر مجبور کیا۔
آسام کے ضلع گولپارہ کے علاقے کشنائی میں واقع ہبرگھاٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جب جماعت ۹؍ کے پانچ مسلم طلبہ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے لنچ کے ڈبوں میں گائے کا گوشت (بیف) لایا اور مبینہ طور پر دو ہندو ہم جماعتوں کو اسے کھانے پر مجبور کیا۔ یہ واقعہ۵؍ جون کو پیش آیا۔ دو ہندو طلبہ کے والدین کی شکایت کے بعد کرشنا ئی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ ایک اہم پیش رفت میں ملزم طالب علم سُمت عالم کی والدہ نور شہیدہ بیگم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے یہ گوشت کا سالن تیار کر کے اس کے ٹفن میں رکھا۔ ایک مسلم طالب علم کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ دیگر طلبہ سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ان پر مجرمانہ سازش، غیر قانونی طور پر روکنے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سمیت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: اونتی پورہ میں کسانوں کے احتجاج میں پی ڈی پی اراکین بھی شامل
پانچوں طلبہ کو اسکول مینجمنٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی (SDMC) کی منگل کو ہونے والی میٹنگ کے بعد اسکول سے نکالے جانے کا امکان ہے۔ گولپارہ کے ڈسٹرکٹ کمشنر پردیپ تیمونگ نے محکمہ تعلیم کے انسپکٹر کو ہدایت دی ہے کہ اسکول کے ٹفن میں گوشت اور مچھلی پر سخت پابندی نافذ کی جائے اور صرف سبزی خور غذا اور انڈوں کی اجازت دی جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔ ابتدائی طور پر اسکول انتظامیہ، بشمول ہیڈماسٹر، پر الزام تھا کہ انہوں نے معاملہ دبانے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے اور احتجاج کا باعث بنا ہے، اور مقامی لوگ ملوث طلبہ اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں غذائی عادات اور مذہبی جذبات سے جڑے حساس معاملات کو اجاگر کر دیا ہے۔