Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام: پہلی بار تجارتی سطح پر ماچا چائے کی پیداوار، جاپان کی اجارہ داری کو چیلنج

Updated: July 04, 2026, 10:03 PM IST | Guwahati

ہندوستان میں ماچا (Matcha) چائے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان آسام نے پہلی مرتبہ تجارتی سطح پر ماچا کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ تینسوکیا کے چھوٹا ٹنگرائی ٹی اسٹیٹ نے اپنی پہلی کھیپ گوہاٹی ٹی آکشن سینٹر میں فروخت کر کے اس شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ جاپانی ماہرین کے تعاون سے تیار کیے گئے اس منصوبے کو آسام کی چائے کی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو عالمی ماچا مارکیٹ میں ہندوستان کی موجودگی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہندوستان میں ماچا چائے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان آسام نے پہلی مرتبہ تجارتی سطح پر ماچا چائے کی پیداوار شروع کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی ملک نے اس شعبے میں جاپان کی روایتی برتری کو چیلنج کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ آسام کے ضلع تینسوکیا میں واقع چھوٹا ٹنگرائی ٹی اسٹیٹ نے اپنی پہلی تجارتی کھیپ جمعہ ۳؍ جولائی کو گوہاٹی ٹی آکشن سینٹر میں پیش کی، جہاں اسے نمایاں توجہ حاصل ہوئی۔ پہلی کھیپ ۲۷؍ جون کو گوہاٹی ٹی آکشن سینٹر پہنچی، جہاں جے تھامس اینڈ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے لاٹ نمبر ۷۰۰۱؍ تین ہزار روپے میں فروخت کیا گیا۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اس پیش رفت کو ریاست کی چائے کی صنعت کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک نئی مصنوعات کا آغاز نہیں بلکہ آسام کی چائے کی عالمی شناخت کے ارتقا کی علامت بھی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ جاپان کے ساتھ زرعی مہارت اور تکنیکی تعاون کو بھی مزید مضبوط بناتا ہے۔ ماچا کی اس کامیابی کے پیچھے تقریباً ایک دہائی کی تیاری شامل ہے۔ چھوٹا ٹنگرائی ٹی اسٹیٹ نے جاپانی چائے کے ماہرین، زرعی ماہرین اور مشینری کے ماہرین کے ساتھ مل کر ماچا کی تیاری کے پیچیدہ اور معیاری طریقہ کار کو اپنایا۔ اسی تعاون کے نتیجے میں اسٹیٹ میں جاپانی طرز کا مکمل خودکار پروسیسنگ یونٹ قائم کیا گیا۔
ماچا دراصل جاپان سے تعلق رکھنے والی ایک خصوصی سبز چائے ہے، جسے باریک پاؤڈر کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے۔ عام چائے کے برعکس اس میں چائے کی پتیوں کو صرف اُبالا یا دم نہیں کیا جاتا بلکہ باریک پیس کر براہِ راست پانی میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے باعث اس کا ذائقہ زیادہ بھرپور، ہلکا مٹیالا اور قدرتی مٹھاس لیے ہوتا ہے۔ جاپان میں ماچا صدیوں سے روایتی چائے کی تقریبات کا اہم حصہ رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی مقبولیت پوری دنیا میں تیزی سے بڑھی ہے۔ آج ماچا مختلف مشروبات، میٹھے، بیکری مصنوعات اور صحت بخش غذاؤں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہماچل، گجرات، مدھیہ پردیش میں زبردست بارش

ماہرین کے مطابق ماچا اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، اسی لیے اسے اکثر ’’سپر فوڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ صحت سے متعلق اس کی شہرت اور عالمی طلب میں اضافے کے باعث روایتی پیداواری ممالک کئی مرتبہ طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں آسام کی جانب سے تجارتی سطح پر ماچا کی پیداوار عالمی خریداروں کے لیے ایک نیا متبادل فراہم کر سکتی ہے اور ہندوستان کی خصوصی چائے کی برآمدات کے لیے نئی منڈیاں کھولنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ای۲۰؍پیٹرول سے گاڑیاں خراب ہورہی ہیں: کیجریوال

دنیا بھر میں اپنی مضبوط اور خوش ذائقہ بلیک ٹی کے لیے معروف آسام اب پریمیم گرین ٹی کے شعبے میں بھی اپنی موجودگی درج کرا رہا ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد روایتی چائے کی صنعت کو جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرنا ہے، تاکہ آسام کی چائے عالمی منڈی میں مزید مستحکم مقام حاصل کر سکے۔ چھوٹا ٹنگرائی ٹی اسٹیٹ کی اس پیش رفت کو صرف ایک نئی چائے کی تیاری نہیں بلکہ آسام کی صدیوں پرانی چائے کی روایت میں ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں روایت اور جدیدیت ایک نئے انداز میں یکجا ہو رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK