واپس لینے کا مطالبہ، سابق رکن اسمبلی عطاء الرحمٰن مزاربھویہ نے خطاب کیا۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 9:43 AM IST | Guwahati
واپس لینے کا مطالبہ، سابق رکن اسمبلی عطاء الرحمٰن مزاربھویہ نے خطاب کیا۔
آسام کے ضلع کچھار کے بیرنگا میں جمعہ کو مسلمانوں نے حال ہی میں پاس کئے گئے یکساں سول کوڈ کی پرزو مخالفت کی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ یہ قانون غیر منصفانہ طور پر مسلم برادری کو نشانہ بناتا ہے۔
سابق رکن اسمبلی عطاء الرحمٰن مزاربھویہ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یو سی سی کو مذہبی آزادی اور آسام کی ثقافتی تنوع پر حملہ قرار دیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران مزاربھویہ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کو امتیازی انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کا خاص ہدف اسلام اور مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون اس غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ مسلم پرسنل لا خواتین کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہے۔ انہوں نے درج فہرست قبائل (شیڈولڈ ٹرائب) کو دی گئی چھوٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کچھ برادریوں کو استثنیٰ حاصل ہے تو پھر مساوات کہاں رہ جاتی ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: میناکشی نٹراجن معاملے پر کانگریس کادہلی میں زبردست احتجاج
سابق رکن اسمبلی نے تعدد ازدواج کے مسئلے پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی برادریوں میں ایک سے زیادہ شادیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے، جبکہ مسلمانوں میں تعدد ازدواج کی ہندوؤں سے بھی کم ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے’’انڈین سوشل سوسائٹی‘‘ نامی ایک تنظیم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔زاربھویہ نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں مسلم برادری کی نمایاں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے آئین ہند کے آرٹیکل۲۵؍ کا حوالہ بھی دیا۔