Inquilab Logo

بی جے پی کے ساتھ ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کا رشتہ کتنا مستحکم؟

Updated: June 16, 2024, 3:12 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

موقع پرستی کے معاملے میں تینوں ہی پارٹیاں اپنی مثال آپ ہیں،اسلئے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کسے کب موقع ملتا ہے اورکون سی پارٹی اس کافائدہ کس طرح اٹھاتی ہے؟

Regarding the NDA government, nothing can be said about how long it will last because no one is credible in it. Photo: INN
این ڈی اے حکومت کے تعلق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کب تک چلے گی کیونکہ اس میں کوئی بھی قابل اعتبار نہیں ہے؟۔ تصویر : آئی این این

ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کا بی جےپی سے رشتہ محبت کا نہیں، مجبور ی کا ہے، اسلئے اس کے استحکام کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ان جماعتوں کے نظریات باہم میل نہیں کھاتے، اسلئے یہ حکومت بہت دنوں تک نہیں چل سکتی۔ بات یہاں نظریات کی ہے ہی نہیں، بات صرف اقتدار و اختیار کی ہے۔ چلے تو یہ حکومت پانچ سال تک بھی چل سکتی ہے اور نہ چلے تو عدم اعتماد کی تحریک کے دوران بھی گرسکتی ہے۔ چونکہ ان تینوں ہی جماعتوں کے درمیان سمجھوتے کی بنیاد صرف اقتدارو اختیار ہے، اسلئے کہا جاسکتا ہے کہ جب تک کسی کے مفادپر کوئی آنچ نہ آئے، اتحاد جاری رہ سکتا ہے اور حکومت قائم رہ سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس سوال کا جواب دو اور دو چار کی طرح آسان نہیں ہے۔ اس کا حتمی جواب پانے کیلئے اس اتحاد میں شامل تینوں بڑی جماعتوں بی جے پی، ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کی فطرت کو سمجھنا ہوگا۔ چونکہ موقع پرستی کے معاملے میں یہ تینوں ہی جماعتیں اپنی مثال آپ ہیں، اسلئے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کسے کب موقع ملتا ہے اور کون پارٹی اس کا فائدہ کس طرح اٹھاتی ہے؟
  بی جےپی کے تعلق سے یہ بات مشہور ہے کہ وہ جس پارٹی کےساتھ بھی اتحاد کرتی ہے اور جس کی مدد سے وہ کسی ریاست میں اقتدار تک پہنچتی ہے، سب سے پہلے اسی کا قافیہ تنگ کرتی ہے اور اس کو نگلنے کی کوشش کرتی ہے۔ پنجاب میں شرومنی اکالی دل، جموں کشمیر میں پی ڈی پی، اترپردیش میں بی ایس پی، مہاراشٹر میں شیوسینا، ہریانہ میں جے جے پی، تمل ناڈو میں آل انڈیا ڈی ایم کے اور آسام میں اے جی پی جیسی جماعتیں اس کی بہترین مثال ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بھی ہیں جو یا تو ختم ہوچکی ہیں یا ختم ہونے کی دہلیز پر ہیں۔ جیسے بہار میں چراغ پاسوان کے چاچا پشو پتی پارس کی راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی، اوپیندر کشواہا کی راشٹریہ لوک مورچہ، تمل ناڈو میں جی کے واسن کی تمل منیلا کانگریس، مہاراشٹر میں اجیت پوار کی این سی پی اور ہریانہ میں گوپال کانڈ ا کی لوک ہت پارٹی۔ اسی طرح بی جے پی نے اُن پارٹیوں کو بھی نہیں بخشا جن کی مدد سے اکثر بحران کے دور میں اس کی کشتی پار لگتی رہی ہے۔ ان میں ادیشہ کی بی جے ڈی، تلنگانہ کی بی آر ایس، آندھرا پردیش کی وائی ایس آر اور دہلی کی عام آدمی پارٹی کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں وہ جماعتیں جنہیں جلد یا بدیر اس بات کا احساس ہوا، انہوں نے بی جے پی اتحاد سے ناطہ توڑ کراپنے وجود کوسمیٹنے اور سنبھلنے کی کوشش کی اور کچھ حد تک کامیاب بھی رہیں۔ جس پارٹی کو جتنی جلدی احساس ہوا، اسے اتنی ہی کامیابی ملی۔ ان میں تمل ناڈو کی ڈی ایم کے، مغربی بنگال کی ٹی ایم سی اور مہاراشٹرکی شیوسینا جیسی جماعتوں کا نام لیا جاسکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حکومت بھلے ہی بن گئی لیکن عوامی فیصلہ مودی سرکار کیخلاف ہی رہا

چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی اور نتیش کمار کی جے ڈی یو کا شمار بھی انہیں پارٹیوں میں ہوتا ہےجنہیں وقتاً فوقتاً بی جے پی نے نگلنے کی کوشش کی لیکن چونکہ موقع پرستی کے معاملے میں یہ بی جے پی کی ہمسر ہیں، اسلئے اپنا وجود بچائے رکھنے میں فی الحال کامیاب ہیں۔ اب یہ اتفاق ہی ہے کہ تینوں پارٹیاں ’متحد‘ ہوکر ’مستحکم‘ حکومت دینے کا دعویٰ کررہی ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ تینوں ہی سیاسی بساط پر شطرنجی چالیں چلنے کیلئے مواقع کاانتظار کررہی ہیں۔ ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ موقع ملتے ہی بی جے پی ان کی پارٹی کو ایل جے پی، شیو سینا اور این سی پی کی طرح دو تین حصوں میں تقسیم کردے گی لیکن اس احساس کے باوجود وہ بی جےپی سے الگ ہونے کی ہمت نہیں جٹا پارہی ہیں۔ وہ بھلے ہی اس خدشے سے بچنے کیلئے اسپیکر کاعہدہ اپنے لئے مانگ رہی ہوں لیکن اس مانگ میں بھی وہ شدت نہیں ہے جو ہونی چاہئے۔ مختلف وجوہات کی بناپر وہ اپنے مطالبے میں شدت لا بھی نہیں سکتیں، یہ بات بی جے پی بھی جانتی ہے۔ 
 اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۶؍ اراکین والی ٹی ڈی پی اور ۱۲؍ اراکین والی جے ڈی یو کو ایک دوسرے پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔ دونوں ہی پارٹیاں جانتی ہیں کہ کسی ایک پارٹی کے باہر نکلنے سے۲۹۳؍ رکنی این ڈی اے کے ’استحکام‘ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اسلئے دونوں میں سے کوئی بھی پہل کرنے کی ہمت نہیں کرپارہی ہیں حالانکہ دونوں ہی بی جے پی کی حکومت سے خائف ہیں۔ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ جس نے بھی پہل کی، وہ بی جے پی کے عتاب یا یوں کہیں کہ ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسی تفتیشی ایجنسیوں کی زد سے بچ نہیں سکیں گی۔ 
 نتیش کمار پربھلے ہی ابھی تک کوئی ’داغ‘ نہ لگا ہو اور ان کی شبیہ ایک’وِکاس پروش‘کی ہو لیکن وہ جانتے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت سے ناطہ توڑتے ہی مظفر پور شیلٹرہوم، منریگا میں بے ضابطگی، بھاگل پور سِرجن گھوٹالہ اور شراب پر پابندی جیسےمتعدد معاملات ’اُبھر‘ سکتے ہیں اور ہیمنت سورین اور اروندکیجریوال جیسے وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اعظم خان کی مثال ان کے سامنے ہوگی جنہیں بکری چوری اورکتاب چوری جیسے ۱۰۰؍ سے زائدمقدمات میں ماخوذ کردیا گیا ہے۔ 
 رہی بات چندرا بابو نائیڈو کی تو وہ بھی جانتے ہیں کہ ضمانت پر رہائی کا پروانہ کب منسوخ ہوجائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ بی جے پی کے ساتھ اتنے دنوں تک رہنے کے بعد انہیں اس با ت کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے کہ ۱۹۹۶ء میں ہونے والی انکم ٹیکس کی بے ضابطگی کا حوالہ دے کر اگر کانگریس جیسی بڑی پارٹی کا اکاؤنٹ منجمد کیا جاسکتا ہے اور ۲۰۱۰ء کے ایک معاملے میں ارون دھتی رائے جیسی بین الاقوامی شہرت کی حامل اورعالمی ایوارڈ یافتہ مصنفہ کے خلاف ’یو اے پی اے‘ کی منظوری مل سکتی ہے تو ایک چھوٹی سی سیاسی پارٹی کے سربراہ کے خلاف کیاکچھ نہیں ہوسکتا جو ایک معمولی سے معاملے میں ۵۳؍ دنوں تک جیل میں رہ کر آیا ہے اور بہت مشکل سے ضمانت پر’آزاد ‘ ہے۔ 
موقع پرستی میں کون کتنا آگے؟
چندرا بابو نائیڈو: کانگریس سے ٹی ڈی پی تک
 ساتویں دہائی میں کانگریس کے ایک کارکن کے طور پر اپنا سیاسی سفر شروع کرنے والے این چندرا بابو نائیڈو ۱۹۷۸ء میں ۲۸؍ سال کی عمر میں اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے تھے اور اُس وقت کی کابینہ میں وزیر بھی بنا دیئے گئے تھے۔ وزیر رہتے ہوئے ان کا تعلق تیلگو سنیما کے سپر اسٹار این ٹی راما راؤ سے ہوا اور یہ تعلق رشتہ داری میں بدل گئی۔ نائیڈو، این ٹی کے داماد بن گئے۔ اس کے کچھ سال بعد ۱۹۸۳ء میں این ٹی راما راؤ فلم سے سیاست میں آئے اور آتے ہی ریاست پر چھاگئے۔ اُس الیکشن میں نائیڈو این ٹی راما راؤ کی پارٹی کے امیدوار سے الیکشن ہار گئے۔ اس کے بعد نائیڈو کانگریس چھوڑ کر اپنے خسر کی پارٹی ’ٹی ڈی پی‘ میں چلے گئے۔ دو بار وزیراعلیٰ رہنے کے بعد ۱۹۹۴ء میں این ٹی راما راؤ تیسری بار وزیراعلیٰ بنے لیکن بہت دنوں تک کرسی پر نہیں رہ پائے۔ ان کے داماد چندرا بابو نائیڈو نے بغاوت کرکے پارٹی پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد نائیڈو نے کئی بار بی جے پی کے ساتھ اتحا دکیا اور کئی بار اس سے ناطہ بھی توڑا۔ 
نتیش کمار: جنتادل سے جنتادل متحدہ تک
 جے پرکاش نارائن کے ایک شاگرد کے طورپر سیاست میں آنے والے نتیش کمارپہلی مرتبہ ۱۹۸۵ء میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ۱۹۸۹ء میں وی پی سنگھ ساتھ جنتادل کا حصہ بنے اورلوک سبھا پہنچے۔ ۱۹۹۴ء میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ جنتادل سے الگ ہوکرجنتادل (فرنانڈیز) تشکیل دی۔ کچھ ہی مہینوں بعد سمتا پارٹی بنائی اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا۔ ۱۹۹۸ء میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں مرکزی وزیر بنے۔ ۲۰۰۳ء میں شرد یادو کے ساتھ مل کر جنتادل متحدہ بنائی۔ ۲۰۰۵ء میں بی جے پی کی مدد سے بہار کے وزیراعلیٰ بنے۔ ۲۰۱۴ء میں بی جے پی نے نریندرمودی کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا تو نتیش کمار جو خود کو بھی این ڈی اے کی طرف سے وزیراعظم کاامیدوار سمجھتے تھے، اتحاد سے الگ ہوگئے۔ ۲۰۱۵ء میں لالو کی پارٹی سے اتحا د کیا اور ’آرایس ایس مکت بھارت‘ کا نعرہ دیا لیکن ۲۰۱۷ء میں پھر بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ ۲۰۲۲ء میں بی جے پی سے رشتہ توڑا لیکن دسمبر ۲۰۲۳ء میں پھر رشتہ ’استوار‘ کرلیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK