تکنالوجی میں چین کی ترقی کا سامنا کیسے ہو

Updated: June 30, 2020, 8:08 AM IST | Bharat Jhunjhunwala

چین سے جیتنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم تکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھیں اور چین سے درآمد کی جانے والی مصنوعات کو اپنے ملک میں سستے داموں تیار کرنے لگیں۔ ہماری کامیابی منحصر نہ ہوکر خود کفیل ہونے میں ہے۔

India and China - Pic : INN
انڈیا اور چین ۔ تصویر : آئی این این

یہ سوال کسی بھی اعتبار سے غیراہم نہیں ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں چین کی ترقی کا سامنا یا مقابلہ کیسے کریں؟کئی ہندوستانی کمپنیاں بالخصوص اولا جیسی اسٹارٹ اَپ کمپنیاں چینی سرمایہ کاری کے دوش پر سوار ہیں۔ یہ کمپنیاں جو منافع کما رہی ہیں وہ چین کے کھاتے میں جارہا ہے۔ ہم یقینی طور پر ان سرمایہ کاریوں کو روک سکتے ہیں لیکن اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ ایسے کسی اقدام کا جو نتیجہ ہوگا وہ ہمارے اعصاب پر منحصر ہوگا۔ چینی سرمایہ کاری ختم کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے اگروہ تکنالوجی ہم حاصل کرلیں یا خود ڈیولپ کریں جو اولا کی کامیابی کی کلید ہے۔ تب ہم اولا کو دیس نکالا دے سکیں گے۔ دوسری جانب، اگر ہم چینی تکنالوجی پر دائمی انحصار کرنے لگیں تو ہندوستانی معیشت بُری طرح متاثر ہوگی ۔ ہارورڈ ویونیورسٹی کے ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ ’’۲۰۰۲ء میں (چین کی) حکومت نے ایک کھلا نیلامی سلسلہ شروع کیا جو بجلی سازی کیلئے لگائے گئے پنکھوں (ٹربائن) کے پروجیکٹ کیلئے تھا۔ اس کا مقصد ان پنکھوں کی مقابلہ آرائی کو تقویت بخشنا تھا۔چین کی نوآموز مارکیٹ میں جلد ہی غیر ملکی درآمدات کی گویا سونامی آگئی۔ تب یہ لازم کیا گیا تھا کہ سرکاری انٹرپرائز اپنے حصے کا ۷۰؍ فیصد دیسی فرموں کو عطا کرے۔‘‘ چنانچہ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح اُن سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ 
 تجارت (ٹریڈ) کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اشیاء پر جو لاگت ہمیں آتی ہے وہ چین سے زیادہ ہے۔ ہم درآمد بند کرسکتے ہیں مگر کیسے؟ اگر مثال کے طور پر آٹو پارٹس درآمد نہ کریں تو آٹوموبائیل کی ہماری کمپنیوں کو وہی کل پرزے جو ہم چین سے منگواتے ہیں، دیسی مارکیٹ سے خریدنے پڑیں گے جہاں وہ کل پرزے مہنگے ملیں گے۔ اس کے نتیجے میں، ہندوستان میں کار کی قیمت بڑھے گی اور اس کا خمیازہ کار خریدنے والوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ایسی صورت میں ہم عالمی منڈی سے بھی باہر ہوجائینگے۔ لیکن، اگر ہم خود کو بہتر تکنالوجی سے آراستہ کریں اور کل پرزے اُتنی ہی کم لاگت سے بنائیں جتنی کم لاگت سے چین بناتا ہے تو ہماری فتح یقینی ہوگی۔ اس پس منظر میں سوال گھوم پھر کر وہیں آجاتا ہے کہ ہم چین کے ساتھ تجارت کریں یا نہ کریں۔ مگر یہ سوال ایک دوسرا سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ہم سامان سازی پر آنے والی لاگت کم کرسکے ہیں؟ ظاہر ہے کہ چین سے مقابلہ آرائی تو اُسی صورت میں ممکن ہوگی!
 درحقیقت ہمیں اُن مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے جو بہت سے اُمورمیں ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں ضرور چاہئے کہ ہم چین کی سرمایہ کاری کو اُس کے منہ پر مار دیں بالکل ویسے ہی جیسے بجلی کے پنکھوں کے سلسلے میں چین نے کیا تب ہماری وہ لاگت جو زیادہ آتی ہے، کم ہوجائیگی۔
 تکنالوجی کا جو چیلنج ہمارے سامنے ہے اُسے پورا کرنے کیلئے ہمیں دونوں ہی محاذوں پر متحرک ہونا پڑے گا۔ مالی محاذ پر بھی اور سیاسی محاذ پر بھی۔ وزارت مالیا ت نے جو معاشی سروے جاری کیا اس میں کہا گیا تھا کہ ہم ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر جی ڈی پی کا اعشاریہ ۷؍ فیصد ہی خرچ کرتے ہیں جبکہ کوریا اور اسرائیل ۴ء۶؍ فیصد اور چین ۲ء۱؍ فیصد خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم چین کی جی ڈی پی کا موازنہ ہندوستان کی جی ڈی پی سے کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ ہم سے ۵؍ گنا زیادہ ہے اور اس اعتبار سے ریسرچ اینڈڈیولپمنٹ پر خرچ ہونے والی رقم ہم سے ۱۵؍ گنا زیادہ ہے۔ ہماری سرمایہ کاری کم اس لئے ہے کہ حکومت کا خرچ بہت زیادہ ہے۔ ہم سرکاری ملازمین کو بھاری بھرکم تنخواہ دیتے ہیں۔ چین میں سرکاری ملازمین کو دی جانے والی تنخواہ اُن کی فی کس جی ڈی پی کا ۱ء۵؍ گنا ہے جبکہ ہم اپنی جی ڈی پی کا ۴ء۶؍ گنا دیتے ہیں۔
  میرا تجزیہ کہتا ہے کہ پانچویں پے کمیشن کے بعد سے ہماری حکومت کے پاس بہت کم پیسے باقی رہ جاتے ہیں جو تحقیق پر خرچ ہوسکیں یا دفاع پر۔ کیا مَیں یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہوں کہ ہمارے سرکاری ملازمین کی بھاری بھرکم تنخواہیں اُن رقومات کو چاٹ لیتی ہیں جو ممکنہ طور پر ملک کی خود مختاری پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں رہ جاتے کہ وہ تحقیق اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرسکے۔ مَیں یہ بات دل و جان سے تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری مسلح افواج کے سپاہی بڑی دیانت اور فعالیت کے ساتھ ملک کی خدمت کرتے ہیں مگر یہ اعتراف مجھے یہ کہنے سے نہیں روکتا کہ اُن کی تنخواہیں جی ڈی پی کا بڑا حصہ ہضم کرلیتی ہیں۔ 
 تکنالوجی کے میدان میں ہماری پسماندگی کا دوسرا سبب ہماری یونیورسٹیوں او ر تحقیقی اداروں کی فرسودگی اور خستہ حالی ہے۔ چند سال پہلے میں نے ایک یونیورسٹی پروفیسر سے دریافت کیا تھا کہ وہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد کیا کرتے ہیں؟ اُن کا کہنا تھا: ’’مجھے ۴۰؍ سال سے کام نہ کرنے کی عادت ہے۔ وقت ایسے ہی گزر جاتا ہے۔‘‘ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ امریکیوں کو تکنالوجی میں جو سبقت حاصل ہوئی وہ امریکی یونیورسٹیوں کی  مرہون منت ہے۔ چینی یونیورسٹیاں بھی یہی کردار ادا کررہی ہیں۔ ان کے برخلاف ہماری یونیورسٹیاں سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں تقسیم کرنے میں مشغول رہتی ہیں تاکہ طلبہ کو سرکاری ملازمتیں حاصل ہوں اور وہ بھی ’’کام نہ کرنے کے عادی‘‘ ہوجائیں۔
 ہندوستان کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت چین کی چالاکیوں اور مکاریوں کو کوسنے اور اس کے خلاف لعن طعن کرنے کا نہیں ہے۔ یہ جغرافیائی سیاست ہے جو چین کررہا ہے۔ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ حکومت کیلئے ضروری ہوگا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کرے اور ان کا کچھ حصہ بچا کر اسے تحقیق پر خرچ کرے۔ یہی نہیں حکومت کیلئے یہ بھی ضروری ہوگا کہ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی جوابدہی طے کی جائے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کتنا فائدہ ملک کو پہنچا رہے ہیں

china Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK